ایف بی آر، سٹیٹ بینک اور بوڑھے پینشنر(1)

ایف بی آر، سٹیٹ بینک اور بوڑھے پینشنر(1)
ایف بی آر، سٹیٹ بینک اور بوڑھے پینشنر(1)

  



ہمارا ٹیکس اکٹھا کرنے کا سب سے بڑا ادارہ ایف بی آر ہے،جو انکم ٹیکس اور دیگر ٹیکس وصول کرتا ہے۔ ایف بی آر ٹیکس وصول کر کے خزانے میں ڈالے گا تو کاروبار حکومت چلے گا،گویا ملک کی معیشت کا انتظام اور کنٹرول، کاروباری لوگوں کے لئے پروڈکشن (پیداوار) کے حوالے سے آسانیاں مہیا کرنا، مختلف ایسی سکیموں کو متعارف کرانا، جن کے ذریعے کاروباری حلقے ان کے تعین کردہ قواعد و ضوابط کی پابندی کرتے ہوئے ملک بھر میں مختلف کاروبار کرتے ہیں۔ اس سے چیزوں کی پیداوار ہوتی ہے، پھر وہ چیزیں ملک کے اندر بھی استعمال میں لائی جاتی ہیں اور ان کو بیرون ملک ایکسپورٹ بھی کیا جاتا ہے۔ گویا ملکی مفاد میں بہترین اقتصادی حکمت عملی وہ ہو گی، جس سے زیادہ سے زیادہ ریونیو اکٹھا کیا جا سکے۔ ظاہر ہے ہر ملک، ہر چیز تو پیدا نہیں کر سکتا، اس کے لئے بیرونی ممالک سے کچھ اشیاء درآمد اور کچھ برآمد کرنا پڑتی ہیں جس سے ملکی ضروریات کو پور کیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے امپورٹ، ایکسپورٹ کا کاروبارکرنے کے لئے ریاست اس کا بندوست کرتی ہے، تاکہ قومی اقتصادی پالیسی میں توازن پیدا کیا جاسکے۔ ہم جانتے ہیں کہ ساری دنیا کا نظام ہی توازن پر چلتا ہے۔ اگر زندگی غیر متوازن ہو جائے تو مقصد زندگی کا حصول ناممکن ہوگا۔

ان تمام امور کو دین، یعنی مذہبی مراسم اور دنیوی امور سے مل کر بنتا ہے۔ گویا مذہبی مراسم اور دنیوی امور دونوں مل کر ہی دین اسلام کہلائیں گے۔ ان دونوں کے توازن کو برقرار رکھنا حکومت وقت کا کام ہوتا ہے۔ اقتصادی امور کے حوالے سے آج کل خزانے کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، جس کی جگہ ایک زمانے میں لفظ بیت المال مستعمل تھا، جس میں زکوٰۃ، صدقات، عشر وغیرہ ڈالے جاتے تھے اور کاروبار حکومت چلانے کے ساتھ ساتھ مساکین، غرباء کی کفالت بھی کی جاتی تھی۔ مدارس کے ذریعے تعلیم کا انتظام کیا جاتا تھا اور عوام کی صحت وغیرہ کے اخراجات بھی اسی سے پورے کئے جاتے تھے، پاک مال اس میں جمع ہوتا تھا، اس میں حرام مال (سود، ربا وغیرہ) کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ حضرت عمرؓ فاروق نے اپنے دور میں بہت سے ادارے بنائے تھے جن میں ایک بیت المال اور دوسرا پولیس کا نظام تھا، اس کے علاوہ ہر مسلمان مجاہد توہوا ہی کرتا تھا، گویا اقتصادی امور کو چلانے کے لئے بیت المال مختص تھا، جبکہ ریاست کے اندر امن و امان قائم رکھنے کے لئے پولیس کا ادارہ بنایا گیا۔

