ڈیرہ: کوڑا کرکٹ کی80کنال اراضی پرپارک بنانے کی تیاریاں

  ڈیرہ: کوڑا کرکٹ کی80کنال اراضی پرپارک بنانے کی تیاریاں

  



ڈیرہ غازی خان(ڈسٹرکٹ بیورو ر پورٹ،نمائندہ خصوصی، سٹی رپورٹر)ڈیرہ غازی خان شہر کے ماتھے جنرل بس سٹینڈ سے ملحقہ رقبہ پر کئی سالوں سے جمع سینکڑوں ٹن کوڑا گہری خندقیں کھود کر دفن کرکے مٹی کی تہہ بنائی جانے لگی۔کمشنر نسیم صادق نے معائنہ کرکے پارک (بقیہ نمبر16صفحہ12پر)

کی تیاری کی ہدایات جاری کیں۔کمشنر نے کہا کہ کوڑا کرکٹ کی 80 کنال جگہ پر پارک بنایا جائیگا۔انہوں نے بتایا کہ کوڑا کرکٹ کی تلفی اور مٹی ڈالنے کیلئے 70 کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیا تھا تاہم بہتر حکمت عملی اور شہریوں کے تعاون سے سرکاری فنڈ زخرچ کئے بغیر کوڑا تلف کرکے مٹی ڈال دی گئی۔انہوں نے کہا کہ پی ایچ اے کی زیر نگرانی یہاں پارک بنایا جائیگا جس کیلئے بھاری مشینری پلاٹ تیار کررہی ہے اس موقع پر اے سی جی محمد یوسف چھینہ،چیف آفسیر کارپوریشن اقبال فرید،ایکسئین زراعت انجینئرنگ چوہدری محمد ندیم اور دیگر افسران موجود تھے۔علاوہ ازیں کمشنر نے مانکا کینال پر گرین بیلٹس کی تیاری، ڈی سیلٹنگ، ڈریسنگ او ردیگر کام کا جائزہ لیا انہوں نے چوک چورہٹہ کا دورہ کرتے ہوئے لنگر خانہ کی کلر سکیم کے بارے میں ہدایات جاری کیں. کمشنر نے جنرل بس سٹینڈ میں موجود ورکشاپ کا بھی دورہ کیا او ر کارپوریشن کے مکینیکل سویپر، ٹریکٹر او ردیگر مشینری کی کلر سکیم کی تبدیلی کے عمل کا جائزہ لیا. پل ڈاٹ ڈیرہ غازی خان کے بعد پل پیارے والی کی کشادگی کا بھی ڈیزائن تیار کرلیا گیا۔پل چورہٹہ کی ری۔ڈیزائننگ کے احکامات جاری کردئیے گئے۔جلد ہی مرحلہ وار تعمیراتی کام کا آغاز کیا جائے گا۔کمشنر ڈیرہ غازی خان نسیم صادق نے کہا کہ عوام کو گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہنے کی اذیت سے بچانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کررہے ہیں۔ موجودہ پیارے والی پل کو دونوں طرف 30 فٹ تک کشادہ کرکے چاروں طرف سلپ روڈز بنائی جائیں گی۔جنرل بس سٹینڈ،موجودہ سبزی منڈی، بس اور ویگن سٹینڈز کی وجہ سے پل پر گھنٹوں ٹریفک جام رہتی ہے خصوصاً تعلیمی اداروں کی چھٹی کے اوقات میں عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پل کشادہ ہونے سے عوام کو ذہنی پریشانی سے نجات ملے گی اور گاڑیوں کا ایندھن بھی بچے گا۔انہوں نے کہا کہ پل چورہٹہ کو بھی ری۔ڈیزائن کیا جائے گا۔کمشنر نسیم صادق نے کہا کہ پل ڈاٹ ڈیرہ غازی خان ملک کے چاروں صوبوں کی ٹریفک کا جنکشن ہے۔ کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن نسیم صادق نے کہا ہے کہ ڈیرہ غازی خان شہر میں صاف پانی کی وافر مقدار میں فراہمی یقینی بنانے کیلئے ہرممکن اقدامات کئے جارہے ہیں۔ سیوریج پائپ لائنز کی ہنگامی بنیاد پر صفائی کا آغاز کردیا ہے۔پانی کے ٹیوب ویل اور ڈسپوزل ورکس کے واجبات کی ادائیگی نہ ہونے پر بجلی کے کنکشن منقطع ہوجاتے ہیں۔ پانی نہ ملنے اور سیوریج لائن کی بندش سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ پانی کے کنکشن کی فیس اور واجبات فوری ادا کرکے ذمہ داری شہری کا ثبوت دیا جائے۔کمشنر نسیم صادق نے شہریوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شوریہ کینال پر نصب واٹر سپلائی کے ہر ٹیوب ویل کا تفصیلی جائزہ لیا ہے 32 میں سے 24 ٹیوب ویل تین سال سے خراب اور بند تھے۔کمپنیوں کے عہدیداروں کو بلاکر مشینری دکھائی گئی اور بحالی کیلئے سفارشات طلب کیں۔کمشنر ڈیرہ غازی خان نسیم صادق سے پرائیویٹ سکولز مالکان اور عہدیداروں نے ملاقات کی۔اجلاس میں عوام کے مسائل کے حل کے لئے ملکر کام کرنے اور آگاہی مہم چلانے کا فیصلہ کیاگیا۔کمشنرنے کہا کہ عوام کے اجتماعی مسائل کے حل کو پہلی ترجیح دی جارہی ہے۔کلین،گرین اینڈ سیف ڈی جی خان مہم کی کامیابی کیلئے ٹیم ورک کی ضرورت ہے۔ملکر کام کرنے سے مختصر وقت میں مسائل حل ہوسکتے ہیں۔اجتماعی مسائل حل کرکے عوام کا اعتماد بحال کرایاجاسکتا ہے۔مثبت آگاہی مہم میں نوجوان نسل کو آگے لایا جائے۔ تعلیمی اداروں میں طلباء وطالبات کی کردار سازی پر فوکس کیا جائے۔اجلاس میں ڈیرہ غازی خان اور دیگر شہروں سے پرائیویٹ سکولوں کی انتظامیہ نے شرکت کی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو سمیع اللہ فاروق،سی ای او تعلیم شمشیر احمد،ڈی ای او سیکنڈری مہر سراج الدین،چیف آفیسر کارپوریشن اقبال فرید اور دیگر موجود تھے۔کمشنر ڈیرہ غازی خان نسیم صادق نے کہا ہے کہ عمارتوں کے نقشہ اور کمرشل فیس فوری ادا کی جائے۔پہلے سے جاری نقشہ فیس اور دیگر کاغذات کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ دھوکہ دہی اور جعلسازی ثابت ہونے کارپوریشن عملہ سمیت ملوث افراد کے خلاف مقدمات درج ہوں گے۔انہوں نے یہ بات اپنے آفس میں بنک منیجرز،اکیڈمی اور دیگر کاروباری مراکز کے مالکان سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ واجبات کی عدم ادائیگی پر عمارتیں سربمہر کردی جائیں گی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر جنرل محمد یوسف چھینہ، چیف آفیسر کارپوریشن اقبال فرید،ڈی او پلاننگ خورشید نصیر اور دیگر موجود تھے.

تیاریاں

مزید : ملتان صفحہ آخر