”نشانِ منزل“ ……قابلِ مطالعہ کتاب

”نشانِ منزل“ ……قابلِ مطالعہ کتاب
”نشانِ منزل“ ……قابلِ مطالعہ کتاب

  



دورحاضر میں اسلام دشمن عناصر نوجوان نسل کو اپنے دین اور مذہب سے دور کرنے کے لئے شک وشبہ کے علاوہ بے راہروی کے کئی دیگر نا پسندیدہ اعمال کے ذریعے گمراہ کررہے ہیں، جس کا سد باب وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور ہم سب کا فرض اولین بھی ہے کہ ہم ان کے مقابلے میں اسلامی شعائراور دینی اقدار کی، جس قدر ممکن ہو تشہیر کریں، جس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم اس اہم فریضے کو اپنے گھر آل اولاد سے شروع کریں اور ازاں بعد جہاں تک ممکن ہو اس کی توسیع کا اہتمام کریں، دیگر اعمال کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے ایسی کتب کی اشاعت کا بھی بندوبست کریں اور تواتر کے ساتھ اسلامی اقدار کورسائل اور اخبارات کے ذریعے احاطہء تحریر میں لائیں، تاکہ نئی نسل اس سے بہرہ ور ہو۔ اس حوالے سے علمائے دین اپنا کام موثر طریقے پر انجام دے رہے ہیں اور میڈیا اوراخبارات بھی اس حوالے سے اپنا اہم کردار ادا کررہے ہیں، جس میں بزرگان دین کے افکار،مضامین کی شکل میں جمعۃ المارک کے روز صفحہ اول پر شائع کئے جاتے ہیں۔ اسلام کی توسیع کا ایک اور مفید ذریعہ اسلامی کتب کی طباعت ہے، جو علمائے کرام بڑی خوش اسلوبی سے انجام دے رہے ہیں اور نہایب مفید اور اسلامی اصولوں سے مزین کتابیں تحریر کررہے ہیں۔

اس حوالے سے حال ہی میں لکھی جانے والی ایک کتاب ”نشان منزل“ ہے، جسے محترم سید محمد حبیب عرفانی سجادہ نشین آستانہ عالیہ عرفانیہ چشتیہ سندر شریف لاہور نے تحریر کیا ہے جو 236صفحات اور متعدد ابواب پر مشتمل ہے، کتاب ترتیب و تدوین، طباعت اور مضامین کے حوالے سے قابل ستائش ہے، اس میں شعائر اسلامی کا بھرپور احاطہ کیا گیا ہے۔ کتاب کے خالق کتاب کی ابتداء میں ”احوال واقعی“ میں رقم طراز ہیں کہ نوبل انعام یافتگان کی فہرست کا جائزہ لیں تو اس میں سائنس، ٹیکنالوجی، طب، معاشیات، سیاسیات، علم و ادب اورہر میدان میں غیر مسلم، خصوصاً یہودی قوم سب سے آگے دکھائی دیتی ہے…… وہ لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر میکنن کارلیون نے مختلف پراجیکٹس کے سلسلے میں تین سال اسرائیل میں گزارے۔ وہ ان کی کامیابی کی وجوہات جاننے کے لئے ان کے مزاع، انداز، طریقہ کار اور رہن سہن کا مشاہدہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ یہودی اپنے بچوں کی پرورش پر خصوصی توجہ دیتے ہیں اور ان کا نصب العین ایک ذہین، کامیاب اور ایک موثر شخصیت کو پروان چڑھانا ہوتا ہے جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر کارآمد ہو۔ یہی وجہ ہے کہ پچاس لاکھ سے کچھ زیادہ آبادی اوراسلام آباد اور راولپنڈی جتنے رقبے پر محیط ملک پوری دنیا کی سیاست اور معیشت کو کنٹرول کئے ہوئے ہے اور اس کا سب سے بڑ مقصد تمام ممالک و اقوام کے خاندانی نظام اورمذہبی اقدار کی بالا دستی کا خاتمہ کرکے اس کو لادین بنانا، اپنا مستقل غلام رکھنا اور جمہوری تسلط کی پائیداری ہے۔

