حمزہ شہباز کی اثاثہ جات، منی لانڈرنگ کیس میں درخواست ضمانت مسترد، سپریم کورٹ جانے کا اعلان

      حمزہ شہباز کی اثاثہ جات، منی لانڈرنگ کیس میں درخواست ضمانت مسترد، سپریم ...

  



لاہور(نامہ نگار خسوصی)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل ڈویژن بنچ نے پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماحمزہ شہباز کی آمدنی سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس میں درخواست ضمانت مسترد کردی۔حمزہ شہباز نے اپنی ا س درخواست میں نیب کے دائرہ اختیار کو بھی چیلنج کیا تھا۔حمزہ شہبازکے وکلاء کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ متعدد بار استفسار کے باوجود درخواست گزار کے ذرائع آمدنی کے حوالے سے عدالت کو مطمئن نہیں کیا گیا۔فاضل بنچ نے قرار دیا کہ حمزہ شہباز کیس میں بظاہراینٹی منی لانڈرنگ کے قانون کا غلط استعمال نہیں کیا گیا، اگر درخواست گزار کے موقف کو درست مان لیا جائے تو پھر منی لانڈرنگ کے جرم کا تصور ہی ختم ہو جاتا ہے۔ایک موقع پر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے حمزہ شہباز کے وکیل سے کہا کہ ہم ابھی تک مطمئن نہیں کہ ملزم کے ذرائع آمدن کیا تھے، جس پر حمزہ شہباز کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ بیرون ملک سے ترسیلات ذرائع آمدنی تھے، عدالت نے پوچھا کہ کس نے بھجوائی یہ ساری رقم؟ سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ حمزہ شہباز نے ناجائز فائدے اٹھائے ہوں تو مجھے بتا دیں،اس پر فاضل بنچ نے کہا کہ آپ نے شروع کیا تو ملزم کے خاندان کی تاریخ بتائی، توکیا یہ کافی نہیں ہے؟ حمزہ کے وکیل نے کہا کہ منی لانڈرنگ کا الزام جس دور سے متعلق ہے تب سارا خاندان ملک بدر تھا اس وقت کسی نے حمزہ شہباز کو کیا رشوت دینی تھی اس وقت تو کوئی حمزہ سے ہاتھ ملانا نہیں چاہتا تھا، عدالت نے کہا ہم نے تو رشوت کی کوئی بات نہیں کی؟ حمزہ کے وکیل نے کہا کہ 2013ء سے 2017ء تک 108 ملین روپے کے تحائف حمزہ شہباز کو والدشہباز شریف، بھائی سلمان شہباز اور بہن کی طرف سے ملے، ان تحائف کا نیب الزامات سے کوئی تعلق نہیں ہے، فاضل بنچ نے کہا کہ آپ نے کہا باپ سے لئے، بھائی سے لئے، بہن سے لئے،اس لئے پھر پوچھنا پڑے گا کہ ان کے پاس یہ رقم کہاں سے آئی؟کیا شریک ملزم قاسم قیوم، فضل داد عباسی اور شعیب قمر نے ملزم کوبیرون ملک سے سارے پیسے بھیجے؟ سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ تمام ترسیلات کا بینک ریکارڈ موجود ہے،عدالت نے کہا کہ آپ نے اس کیس میں دیگر 6 افراد کا کردار نہیں بتایا، حمزہ کے وکیل نے کہا کہ آپ نے بڑا اچھا یاد کروا دیا، حمزہ شہباز 6 ماہ سے گرفتار ہیں، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ آپ ان کے شریک ملزموں کا بھی کردار بتائیں،وکیل نے کہا کہ شریک ملزموں کا کردار تو نیب بتائے گا، ریفرنس ہی نہیں آیا تو میں اس پر کچھ نہیں کہہ سکتا،عدالت نے کہاکہ ان شریک ملزموں کے بارے میں جو علم ہے وہ عدالت کو بتانا چاہیں تو بتا دیں، چلیں ہم نیب پراسکیوٹر سے پوچھ لیتے ہیں، نیب کے پراسیکیوٹر فیصل رضا بخاری نے عدالت کو بتایا کہ اپریل 2019ء میں حمزہ شہباز کیخلاف انکوائری شروع کی گئی، 200ء میں شہباز شریف فیملی کے کل اثاثے 6 کروڑ روپے تھے، 2009ء میں 68 کروڑ روپے کے اثاثے ہو گئے، 2018ء میں 300 کروڑ کے اثاثے ہوگئے، 2006ء سے 2008ء کے دوران حمزہ شہباز نے ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کروائی، 2009ء میں حمزہ کے اثاثے بڑھنا شروع ہوتے ہیں،2018ء میں حمزہ شہباز کے اثاثے 417 ملین روپے تک جا پہنچے۔ 