یادِ یارِ مہرباں آئد ہمے!

یادِ یارِ مہرباں آئد ہمے!
یادِ یارِ مہرباں آئد ہمے!

  



نئے موضوعات پر قلم فرسائی کی تلاش مجھے بعض اوقات ماضی کے دھندلکوں میں لے جاتی ہے۔ میرا خیال ہے بعض اوقات قارئین کسی ایک موضوع پر (مثلاً سیاست، سماجیات، اقتصادیات وغیرہ) تحریریں پڑھ پڑھ کر اکتا جاتے ہوں گے۔ ایسے میں کسی کالم نگار کی طرف سے اگر ماضی کے جھروکوں میں سے جھانکتی ہوئی کوئی دلچسپ تحریر سامنے آ جائے تو یہ نیا پن یا جدت اسی بوریت کو دور کرنے کی ایک سعی تصور ہو گی جو اس صفحے کے قارئین پر بعض اوقات مسلط ہو جاتی ہے (یا کر دی جاتی ہے)…… درجِ ذیل سطور میں تقریباً نصف صدی پہلے کا یہ واقعہ جو 1969ء میں مجھے اپنی عسکری ملازمت کے اوائل میں پیش آیا ان واقعات میں شمار ہونا چاہیے جو میری عمر کے لوگوں کو گزرے ایام میں پیش آتے ہیں اور اب ایامِ پیری کے خنک لمحوں میں ایسی دھوپ کا کام دیتے ہیں جس کی گرمائش عشامِ جاں کو ایک ایسا سکون فراہم کرتی ہے جس کو کوئی نام نہیں دیا جا سکتا۔

فوج کی ایک سنہری روایت یہ بھی ہے کہ جب بھی کوئی آفیسر کسی یونٹ میں پوسٹ ہو کر جاتا ہے تو وہ یونٹ کے تمام افسروں کے گھر کال آن کرتا ہے۔

اس میں شادی شدہ یا غیر شادی شدہ ہونے کی شرط نہیں۔ اگر آفیسر شادی شدہ ہو تو خاتون خانہ بھی ساتھ ہوتی ہیں۔ بالعموم اس کال آن کی اطلاع افسر متعلقہ کو ایک دو روز پہلے کرکے اس کا سٹیشن پر ہونا یا نہ ہونا کنفرم کر لیا جاتا ہے۔ ہم بھی جب مردان پہنچے تو سب افسروں کے ہاں کال آن کیا اور جواباً انہوں نے بھی یہی کیا۔ اسی روایت کے تحت جب ہم سنٹر کمانڈانٹ کرنل حمید کے ہاں پہنچے تو دونوں میاں بیوی نے ”پنجابی طریقے“ سے آؤ بھگت کی۔ چند نوالے اردو انگریزی کی ملی جلی کھچڑی کھانے کے بعد پنجابی کے کلچوں اور پراٹھوں تک آگئے۔ اس قسم کی نجی ملاقاتوں میں سینئر یا جونیئر ہونے کا وہ ناگوار امتیاز کہ جو بعد میں فوج نے اختیار کیا، ابھی متعارف نہیں ہوا تھا اور نہ ہی بیگمات اپنے آپ کو سینئر رینک کے اپنے شوہروں سے زیادہ سینئر سمجھتی تھیں۔

ہم چونکہ کمانڈنٹ کے کارڈ پارٹنر بھی بن چکے تھے، اس لئے سنیارٹی کی وہ مرعوب کن فضا جو نیم لیفٹنوں کے گرداگرد طاری رہتی ہے، خاصی رقیق اور لطیف ہو کے رہ گئی تھی۔ فوج کا وہ مقولہ کہ یونٹ میں نیم لفٹین یا لفٹین کو اذن گویائی نہیں ہوتا اور وہ صرف چہرہ نمائی کے لئے میسوں میں آتے ہیں، ہمارے اوپر لاگو نہیں ہوتا تھا۔ شائد اس کی وجہ یہ تھی کہ ہمارے سوا سارے سنٹر میں کوئی نیم لفٹین نہیں تھا، کم سے کم رینک کمپنی آفیسر (کپتان) کا تھا۔ اس لئے سب آفیسر اس بندہ ناچیز کو اپنا بغل بچہ سمجھتے تھے اور ان کے انداز تخاطب میں بھی ایک طرح کی ایسی اپنائیت پائی جاتی تھی جو بڑے اور چھوٹے بھائیوں کے درمیان ہوتی ہے لیکن ایک بار ایک کم ظرف کپتان نے اپنی منصبی حدود کراس کرتے ہوئے تہذیبی حدود بھی پار کرنے کی کوشش کی تو یہ واقعہ سارے سنٹر کے زبان زد ہو گیا۔

