864 ریپ کرنے والے درندے کو 15 ہزار برس قید کی سزا سنانے کا فیصلہ

864 ریپ کرنے والے درندے کو 15 ہزار برس قید کی سزا سنانے کا فیصلہ
864 ریپ کرنے والے درندے کو 15 ہزار برس قید کی سزا سنانے کا فیصلہ

  

ٹال ہاسی (ڈیلی پاکستان آن لائن)امریکہ میں بچے کا 864 بار ریپ کرنے والے جنسی بھیڑیے کو 15 ہزار برس تک قید کی سزا سنائے جانے کا قوی امکان ہے۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق ملزم نے 5 سال کی عمر سے بچے کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا اور کئی سال تک اس کا استحصال جاری رکھا۔

امریکی ریاست پنسلوانیا کی کاﺅنٹی شپینویل پینز سے تعلق رکھنے والے ملزم 46 سالہ گیرک بلوم کو گزشتہ ماہ ریاست فلوریڈا کے دارالحکومت ٹال ہاسی کے شیلٹر ہوم سے گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم پر 216 بار بچے کے ساتھ زیادتی کرنے، 216 بار ظالمانہ طریقے سے جنسی زیادتی کرنے، 216 بار بچے کا استحصال کرنے ، 216 بار بچے کے ساتھ غیر قانونی فعل کرنے کے الزامات ہیں۔ ملزم پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ اس نے کم عمر بچے کی فلاح کو خطرے میں ڈالا ہے۔

ملزم پر لگنے والے 865 الزامات میں سے 648 ایسے ہیں جو فرسٹ ڈگری جرائم میں شمار ہوتے ہیں اور ہر الزام کے بدلے اسے 20، 20 سال سزا سنائی جائے گی۔ باقی الزامات سیکنڈ ڈگری میں شمار ہوتے ہیں جن کے تحت اسے فی الزام 10 سال قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔ اگر ملزم کو عدالت کی جانب سے تمام 865 الزامات پر سزا سنادی گئی تو اسے مجموعی طور پر 15 ہزار برس قید کی سزا ہوگی۔

گیرک بلوم کا مکروہ چہرہ پہلی بار 25 اکتوبر 2018 کو سامنے آیا جب بچوں کی ویلفیئر کی تنظیم نے پولیس سے رابطہ کرکے بچے سے زیادتی کے واقعے کی رپورٹ کی۔ متاثرہ بچے کا کہنا ہے کہ اسے ملزم کی جانب سے مختلف طریقوں سے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق گیرک بلوم نے متاثرہ بچے کو 5 سال کی عمر سے ہی زیادتی کا نشانہ بنانا شروع کردیا تھا۔ ملزم نے شروع میں اپنے جرم سے انکار کیا لیکن بعد میں اس نے اقبال جرم کرلیا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /انسانی حقوق