181ملین روپے ٹوٹل رقم حمزہ شہباز کو بیرون ملک سے آئی۔یہ ترسیلات 2005ء سے 2008ء تک حمزہ کے ذاتی اکاؤنٹس میں آتی رہیں، 2008ء کے بعد حمزہ نے منی لانڈرنگ کا طریقہ اور ذریعہ تبدیل کیا اور بھائی، بہن اور والدہ کے اکاؤنٹس میں ترسیلات منگواتے رہے،بیرون ملک سے رقم بھجوانے والے 3 لوگ ٹریس کئے اس کے علاوہ 2 افراد وعدہ معاف گواہ بن گئے، ان افراد کو شناختی کارڈز سے ٹریس کیا گیا، حمزہ شہباز نے محبوب علی کا شناختی کارڈ استعمال کیا جس کا پاسپورٹ تک نہیں بنا ہوا، محبوب علی کا بیان ریکارڈ بھی کیا جا چکا ہے، محبوب علی نے حمزہ شہباز سے کوئی بھی تعلق ہونے سے انکار کیا۔نیب کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ منی چینجر قاسم قیوم نے محبوب علی کو عمرہ کیلئے بھجوانے کیلئے پاسپورٹ بنوایا، محبوب علی نے بیان میں کہا کہ اسے عمرہ پر نہیں بھجوایا گیا اور شناختی کارڈ کی کاپی قاسم قیوم نے رکھ لی، آفتاب احمد پاکستان میں تمام رقم کو مینج کرتا تھا، وہ عثمان ایکسچینج کمپنی کے ذریعے رقم بھجواتا رہا، آفتاب احمد نے شہباز شریف خاندان کیلئے جعلی ٹی ٹیز کے ذریعے رقم بھجوانے کا بیان دیا ہے، شاہد رفیق بھی بیرون ملک سے رقم بھجوانے کیلئے کام کرتا رہاہے، نیب کے وکیل نے مزید بتایا کہ 108 ملین روپے کے گفٹ2013 ء سے 2017ء تک سلمان شہباز اوراپنی بہن رابعہ سے حمزہ شہباز نے وصول کئے۔سلمان شہباز کے اکاؤنٹ کے اربوں روپے ترسیلات کی مد میں آئے، ترسیلات زر کے لئے ان افراد کے شناختی کارڈز استعمال کئے گئے جو پاپڑ بیچتا ہے یا کوئی ریڑھی لگاتا ہے، ملزم حمزہ شہباز نے بے نامی دار یونی ٹاس سٹیل اور گڈ نیچر ٹریڈنگ کمپنیاں بنائیں، مذکورہ کمپنیاں سید طاہر، علی احمد خان، نثار احمد گل اور ندیم سعید کے نام پر بنائی گئیں، حمزہ شہباز کی بے نامی کمپپنیوں سے 5 ارب منتقل کئے گئے، علی احمد خان نے 4 اگست 2016 کو 10 ملین روپے بے نامی کمپنی یونی ٹاس کو منتقل کئے، یونی ٹاس کمپنی سے 10 ملین روپے کی رقم 12 اگست 2016 کو ملزم حمزہ شہباز کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی۔علی احمد خان نے 18 اگست 2016 کو 19.950 ملین کی رقم یونی ٹاس سٹیل کو منتقل کی، یونی ٹاس کمپنی کے اکاؤنٹ سے 10 ملین اور 5پھر ملین روپے حمزہ شہباز کے اکاؤنٹ میں منتقل کئے گئے، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے بے نامی دار انکی اپنی کمپنیوں میں ملازم ہیں، حمزہ کے چار ملازمین کے نام پر میسرز یونی ٹاس اور گڈ نیچر کمپنیاں بنائی گئیں، رقم علی احمد خان کے اکاونٹ سے کمپنی کے اکاونٹ میں اورپھروہاں سے حمزہ کے اکاونٹ میں متقل ہوئی۔اس سے قبل حمزہ شہباز کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے اپنے دلائل میں مختلف قانونی نکات اٹھائے۔حمزہ کے وکیل نے کہا کہ حمزہ شہباز کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، نیب نے حمزہ شہباز کے ملازمین کو ہی بے نامی دار بنا دیا، حمزہ شہباز کو گرفتا ہوئے189 سے زیادہ دن گزر چکے ہیں،مگر ابھی تک کوئی ریفرنس دائر نہیں کیا گیا۔منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کرتے ہوئے نیب آرڈیننس کی دفعہ 18 کو پس پشت ڈالا گیا، چیئرمین نیب نے تحقیقات کیلئے قانونی رائے نہیں مانگی، حمزہ شہباز کیخلاف کیس میں اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کی بھی خلاف ورزی کی گئی، حمزہ شہباز کیخلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات آئین کے آرٹیکل 10 (اے) کی بھی خلاف ورزی ہے، نیب کو سرے سے ہی منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کا اختیار نہیں۔ حمزہ شہباز کے وکیل نے مزید موقف اختیار کیاکہ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ خصوصی قانون ہے جس میں چیئرمین نیب کو مداخلت کا اختیار نہیں، چیئرمین نیب کو صرف آرڈیننس کی دفعہ 18 کے تحت تحقیقات کا اختیار ہے، نیب کی تحقیقات 2005 سے 2008 کے دوران بیرون ملک سے موصول ہونے والی رقم کے گرد گھومتی ہیں، 2005 سے 2008ء حمزہ شہباز پبلک آفس ہولڈر نہیں رہے، بیرون ملک سے وصول رقم 14 سال پرانی ہے جس کا صرف محدود ریکارڈ موجود ہے۔عدالت نے استفسا رکیا کہ حمزہ شہباز کیخلاف اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کس وجہ سے لاگو نہیں ہو سکتا؟ حمزہ کے وکیل نے کہا کہ یکم جون 2005ء سے فروری 2010ء کے دوران تین قوانین آئے، عدالت نے پوچھا کہ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2007ء میں آیا اور آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ قانون لاگو نہیں ہو سکتا، حمزہ کے وکیل نے کہا کہ حمزہ شہباز شریف کے اکاؤنٹ میں پیسے قانون بننے سے پہلے ٹرانسفر ہوئے، منی لانڈرنگ کا پہلا آرڈیننس 2007 میں آیاجو 90 دن بعد ختم ہو گیا،د وسرا آرڈیننس 2009 ء میں آیا جبکہ اینٹی منی لانڈرنگ کا ایکٹ 2010 ء میں آیا، پھر منی لانڈرنگ ایکٹ لایا گیا،اس میں دفعہ 41 بھی شامل کی گئی اور اس کا ماضی سے اطلاق کر دیا گیا، جو کہ غیر آئینی ہے،دستور پاکستان کے تحت کسی قانون کا ماضی سے اطلاق نہیں کیا جاسکتا،نیب آرڈیننس کے تحت تفتیشی افسر اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کا اختیار استعمال نہیں کر سکتا، حمزہ شہباز پر لگائے گئے الزامات اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت آتے ہیں، 2019ء کی ترمیم کے بعد نیب آرڈیننس کے شیڈول میں انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، قانون کے تحت بیرون ملک مشکوک ترسیلات کیخلاف 5 سال کے بعد تحقیقات نہیں کی جا سکتی ہیں، حمزہ شہباز کیخلاف ایف ایم یو کی رپورٹ پر 10 سال بعد تحقیقات کی جا رہی ہیں، سپریم کورٹ نے حاکم علی زرداری کیس میں پرانے اور نئے قانون کے اطلاق کے متعلق اصول طے کر رکھا ہے، سپریم کورٹ کے متعدد فیصلے اکنامک ریفامز لاء پر بھی موجود ہیں، اگر حمزہ شہباز نے خورد برد کی، چوری کی پھر اسکے خلاف کارروائی کی جاسکتی تھی لیکن ان پر ایسا کوئی الزام ہی نہیں ہے۔حمزہ شہباز کے حقوق کو ٹیکس قوانین کے تحت تحفظ حاصل ہے، حمزہ شہباز ٹیکس ریٹرنز جمع کرواتے رہے ہیں جس کا ریکارڈ نیب کے پاس موجود ہے۔فاضل بنچ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد حمزہ کی درخواست مسترد کردی۔ یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے ایک دوسرے نیب کیس (رمضان شوگر ملز کیس) میں 6فروری کو حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت منظور کی تھی۔

حمزہ شہباز شریف

مزید : صفحہ اول