مکہ کالونی، کئی پہر سے فاقہ ماں نے بچے سمیت ٹرین تلے آکر خودکشی کر لی

  مکہ کالونی، کئی پہر سے فاقہ ماں نے بچے سمیت ٹرین تلے آکر خودکشی کر لی

  



لا ہو ر (کر ائم رپو رٹر)تھانہ نصیر آباد کے علاقے مکہ کالونی میں غربت سے تنگ آکر ماں نے بچے سمیت بھاگتی ہوئی ٹرین کے سامنے چھلانگ لگاکر خود کو موت کے حوالے کردیا۔خودکشی کرنیوالی خاتون کانام روبینہ اور ڈیڑھ سالہ بچے کانام آیان ہے، بتایا گیا ہے کہ نصیر آباد کے علاقہ مکہ کالونی کے رہائشی اکرام کے گھریلو حالات اچھے نہیں تھے وہ ایک جوس کارنر پر دیہاڑی دار ہے گھر میں کئی کئی دن کھانا نہیں پکتا جبکہ یہ خاندان کرائے کے ایک چھوٹے سے گھر میں رہتا تھا گزشتہ روز بیوی نے بچے کے دودھ کے لیے پیسے مانگے جو کہ اکرم نہ دے سکا بیوی بچے کو روتا ہوا نہ دیکھ سکی اور اس نے بچے کو اٹھایا اور ریلوے ٹریک پر پہنچ گئی جب تیزی سے بھاگتی ہوئی ٹرین وہاں پہنچی تو خاتون نے بچے سمیت اس کے سامنے چھلانگ لگادی جس سے ماں بیٹے سمیت موقع پر ہی ہلاک ہوگئی اور اس کی لاش کئی حصوں میں بکھر گئی اس افسوس ناک واقعہ کا علم جب اکرم کو ہوا تو وہ موقع پر پہنچا اور زارو قطار روتے ہوئے کہتا رہا ان کی موت کی زمہ دار آج کی حکومت ہے جس کی وجہ سے کاروبار نہیں ہے اور مہنگائی زیادہ ہونے کی وجہ سے میرا گھر برباد ہو گیا ہے پولیس نے موقع پر پہنچ کر ضروری کارروائی کے بعد لاشیں ورثاء کے حوالے کردیں مکہ کالونی ای بلاک کے رہائشی اکرام اپنی بیوی روبینہ اور تین بچوں کے ہمراہ زندگی بسر کر رہا تھا، متوفیہ روبینہ کے شوہر اکرام کا مزیدکہنا ہے کہ وہ اپنی بیوی روبینہ اور تین بچوں کے ساتھ زندگی بسر کررہا تھا، گھر میں مالک مکان کو کرایہ ادا کرنے کی ٹینشن تھی نو ہزار میں پانچ ہزار ادا کر دیئے گئے، باقی چار ہزار کی رقم روبینہ اپنے بیٹے آیان کے ہمراہ اپنی بہن کے گھر لینے جا رہی تھی کہ اطلاع مل گئی کہ اس نے خود کشی کر لی ہے اکرام کے مطابق مالک مکان اسلم نے گزشتہ روز کرایہ ادا نہ کرنے پر بہت ذلیل کیا آج کرایہ ادا کرنے کی اخری تاریخ تھی مالک مکان نے کرایہ ادا نہ کرنے پر مکان خالی کرنے کا کہہ دیا تھا۔ مقوفیہ کے شوہر کے مطابق گزشتہ روز روبینہ نے مجھ سے کہا کرایہ پر زندگی گزارنے سے موت بہتر ہے میں نے بیوی کو اپنی کمیٹی نکلنے پر اسے گروی مکان لیکر دینے کا وعدہ کیا تھااکرام نے بتایا کہ وقوعہ کے روز میرے کپڑے استری کرکے میرے ساتھ بیٹھ کر چائے پی اور بیٹا اور بیٹی کو ٹیوشن چھوڑنے چلی گئی، جب حادثہ پیش آیا تو دو بچے ٹیوشن پر اور میں گھر پر تھا۔

مزید : صفحہ اول