پی ایم ڈی سی کی تحلیل کو منسوخ کرنا خوش آئند ہے،پی ایم اے

پی ایم ڈی سی کی تحلیل کو منسوخ کرنا خوش آئند ہے،پی ایم اے

  



 لاہور(جنرل رپورٹر)پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن، اسلام آباد ہائی کورٹ کے اُس فیصلے کا خیر مقدم کرتی ہے جس کے تحت صدارتی آرڈیننس کے ذریعے پی ایم ڈی سی کی تحلیل کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے آج پی ایم ڈی سی کیس کا محفوظ شدہ فیصلہ سُنا دیا۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں پاکستان میڈیکل کمیشن کے قیام کو بھی ناجائز اور غیر قانونی قرار دے دیا۔پی ایم اے، پہلے ہی پی ایم سی آرڈیننس کو غیر قانونی قرار دے چکی تھی۔ پی ایم اے کا ماننا ہے کہ پی ایم سی آرڈیننس میں بہت سی نقائص تھے جن کے باعث یہ طبی برادری، طبی تعلیم اور ملک کے نظام صحت کے لیے تباہی کا باعث تھا۔پی ایم اے نے اس متنازع آرڈیننس کو پہلے دن سے ہی مسترد کر دیا تھا۔اب پی ایم اے کا ماننا ہے کہ فوری طور پر ایک عبوری کمیٹی قائم کی جائے جو روز مرہ کے کام کاج کے ساتھ ساتھ 100دن کے اندر پی ایم ڈی سی آرڈیننس 1962کے مطابق انتخابات کروائے۔پی ایم اے ہمیشہ آزاد، خود مختار، جمہوری اور شفاف پی ایم ڈی سی کے قیام پر زور دیتی ہے جس میں تمام فریقین کی نمائندگی ہو اور یہ ہر قسم کے سیاسی اثر سے پاک ہو۔ہم پارلیمنٹ میں پی ایم اے کے موقف کی حمایت کرنے پر پاکستان پیپلز پارٹی کے بے حد مشکور ہیں۔ ہم جمعیت علماء اسلام (ف) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے پارلیمنٹ میں پی ایم سی آرڈیننس کی توسیع کی مخالفت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔اب اطلاع کے مطابق حکومت پی ایم ڈی سی کے حوالے سے ایک نیا آرڈیننس لانے کی تیاری کررہی ہے اور اس متوقع آرڈیننس کی حمایت کے لئے مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطے کررہی ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ نیا آرڈیننس لانے کی بجائے جمہوری حکومت کو چاہیے کہ وہ پی ایم اے اور دیگر طبی تنظیموں جیسے فریقین سے مشاورت کرنے کے بعد اتفاق رائے سے پارلیمنٹ میں بل پیش کرے تاکہ تمام سیاسی جماعتیں اپنی تجاویز دے سکیں اور ایک متفقہ قانون سازی عمل میں آسکے۔ اس جمہوری طریقہ کار کو اختیار کرنے سے طبی تعلیم اور نظام صحت میں بہتری آسکے گی۔

مزید : میٹروپولیٹن 1