اس تمہید کے بعد آج کے دور میں سٹیٹ بینک کا اہم کردار ہے۔ پاکستان میں اس ادارے کو سٹیٹ بینک آف پاکستان کہتے ہیں جو تمام بینکنگ سسٹم اور ایف بی آر کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کا کام قومی اقتصادی پالیسی مرتب کرنا، ایف بی آر،دیگر سرکاری ونیم سرکاری اور پرائیویٹ بینکوں کے امور کو کنٹرول کرنا اور ملک کی معیشت کی پالیسیوں کو مرتب کرنا ہوتا ہے تاکہ تمام شعبہ ہائے زندگی میں اقتصادی طور پر توازن قائم رکھا جاسکے۔ اگر امپورٹس زیادہ ہوں گی، تب بھی قومی معیشت پر برے اثرات پڑیں گے اور ایکسپورٹس کم ہوں گی، تب بھی قومی معیشت کا توازن بگڑے گا، لہٰذا اس توازن کو برقرار رکھنے کے لئے سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ گویا سٹیٹ بینک آف پاکستان ایک خود مختار ادارہ ہے۔ سرکاری، نیم سرکاری اور پرائیویٹ بینکوں سے قرضے لینا اور ان کو آگے مختلف معاشی سرگرمیوں میں استعمال کرنے کے لئے حکومت وقت کے ہاتھوں کو مضبوط کرنا، تاکہ حکومت کی گاڑی کا پہیہ چلتا رہے۔

اس کے ساتھ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے قرضے لینا، ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک وغیرہ سے طویل المدتی اور مختصر مدتی منصوبوں (ملکی) کے لئے سرمایہ کاری فراہم کرنا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بیت المال فعال نہیں ہوگا تو پھر ان بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی طرف رجوع کرنا پڑے گا جو ایک مسلمان ریاست کے لئے سراسر خسارے کا سودا ہے۔ سود (گویا ربیٰ) تو سراسر ایک کھلی جنگ ہے، اللہ تعالیٰ کے ساتھ، جس میں خسارہ ہی خسارہ ہے، اس لعنت سے جلد از جلد چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے اس پر سٹیٹ بینک آف پاکستان اور دیگر ملکی مالیاتی اداروں کو کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاک اور حلال مال بیت المال میں جائے اور اسے ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے استعمال میں لایا جاسکے۔

سود ایک ایسی لعنت ہے جو نہ کسی جوان کو چھوڑتی ہے اور نہ کسی بوڑھے کو، حتیٰ کہ وہ بوڑھے پنشنرز جو اپنی زندگی کا قیمتی وقت ریاست پاکستان کی خدمت میں گزارتے ہیں اور اپنے سر کے بال سفید کرتے ہیں، ان کو بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ ان بزرگ بوڑھوں کے بارے میں سورۃ النمل 70، سورۃ الحج 5، سورۃ المومنون 14-12 سورۃ الروم 54,20، سورۃ السجدہ 9-7 میں ذکر ہے۔ اس کے علاوہ سورہ القمان 11-10 سورۂ بنی اسرائیل 49 اور سورۃ المومن 67 میں اس کا ذکر ملتا ہے۔ بہت زیادہ بڑھاپے کو عربی میں ارذل العمر اور اردو میں نکمی عمر کہا گیا ہے۔ ارذل العمر زندگی کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے …… انسان کے بڑھاپے کے مرحلے پر پہنچتا ہے اور اس میں اس کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ ………… کیونکہ یہ ایک فطری امر ہے جو بچہ پیدا ہوا اس نے جوان بھی ہونا ہے (بشرطیکہ زندگی) اور پھر بڑھاپے کی منزل تک بھی پہنچنا ہے، تفسیر دعوۃ القرآن میں مولانا ابونعمان سیف اللہ خالد رقم طراز ہیں ہیں۔ سورۃ النمل 70 اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہیں فوت کرتا ہے اور تم میں سے کوئی وہ ہے جو سب سے لمبی عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے تاکہ وہ جان لینے کے بعد کچھ نہ جانے، بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز پر قادر ہے۔(جاری ہے)

مزید : رائے /کالم