کیپٹن بھٹی سنٹر کے ایک سینئر کیپٹن تھے۔ ویسے تو ٹریننگ کمپنیوں کے کمپنی کمانڈر میجر رینک کے تھے لیکن سینئر کپتان ہونے کے ناطے اور نیز فوج میں افسروں کی دائمی قلت کے سبب ایک ٹریننگ کمپنی کے کمپنی کمانڈر تھے۔ ایک روز میس میں دوران گفتگو میجر بی اے سیٹھی نے تاریخ کے اوراق کریدتے ہوئے وضاحت کی کہ مغلوں کی فوج میں صرف چار ذاتوں کو فوجی سروس کے قابل سمجھا جاتا تھا۔ مغل، پٹھان، راجپوت اور سید…… ان کے علاوہ کوئی پانچویں ذات لڑاکا صیغوں (Fighting Arms) میں بار نہیں پاسکتی تھی۔ کیپٹن بھٹی نے نجانے کس وجہ سے اس گفتگو کا برا منایا اور بولا:

”سر! یہ پاکستان آرمی ہے۔ آریہ یا مغل دور کی آرمی نہیں کہ جس میں ذات پات کی تمیز روا رکھی جاتی تھی۔ میں ذات کا بھٹی ہوں لیکن پاک فوج نے مجھے ہنس کے قبول کیا ہے“۔

”بھٹی! بات تمہاری یا میری نہیں ہو رہی۔ میں تو برصغیر کی عسکری تاریخ کا ایک پروفیشنل پہلو آپ لوگوں کو بتا رہا تھا۔“میجر بشارت احمد سیٹھی نے وضاحت کی۔

”سر! آپ جب یہ باتیں کر رہے تھے تو میری طرف مسلسل گھورے جا رہے تھے“۔ بھٹی نے چور کی داڑھی میں تنکا والی بات کی۔

میجر سیٹھی نے صرف اتنا کہہ کر منہ دوسری طرف پھیر لیا۔

This is the way you think, Captain Bhatti!

ترجمہ: بھٹی! یہ سوچ کا انداز صرف تمہارا ہے!

ان بھٹی صاحب کا میرے ساتھ بھی ٹاکرا ہو گیا…… اس نے کہیں مجھے اور خاتون خانہ کو کمانڈانٹ کے گھر سے نکلتا دیکھ لیا تھا۔ اس شام کو جب ہم لوگ میس میں اکٹھے ہوئے تو بھٹی بولا:

”ماسٹر جی! آجکل کمانڈنٹ کے گھر کے بڑے پھیرے مار رہے ہو، کیا ارادے ہیں؟ ہمارے ہاں تو کبھی نہیں آئے۔ زیادہ ”جھولی چک“ بننے کی کوشش نہ کرو“۔

اس طرح کی دوچار ٹانٹیں وہ پہلے بھی میرے اوپر مار چکا تھا اور میں جونیئر ہونے کے ناطے برداشت کر گیا تھا۔ لیکن ان ریمارکس نے میرے اندر کا وحشی پٹھان بیدار کر دیا۔ میں نے بھٹی کو مخاطب ہو کر کہا:

Captain Bhatti! Listen to me carefully. No doubt I am your Junior but you have no right to ridicule me by addressing me as Master ji. Listen again. I am Not Master Ji. I am Lieutenant Jilani. And by the way who and what are you? Should I call you Lohar Ji as by Profession your father is a blacksmith!

ترجمہ: اوئے بھٹی! میری بات غور سے سنو۔ میں تم سے جونیئر ضرور ہوں۔ لیکن تمہیں، مجھے ”ماسٹر جی“ کہہ کر بلانے کا کوئی حق نہیں۔ دوبارہ سن لو کہ میں ماسٹر جی نہیں، لیفٹیننٹ جیلانی ہوں …… اور ویسے تم کیا اور کون ہو؟ کیا میں تمہیں آئندہ”لوہار جی“ کہہ کر بلاؤں کہ تمہارا باپ پیشے کے اعتبار سے لوہار ہے“۔

یہ کہتے ہوئے میں اس کی طرف لپکا۔ وہ تو خیریت گزری، میجر خادم نے مجھے پکڑ لیا اور گھسیٹ کر میس کے اینٹی روم سے باہر لے گئے۔

”جیلانی! تم تو پڑھے لکھے ہو یار! پڑھا لکھا آدمی جلدی جذبات میں نہیں آتا“ میجر خادم نے میرا بازو پکڑے پکڑے نصیحت کرنا شروع کر دی۔

”سر! یہ بھٹی کئی دنوں سے تنگ کر رہا ہے اور میں برداشت کر رہا ہوں۔ اس کا باپ اوکاڑہ کی ستلج کاٹن ملز کے ساتھ ایک چھوٹی سی فرنس (بھٹی) چلاتا ہے اور اس نے مشہور یہ کر رکھا ہے کہ وہ سٹیل مل کا مالک ہے۔ اب میں اسے ”لوہار کا پتر“ کہہ کر پکارا کروں گا۔ آپ دیکھتے رہنا“ جذبات ابھی تک میرے سر پر سوار تھے۔

اس جھگڑے کو سارے میس ویٹروں نے بھی دیکھا اور کیپٹن بھٹی کی ایک سیکنڈ لیفٹیننٹ کے ہاتھوں بے عزتی کے مناظر سے ازبس محظوظ ہوئے۔ موصوف بھٹی، میس والوں کوبھی اکثر ڈانٹ ڈپٹ، طعنہ زنی اور دشنام طرازی کا نشانہ بناتا رہتا تھا۔

اگلی شب جب کارڈ روم میس رمی کا دور شروع ہوا تو چیف انسٹرکٹر، کرنل غنی نے پوچھا:”جیلانی! سنا ہے کل تم نے کیپٹن بھٹی کے ساتھ زیادتی کی تھی؟“

”کرنل غنی! ایہہ بھٹی توں پچھو…… ول اوہنے جیلانی نوں زیادتی کیوں کرن دتی؟…… اس دا پنڈا لوسدا ہوسی نا“ کرنل میلا (اے کیو) نے اپنے مخصوص سرگودھوی لہجے میں، تاش کا پیک دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر انٹرمکسنگ کرتے ہوئے یہ عجیب و غریب وضاحت کی جس پر کمانڈنٹ نے قہقہہ لگایا اور ہم پتے جوڑنے لگے۔

پتے جڑتے رہے اور رمی چلتی رہی…… ایک روز چیف انسٹرکٹر کرنل غنی چھٹی پر تھے تو چوتھے درویش کے لئے میجر محمد خان کو بلوا لیا گیا…… رات کے بارہ بج گئے اور میجر صاحب نے ایک بار بھی گیم ڈکلیئر نہ کی تو خاصے افسردہ ہوگئے۔ کمانڈنٹ اور ڈپٹی کمانڈنٹ کی مسلسل ٹانٹوں اور فقرے بازیوں نے موصوف کو اور بھی شرمندہ کر دیا تو میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”جیلانی! تمہارے نوکر آج میرے گھر سے کچنار توڑ کرلے گئے تھے۔ ان کو روکا کرو۔“

”اوئے ویول یار! توں کچنار نوں کی کریسیں؟ کسے غریب دی کم پئی آندی اے تے آون دے“۔ کرنل میلانے میجر محمد خاں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اور پھر میری طرف متوجہ ہو کر پوچھا:”جیلانی! تیرے کِنےّ نوکر نیں؟“

”سر ایک تو میرا سرکاری بیٹ مین سپاہی مومن خان ہے اور دوسرا میرا کک حاکم علی ہے جو میں اپنے گاؤں سے ساتھ لایا تھا“۔

”اویار! توں انج کریں سیں کہ کچنار دی بھاجی کل ویول نوں ضرور بھیج سیں!“ کرنل میلانے پتے تقسیم کرتے کرتے گویا حکم دیا۔

موصوف میجر محمد خان برما کی جنگ میں ملٹری کراس حاصل کر چکے تھے۔ عمر کوئی 58، 59کے لگ بھگ ہوگی۔ فیلڈ مارشل ویول کے تن و توش اور قدبت کے حامل تھے۔اور انہی کی طرح ان کا ”مہاندرا“ بھی ویول کی طرح پدرانہ نوعیت کا تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ریکارڈ آفس میں کام کر رہے تھے۔ جو ان اور شادی شدہ بیٹے بیٹیوں کے علاوہ جو پہلی مرحومہ بیوی کے بطن سے تھیں، ان کی دو خوبصورت پھول سی بچیاں بھی تھیں جو دوسری بیگم سے تھیں جو خود بہت خوبرو اور تقریباً 19، 20 برس کی تھیں۔ان کی یہ بچیاں سارا سارا دن میرے گھر میں آ کر میرے بچوں کے ساتھ کھیلتی رہتیں …… اور جہاں تک کچنار توڑنے کا الزام تھا تو وہ درست تھا!

