سات سالہ بچی کا ریپ کے بعد قتل ،پولیس نے ملزم باپ بیٹے کو گرفتار کر لیا ،شرمناک داستان پڑھ کر آپ کا بھی خون کھول اٹھے گا 

سات سالہ بچی کا ریپ کے بعد قتل ،پولیس نے ملزم باپ بیٹے کو گرفتار کر لیا ...
سات سالہ بچی کا ریپ کے بعد قتل ،پولیس نے ملزم باپ بیٹے کو گرفتار کر لیا ،شرمناک داستان پڑھ کر آپ کا بھی خون کھول اٹھے گا 

  

نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن )ہندوستان میں خواتین اور نابالغ بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے شرمناک واقعات میں خوفناک اضافے نے انڈین خواتین اور بچیوں کو خوف میں مبتلا کر رکھا ہے تاہم مودی حکومت کی جانب سے ان گھناؤنے واقعات کے سدباب کے لئے کوئی خاطر خواہ قدم نہیں اٹھایا گیا ،ہندوستان میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی ریپ کے بڑھتے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ،ایسے میں نئی دہلی میں سات سالہ بچی سے ریپ کے بعد اسے قتل کرنے کے الزام میں ایک 21سالہ لڑکے اور اس کے باپ کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے ،ریپ کی اس شرمناک اور انتہائی حیوانی واردات کی داستان سن کر آپ کی آنکھیں بھی نم ہو جائیں گی۔

مشہور بھارتی اخبار ’’ٹائمز آف انڈیا ‘‘ کے مطابق دو روز قبل دہلی کے علاقے نہال وہار کے مقامی پارک میں ایک سات سالہ بچی کی لاش ملی تھی جسے ریپ ک بعد قتل کیا گیا تھا،7سالہ معصوم بچی گھر سے چیز لینے ک لئے نکلی تھی جس کی لاش اگلے روز مقامی پارک میں کوڑے کے ڈھیر پر ملی تھی ۔پولیس کے مطابق جب معصوم بچی گھر سے چیز لینے کے لئے اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ گلی میں آئی تو دوکان بند دیکھ کر دونوں بچیاں واپس گھر کی طرف جا رہی تھی کہ اسی علاقے کے رہائشی 21سالہ اوباش لڑکے راجیندر نے ان کا راستہ روک لیا ،ملزم نے دوسری بچی کو گھر جانے کا کہا اور خود سات سالہ بچی کو اٹھا کر قریب ہی اپنے اپارٹمنٹ میں لے گیا اور چوتھی منزل پر بنے کمرے میں لے جا کر بچی کے ساتھ زبردستی ریپ کر دیا ،معصوم بچی درد سے چلانے لگی تو ظالم اور سفاک درندے نے نائلون کی رسی سے بچی کا گلہ دبا دیا ،بچی کی چیخوں کی آواز سن کر ملزم کا باپ بھی کمرے میں آ پہنچا تاہم اس وقت تک بچی ہلاک ہو چکی تھی ،ملزم کے باپ نے اپنے درندہ صفت بیٹے کی اس شیطانی حرکت پر پردہ ڈالنے کے لئے لاش کو چھپانے کا منصوبہ بنایا اور اس کی لاش کو باندھ کر بیگ میں چھپایا اور سکوٹی پر بیٹھ کر دونوں باپ بیٹے نے مقامی پارک کی جھاڑیوں میں لاش پھینک دی ۔سفاک والد نے اپنے بچے کے کالے کرتوت پر وقتی پردہ ڈال دیا اور اسے بچانے کے لئے اپنے ایک دوست کے ہاں اسے بھیج دیا ،اگلے دن پارک سے معصوم بچی کی لاش ملی جس کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے اور اس کے منہ پر بھی گہری چوٹوں کے نشان تھے ۔پولیس کے مطابق دونوں باپ بیٹا گرفتار ہو گئے ہیں اور کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں ۔دوسری طرف مقتول بچی کے اہل خانہ نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کی نا اہلی ، غفلت اور بروقت کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے ان کی معصوم بچی کی جان گئی کیونکہ بچی کے لاپتا ہونے پر ہم نے فوری پولیس سٹیشن سے رجوع کیا تھا ور انہیں بتایا تھا کہ کسی لڑکے نے ان کی سات سالہ بچی کو اٹھایا ہے تاہم پولیس نے کوئی کارروائی کرنے کی بجائے الٹا ہمیں کہنا شروع کر دیا کہ آپ خود ڈھونڈیں بچی کسی رشتہ دار کے گھر گئی ہو گی ۔اہلخانہ کا کہنا تھا کہ پولیس نے ایک روز ٹال مٹول میں ضائع کر دیا جبکہ اس سے اگلے روز ہمیں ہماری بچی کی لاش مل گئی ۔دوسری طرف پولیس کا کہنا ہے کہ کیس میں گرفتار باپ بیٹا اس سے پہلے 2016میں بھی ایک 16سالہ لڑکی کو اغوا اور ریپ کے الزام میں گرفتار ہو چکے ہیں تاہم ناقص تفتیش اور ناکافی ثبوتوں کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا تھا ۔سات سالہ بچی کی کے ریپ کے بعد قتل اور جھاڑیوں سے لاش ملنے پر پورے علاقے میں انتہائی غم و غصہ پایا جا رہا ہے جبکہ اہل علاقہ کا مطالبہ ہے کہ پولیس نے ملزموں کو کچھ عرصہ بعد ایک مرتبہ پھر چھوڑ دینا ہے لہذا ان دونوں سفاک ملزموں کو ان کے حوالے کیا جائے ،کشیدہ صورتحال کے پیش نظر پولیس سٹیشن کی سیکیورٹی بھی بڑھا دی گئی ہے جبکہ اعلیٰ افسران نے مظاہرین کو یقین دلایا ہے کہ سفاک درندوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس