نالائق حکمرانوں کو برداشت کرنا آزادی و خود مختاری کا سود کرنے کے مترادف: سراج الحق

نالائق حکمرانوں کو برداشت کرنا آزادی و خود مختاری کا سود کرنے کے مترادف: ...

  



لاہور (آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ جہاں پیاروں کی بات آتی ہے، حکومت گونگی بہری اور اندھی ہو جاتی ہے۔ وزیراعظم کے پیارے آٹے چینی کے بحران پیدا کرنے میں ملوث ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ ان پیاروں کو سزا دینا کتنا مشکل ہے۔ جب تک پیاروں کا احتساب نہیں ہوتا، ملک میں احتساب کا نظام کامیاب نہیں ہوسکتا۔ 18 ماہ میں ملک پر گیارہ ہزار ارب کا قرضہ چڑھانے والی حکومت اب قومی اداروں کو بیچ کھانے پر تلی بیٹھی ہے۔ یہی حکومت رہی تو خدشہ ہے کہ یہ قائداعظم ؒ اور علامہ اقبالؒ کے مزاروں پر برائے فروخت کے بورڈ نہ لگوا دے۔ ملکی تاریخ کے نااہل اور نالائق حکمرانوں کو برداشت کرنا آزادی و خود مختاری کا سودا کرنے کے مترادف ہے۔ جون آنے میں ابھی چار ماہ باقی ہیں مگر آئی ایم ایف کے کارندوں نے ملک کا بجٹ بنانا شروع کردیاہے اور اس بجٹ کا اصل ہدف آئی ایم ایف کے قرضوں کا سود دینا ہے جو 2900 ارب روپیہ ہے جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے صرف 700 ارب روپیہ رکھا جاتاہے۔ حکومت اب کوئی چیز ملک میں لانے اور باہر بھیجنے کے لیے بھی آئی ایم ایف سے اجازت لیتی ہے۔ جماعت اسلامی حکمرانوں کے خلاف عوام کو منظم کرے گی۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے منصورہ میں مرکزی تربیت گاہ کے شرکاء سے خطاب اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مرکزی سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف بھی موجود تھے۔سینیٹر سرا ج الحق نے کہاکہ ملکی آزادی و خود مختاری کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا گیاہے اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح آئی ایم ایف ہماری قسمت کے فیصلے کر رہاہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت میں بد دیانت، خود غرض اور کرپٹ لوگ بیٹھے ہوں تو ملک ترقی نہیں کرتے۔ وزیراعظم چوروں کو پکڑنے اور ان کا محاسبہ کرنے کی بات کرتے ہیں مگر اپنے پیاروں، جنہوں نے آٹے چینی کا بحران پیدا کر کے غربت کے مارے عوام سے اربوں روپے لوٹ لیے ہیں، کو پکڑنے کو تیار نہیں۔ وزیراعظم خود بتائیں کہ احتساب کا کوئی نظام ان حالات میں کیسے کامیاب ہوسکتاہے۔انہوں نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے ملک کو سونے، کوئلے، ہیرے، جواہرات اور گیس سمیت بے پناہ وسائل سے نواز اہے مگر ملک میں غربت، مہنگائی اور بے روزگاری ہے جس کی سب سے بڑی وجہ ناکام اور نااہل حکومت اور انتظامیہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ خطے کے ممالک میں ہماری ترقی کی شرح سب سے کم ہے، حتیٰ کہ افغانستان، بھوٹان، سری لنکا اور مالدیپ جیسے ممالک بھی ہم سے آگے نکل گئے ہیں۔ چائینہ میں کرونا وائرس اور ہمارے ہاں کرپشن وائرس ہے جس نے ہمارے تمام اداروں کو تباہ و برباد کردیاہے۔

سراج الحق

مزید : صفحہ آخر