صاحب کتاب کے بارے میں پروفیسر رحیم الدین لکھتے ہیں …… عبادت گزار ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی، علمی، ادبی اور سیاسی بصیرت کے بھی حامل ہیں، جس کے پیش نظرملک کے مختلف ٹیلیویژن چینلوں پر انہوں نے اسلامیات عبادات، اخلاقیات، اہل بیت اطہار، صحابہ کرامؓ اور اولیائے اللہ کی سیرت و افکار پر متعدد پروگراموں میں شرکت بھی فرمائی اور اسلامی اور سماجی موضوعات پر بصیرت افروز گفتگو کی، علاوہ ازیں پاکستان کے موثر اخبارات میں ان کے مضامین، کالم اور انٹرویو بھی شائع ہوئے، جن کے موضوعات خانقاہی نظام اور اس کے مراکز، انداز تربیت،اسلامی درس گاہ، خانقاہ کا بنیادی تصور، تالیف قلب اور سچائی کا فروغ شامل ہیں۔ علاوہ ازیں انہوں نے متعدد کانفرنسوں کا اہتمام بھی کیا اور بعض میں بطور کلیدی مقرر شرکت کی……کتاب”نشان منزل“ کے باب اسلام اور احترام انسانیت میں سورۃ المائدہ آیت تین کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ آج کے دن مَیں نے تمہارے لئے تمہارے دین، انداز، گرزان اورراہ حیات کو متعین اور مکمل کر دیا ہے اور مَیں نے اپنی تمام تر نعمت تمہیں عطا کر دی کہ جب اپنے محبوب ﷺ کو تم میں مبعوث فرما دیا توپھر اس نوع تخلیق ہیبت اور اولاد آدم کے لئے جتنی بھی نعمتیں تھیں، آج مکمل کردیں، تمہارا سلامتی میں ایمانیات اور اسلام کی بات،یعنی ایمانیات یہی ہے کہ یقین و عقیدہ اوراسلام عبادات کا نام ہے۔

اس یقین اور عقیدے کو آگے کیسے لے کر چلنا ہے، کیا انداز اور طریقہ اختیار کرنا ہے؟ یہ ایمانیات ہے اور اسلام میں عبادات شامل ہیں کہ ایمان تمہارے اور اللہ کے درمیان کیا تعلق ہے؟ اسلام تمہارے اور رسول اکرمﷺ کے درمیان کیا تعلق ہے؟ تیسری چیزجو دین اسلام نے دی ہے وہ اخلاقیات ہیں اور اخلاقیات یہ ہیں کہ تمہارا آپس میں کس انداز، کس نوع،کس حیثیت اور کس کیفیت کا تعلق اور واسطہ ہے۔ انسانیت انسان کے حوالے سے ہے اور انسانی معراج کی تکمیل انداز سے یہ ہے کہ دین اسلام میں باایمان ہونے کے حوالے سے جو انداز اور طریقہ ہے، وہ بندے کا اپنے اللہ کے ساتھ بندگی کا تعلق، اس کی بارگاہ میں سجدے کرنے کا تعلق، اس کی خاطر روزہ رکھنے کا تعلق، اس کے احکامات کی بجا آوری میں حج، زکوۃ، ادا کرنے کا تعلق اور طریقہ ہے۔ دین اسلام نے تقویٰ کا حکم دیا ہے کہ متقی بنو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، تقویٰ ایک جذبے،سوچ اور احساس کا نام ہے جو یہ ہے کہ مَیں جو کچھ کررہا ہوں جو الفاظ اپنی زبان سے ادا کررہا ہوں۔ کیا میرا دل میری زبان کا رفیق ہے؟ شاید کوئی بھی نہیں جان سکتا، لیکن میرا اللہ وہ ہے جو یقیناً اس بات کو جانتا ہے کہ جو الفاظ میں اپنی زبان سے اداکررہا ہوں، میرے اندر بھی وہی ہے، جس بات کی تعلیم یا تلقین کررہا ہوں، کیا مَیں خود بھی اس کا قائل ہوں؟

اس بات کا احسان و ادراک ہونا تقویٰ ہے، اس بات کا احساس ہونا کہ اگر میرا دل، میری زبان کا رفیق نہیں ہے، میری زبان کچھ اور کہہ رہی ہے، میرے دل میں کچھ اور ہے تو وہ مال و خالق علیم و خبیر ہے۔ کل جب اس کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے تو اس وقت اگر مَیں کسی بات سے انکار کرنابھی چاہوں، جھوٹ بولنا بھی چاہوں تو میری زبان، میرا دل اور میرے جذبات میرا ساتھ نہیں دیں گے، میری سوچ، میرے خیالات کی آئینہ دار نہیں ہوگی، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ زبان، دل، خیالات، تصورات سب آزاد ہوں گے۔ سویح بھی آزاد ہوں گی اورجو حقیقت ہوئی، وہ اس کے سامنے بول دے گی، یہ تقویٰ کی کیفیت ہے کہ اگر مَیں کوئی غلط بات یا غلط عمل کروں گا۔ دین اسلام کے خلاف چلوں گا یا منافقت کروں گا، چوری کروں گا، جن جن چیزوں سے دین اسلام نے منع کیا ہے وہ عمل کروں گا یا وہ چیزیں دین اسلام نے جن کے کرنے کا حکم د یا، ان سے پہلو تہی کروں گا تو مَیں حق تعالیٰ کی بارگاہ میں مجرم ہونے سے نہیں بچ پاؤں گا۔ان باتوں کا ڈر یا خوف ہونا تقویٰ ہے۔

رسول کریم ﷺ کی حدیث مبارکہ ہے کہ مجھے اس کائنات میں بہترین اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیاہے، تاکہ مَیں لوگوں کے اخلاق سنواروں، لوگوں کی سوچ، لوگوں کے اعمال و افعال کودرست کروں۔ اخلاقیات میں حقوق و فرائض کی بات بھی آتی ہے۔ حقوق و فرائض میں انسان کے ذمے دو طرح کے حقوق ہیں …… ایک حقوق اللہ اور دوسرے حقوق العباد …… حقوق اللہ سے مراد اللہ تعالیٰ نے جو کچھ میرے اوپر لازم اور فرض کیا ہے، اس کواسی انداز اور طریقے کے مطابق ادا کرنے کی کوششیں، کاوشیں اور سعی کرنا۔ یہ میرے اختیار کی بات ہے، اس نے اگر مجھ پر دن میں پانچ نمازیں اوقات کے تعین کے ساتھ فرض کی ہیں تو یہ میرے دائرۂ اختیار میں ہے اور اللہ تعالیٰ نے کسی بھی شخص کو اس کی حیثیت سے زیادہ پابند نہیں کیا۔ دوسرا حقوق العباد…… جس میں لوگوں کے حقوق کو واضح کر دیا گیا ہے کہ والدین کے حقوق، اولاد کے حقوق، ہمسائے کے حقوق، آجر اور اجیر کے حقوق، مالک اور ملازم کے حقوق، زبردست اور زیر دست کے حقوق اور بڑے چھوٹے کے حقوق کیا ہیں؟ ان تمام میں کسی ایک کا حق دوسرے کا فرض بنتا ہے، مشکل میں کسی کی مدد کرنا،

ایک دوسرے کا خیال رکھنا، احساس کرنا، یہ انسانیت ہے۔ایک شخص کسی جگہ نماز پڑھ رہا ہے اور وہاں کسی کو دل کادورہ پڑ گیا ہے تو اس کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنی نماز توڑ دے اور اس شخص کو ہسپتال پہنچائے، اسی طرح کوئی شخص کسی حادثے میں زخمی ہوگیا ہے تو فوری طور پر اس کی مدد کرکے اسے ہسپتال پہنچایا جائے۔یہ انسانیت کا احترام اور انسانیت کی معراج ہے…… مذکورہ کتاب میں اسلام، اسلامی تعلیمات، اسلام میں خانقاہی نظام کا کردار، عصر حاضر میں تفہیم دین اور دیگراسلامی تعلیمات کے علاوہ کتاب کے آخری حصے میں سوال و جواب کی شکل میں بعض ضروری احکامات کو بھی بیان کیا گیا ہے۔”نشان منزل“ اسلام کے حوالے سے ایک ایسی کتاب ہے جو میٹرک سے لے کر اسلامیات کی اعلیٰ تعلیم تک طلباء کی بہترین رہنمائی کرسکتی ہے اوراسے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی لائبریوں میں ہونا چاہیے کہ تشنگان دین اسلام اس سے کماحقہ استفادہ کر سکیں۔یہ کتاب جہاں تمام ایمان والوں کے لئے ایک نادرتحفہ ہے، وہاں سید محمد حبیب عرفانی، جو حضرت وجیہہ السیما عرفان سرکار کے چشم وچراغ ہیں، نے ایک اعلیٰ دینی کتاب تحریر کرکے اپنے والد محترم کی روح اقدس کو ثواب پہنچایا۔

مزید : رائے /کالم