سٹائلش بلے باز،وقار حسن کا انتقال

سٹائلش بلے باز،وقار حسن کا انتقال

  



ماضی کے سپر سٹار، سٹائلش اور بااعتماد مڈل آرڈر بلے باز وقار حسن کراچی میں انتقال کر گئے۔ وہ کافی عرصہ سے علیل تھے، آج ان کی نمازِ جنازہ اور تدفین ہو گی،وقار حسن کی عمر87 سال تھی، وہ1932ء میں متحدہ برصغیر کے دوران امرتسر میں پیدا ہوئے اور والدین کے ساتھ ہجرت کر کے لاہور آئے۔وقار حسن نے یہیں کرکٹ کیریئر شروع کیا اور پاکستان کی پہلی کرکٹ ٹیم میں منتخب ہوئے،جس کے کپتان مرحوم عبدالحفیظ کاردار تھے۔وقار حسن نے پہلا ٹیسٹ میچ1952ء میں بھارت کے دورے پر گئی ہوئی ٹیم میں دہلی میں کھیلا، کپتان کو ان پر مکمل اعتماد تھا اور وہ ہمیشہ اس پر پورے اُترے، پہلے ہی دورے میں 44.7 کی اوسط سے رنز بنائے۔وقار حسن نے21ٹیسٹ میچوں میں ایک ہزار71رنز بنائے، ایک سنچری اور چھ نصف سنچریاں ان کے ریکارڈ میں ہیں،جبکہ حنیف محمد اور امتیاز احمد کے ساتھ ان کی ریکارڈ پارٹنر شپ بھی ہیں۔وقار حسن بعدازاں کراچی منتقل ہو گئے،وہ وقفے وقفے سے تین بار پاکستان کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر بھی رہے،وقار حسن کے بعد اب پاکستان کرکٹ کی اولین ٹیم کا کوئی بھی کھلاڑی دُنیا میں نہیں رہا،وہ پڑھے لکھے اور سنجیدہ فکرکھلاڑی تھے اور اپنے دوسرے ساتھیوں کی طرح مہذب بھی تھے،ان کی خدمات کو یاد رکھا جائے گا کہ وہ اس دور کے کھلاڑی تھے، جب ہیلمٹ اور چیسٹ گارڈ جیسے لوازامات نہیں ہوتے ہیں اور تیز ترین باؤلروں کا سامنا کرنا پڑتا تھا، قواعد و ضوابط بھی آج جیسے نہیں تھے،اس لئے اس دور کے کھلاڑی بڑے مضبوط اعصاب کے مالک ہوتے تھے، اللہ ان کی اور ان سے پہلے جانے والوں کی مغفرت فرمائے۔

مزید : رائے /اداریہ