چاردیواری کی جماعتیں

چاردیواری کی جماعتیں
 چاردیواری کی جماعتیں

  



مذہبی جماعتوں کا خاصہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے حامیوں اور ووٹروں کی ہی نہیں بلکہ ان کے خاندانوں کی بھی کفالت کرتی ہیں اور ان کی معاشی ضروریات کا خیال رکھتی ہیں، اسی لئے سرکس کی طرح یہ مذہبی جماعتیں جہاں بھی میلہ لگاتی ہیں پورے پورے خاندان ساتھ جاتے ہیں۔ علامہ طاہر القادری، علامہ خادم حسین رضوی، علامہ ناصر حسین اور مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے اس کی واضح مثالیں ہیں۔

مذہبی جماعتوں کے اجتماع اور احتجاجی دھرنے اسٹیبلشمنٹ کو موافق ہوتے ہیں کیونکہ ایسے جلسوں میں یونٹی آف کمانڈ ہوتی ہے، فالورز وہی کچھ کرتے ہیں جو لیڈر ان سے کہتا ہے۔ مذہبی جماعتوں سے باہر صرف ایم کیو ایم کی ایک واحد مثال ہے جس کی بُنت مذہبی جماعتوں کی طرز پر ہوئی ہے۔ یہ سب چار دیواری کی جماعتیں ہیں اور اسی لئے بھرپور شوروغل کے باوجود ایک محدود دائرہ اثر رکھتی ہیں اور اسی لئے اسٹیبلشمنٹ کی چہیتی ہوتی ہیں۔ جبکہ غیر مذہبی سیاسی جماعتوں میں اور ان میں ووٹروں سپورٹروں پر ایسی عنایات کم کم ہوتی ہیں، اس لئے پورے پورے خاندان سیاسی قیادت کے بہت کم احسان مند ہوتے ہیں۔ ان غیر مذہبی سیاسی جماعتوں میں ورکر لیڈر سے آگے نکلنے کو تیار ہوتے ہیں کیونکہ وہاں ہر کوئی داؤ پر ہوتا ہے اور کسی کی بھی معاشی ضروریات پارٹی فنڈ سے پوری نہیں ہوتی ہیں، الٹا وہاں تو جاگیردار اور سرمایہ دار سرمایہ لے کر آتے ہیں اور اقتدار پانے کے بعد اسے ڈبل ٹرپل کرتے ہیں جیسے کہ ان دنوں جہانگیر ترین اور خسرو بختیار پر الزام لگایا جا رہا ہے۔

ان دنوں مولانا فضل الرحمٰن اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں سے نالاں ہیں مگر دسمبر میں وہی میڈیا کو بتا بتا کر اتراتے تھے کہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کو جو ریلیف مل رہے ہیں وہ ان کے دھرنے کی ”برکتیں“ہیں۔ تاہم مولان کے پچھلے دھرنے میں اور موجودہ حکومت مخالف تحریک میں بنیادی فرق یہ ہے کہ اس مرتبہ مولانا مہنگائی کو چورن بیچنا چاہتے ہیں۔ اس سے قبل وہ جعلی مینڈیٹ کا نعرہ لگا کر اسلام آباد میں دھرنا دے کر بیٹھ گئے تھے اور خطرہ ہے کہ اس مرتبہ مہنگائی کا نعرہ لگا کر اٹھ جائیں گے۔ نہ پہلے انہیں کچھ ملا تھا، نہ اب ملے گا۔پہلے وہ اداروں سے نالاں تھے کہ انہوں نے عمران خان کو جعلی مینڈیٹ دلوایا اور دوسری جانب اب پوچھ رہے ہیں کہ ذمہ دار ادارے ملکی حالت کو کیوں محسوس نہیں کر رہے ہیں۔ مولانا آخر چاہتے کیا ہیں؟ علامہ طاہرالقادری کی طرح انہوں نے بھی اپنے لئے وہ اہداف سیٹ کر لئے ہیں جن کو پانے کی ان میں نیت ہے نہ صلاحیت!

ایسا لگتا ہے کہ علامہ طاہر القادری کی طرح پاکستانی سیاست میں مولانا کی حیثیت بھی آئٹم سانگ کرنے والی فلمی ہیروئن کی ہے جس میں عوامی منو رنجن کا سامان تو بہت ہوتا ہے مگر اصل فلم سے اس کا کچھ لینا دینا نہیں ہوتا ہے!

سوال یہ ہے کہ آیا مولانا اس مرتبہ عوام کو اپنے پیچھے لگالیں گے یا ان کا حال بھی طاہر القادری جیسا ہی ہوگا کہ گلہ پھاڑ پھاڑ نواز شریف کے لتے تو وہ لیتے رہے اور وزارت عظمٰی عمران خان کو مل گئی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن کی ڈیوٹی بھی انہوں نے ہی لگائی ہے جنھوں نے طاہر القادری کی لگائی تھی؟

مولانا کو گلہ ہے کہ اپوزیشن کی بڑی جماعتوں نے ان کا ساتھ دیا ہوتا تو گزشتہ دھرنے کا نتیجہ مختلف ہوتا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ دھرنے کے لئے خالی بندے اکٹھے کرنا کوئی کمال نہیں جب تک کہ ’مائی باپ‘کی آشیرباد حاصل نہ ہو کیونکہ اگر آشیرباد حاصل ہو تو خالی کرسیوں سے خطاب کرکے بھی بندہ وزیر اعظم لگ سکتا ہے!

ویسے مولانا نے آزادی مارچ کے آغاز پر کہا تھا کہ اس کے کئی مراحل ہیں، گویا کہ وہ پہلے ہی عوام کو ذہنی طور پر تیار کر چکے تھے، اسی لئے جب مولانا نے گزشتہ دھرنے کے خاتمے کا اعلان کیا تو ان کے کارکنوں کا کہنا تھا کہ جب مولانا دوبارہ کہیں گے تو وہ پھر آجائیں گے، گویا مولانا اور ان کے ورکر ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں، جبکہ عوام دو اووروں میں کھیل ختم کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کامسئلہ یہ ہے کہ مولانا عوام کو نکال نہیں سکتے مگر حکومت الٹانے کے دعوے کررہے ہیں جبکہ نواز شریف عوام کو نکال سکتے ہیں مگر وہ لندن کی ٹھنڈ کا مزہ لے رہے ہیں۔ ایسے میں مہنگائی نہیں بڑھے گی تو کیا ہوگا؟سچ پوچھئے تو ابھی تک سمجھ نہیں آئی کہ مولانا نے پرانا دھرنا عوام کے کہنے پر اٹھایا تھا یا پرویز الٰہی کے کہنے پر اٹھایا تھا؟ اگر پرویز الٰہی کے کہنے پر دھرنا ختم کیا تھا تو کیا متحدہ اپوزیشن کی رہبر پارٹی کو اعتماد میں لے کر ختم کیا تھا؟ اور اگر ایسا نہیں کیا تھاتو آج مولانا کیونکر اپوزیشن کا گلہ کیوں کر رہے ہیں؟

مزید : رائے /کالم