شاکر شجاع آبادی کسمپرسی کاشکار،حکومتی معاونت کوبھی بریکیں

  شاکر شجاع آبادی کسمپرسی کاشکار،حکومتی معاونت کوبھی بریکیں

  



وچ شریف (سٹی رپورٹر ) صدارتی ایوارڈ یافتہ لیجنڈ سرائیکی شاعر شاکر شجاع آبادی اوچ شریف پہنچ گئے، انتہائی کسمپرسی کا شکار اور فالج سمیت دیگر بیماریوں سے متاثرہ پرائیڈ آف پرفارمنس شاکر شجاع آبادی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے وطن کے نوجوانوں سے محبت کرتے ہیں وہ اس کو فراموش نہیں کرسکتے، اس دھرتی کے لوگوں کا پیار ان پر قرض ہے انہوں نے کہا کہ اپنی شاعری میں اپنے خطے کی سرائیکی آواز (بقیہ نمبر20صفحہ12پر)

کو اجاگر کیا جس کو نہ صرف سرائیکی خطے کے لوگوں بلکہ پورے ملک سمیت دنیا بھر میں رہنے والے پاکستانیوں نے ان سے بھرپور محبت کا اظہار کیا، اس موقع پر انہوں نے حکومتی سطح پر ان کی کسی قسم کی معاونت نہ کرنے کا بھی شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ شدید بیماری میں مبتلا ہیں اور انتہائی کسمپرسی کی حالت میں بیماری سے لڑرہے ہیں مگر حکومتی سطح پر کسی قسم کی معاونت نہیں کی گئی، اس موقع پر انہوں نے اپنے چاہنے والوں سے بھی اپیل کی کہ وہ ان کی صحت یابی کے لئے دعاؤں میں یاد رکھیں، اس موقع پر شعر سنانے کی فرمائش پر شاکر شجاع آبادی نے یہ شعر سنائے۔

,تو محنت کر تے محنت دا صلہ جانڑے خدا جانڑے

تو ڈیوا بال کے رکھ چا ہوا جانڑے خدا جانڑے

اے پوری تھیوے نہ تھیوے پر بے کار نئیں ویندی

دعا شاکر تو منگی رکھ دعا جانڑے خدا جانڑے،،

اس موقع پر ان کے ہمراہ مقامی شہری محمد اکبر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شاکر شجاع آبادی جیسے لیجنڈ شاعر اس دھرتی کا سرمایہ ہے، مگر ان کی کسمپرسی کی حالت دیکھ کر ان کا دل خون کے آنسو رورہا ہے، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شاکر شجاع آبادی کا حکومتی سرپرستی میں علاج معالجہ کرایا جائے اور انہیں مفت ادویات فراہم کی جائیں، اور حکومت اس لیجنڈ کا معقول وظیفہ مقرر کرے تاکہ انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔

بریکیں

مزید : ملتان صفحہ آخر