قصہ یہ تھا کہ میرا گھر اور محمد خان کا گھر برطانوی دور میں ایک ہی گھر ہوتا تھا۔ بڑا وسیع و عریض اور لمبا چوڑا…… اب اس کے دو حصے بنا دیئے گئے تھے۔ پھر بھی ہر حصے میں چار چار بیڈ روم تھے۔ اونچی اونچی اور موٹی موٹی دیواریں اور چھتوں، سے لٹکتے برٹش عہد کے بجلی کے پنکھے جو بے آواز تھے اور کبھی خراب ہونے کا نام نہیں لیتے تھے۔ دونوں گھروں میں داخل ہونے کا گیٹ ایک ہی تھا۔ بیج میں ایک دیوار کھڑی کرکے اس ”حویلی“ کو دو برابر برابر حصوں میں بانٹ دیا گیا تھا۔ یہ محض اتفاق تھا کہ محمد خان کے صحن والے حصے میں کچنار کے چارپانچ درخت تھے اور میرے لان میں سرو اور چنار کے کئی بلند و بالا درخت تھے…… اب کچنار چوری کا قصہ بھی سن لیجئے۔

”سر! آج میرا دل کرتا ہے قیمہ کچنار پکائی جائے“ میرے کک حاکم علی نے دفتر جاتے ہوئے ایک روز تجویز دی۔

میں دفتر سے واپس آیا تو کھانے کی میز پر قیمہ کچنار کی لذیز ڈش دیکھ کر خوش ہوا لیکن جب کھانے کے بعد ہاتھ دھو چکا تو خاتون خانہ نے کن انکھیوں سے دیکھتے ہوئے کہا: ”جیلانی صاحب! ایک بات بتاؤں؟آپ ناراض تو نہیں ہوں گے؟“

”بتاؤ، بتاؤ…… ناراض کاہے کو ہوں گا؟“ میں نے انہیں خواہ مخواہ کی تسلی دی۔

”آج کی ڈش فل بٹہ فل چوری کی تھی جو آپ نے مزے لے لے کر کھائی ہے…… اس الو کے پٹھے حاکم علی نے مجھے ابھی ابھی بتایا ہے“ بیگم نے کک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جو ازراہ فخر کونے میں سینہ پھلائے کھڑا مسکرائے جا رہا تھا۔

”کیوں حاکم علی؟ کیا قصہ ہے یہ؟“ میں نے ازراہِ تجسس پوچھا۔

حاکم علی ڈونگہ بونگہ، بہاول نگر کا ایک دیہاتی ساکسان زادہ تھا۔ لیکن غضب کا باورچی تھا۔ کہنے لگا:

”سرجی! میجر صاحب (محمد خان) نے جو ڈیڑھ دو سو مرغیاں اپنے گھر میں پال رکھی ہیں، وہ سارا سارا دن ہمارے لان میں آ کر گند ڈالتی ہیں اور مجھے شام کو سارا لان صاف کرنا پڑتا ہے۔ صبح تو خیر سرکاری سویپر آ کر صفائی کر جاتا ہے“۔

”تو پھر؟…… آگے بکو!“ میں نے پوچھا۔

”میں نے دو ککڑیوں کو کوڈی ڈالی اور کچنار میجر صاحب کے ہاں سے توڑی…… اور……“

”اور کے بچے، مسز محمد خان نے نہیں دیکھا اور روکا نہیں؟“

”سر! وہ تو سارا سارا دن نجانے کس کمرے میں سوئی رہتی ہیں اور کیوں سوئی رہتی ہیں …… یہ کچنار صرف ایک آدھ ہفتہ ہوتی ہے بعد میں اس کے پھول بن جاتے ہیں …… میں نے تو صرف ایک دو شاخیں توڑی ہیں، باقی جوں کی توں ہیں اور انشا اللہ…… اور مرغیوں کو اپنے لان میں روکنے کا یہی علاج ہے کہ ان کو ایک ایک کرکے کوڈی ڈال کر ختم کر دیا جائے“۔ حاکم علی نے گویا اپنا آیندہ کا پلان فاش کر دیا۔

”آئندہ یہ حرکت نہ کرنا، حرام خور! تونے آج کا کھانا حرام کھاتے میں کھلایا ہے…… اللہ ہمیں معاف کرے!“

مزید : رائے /کالم