ٹی ایم اے کوھاٹ میں 46دستکاری اساتذہ فکسڈ تنخواہ پر بھرتی

  ٹی ایم اے کوھاٹ میں 46دستکاری اساتذہ فکسڈ تنخواہ پر بھرتی

  



کوھاٹ (بیورو رپورٹ) مالی بحران کا شکار ٹی ایم اے کوھاٹ میں 46دستکاری ٹیچرز فکسڈ تنخواہ پر بھرتی‘ تین کمپیوٹر ٹیچرز سمیت تین مستقل دستکاری ٹیچرز بھی تعینات مگر طالبات کی تعداد کسی کو معلوم نہیں‘ تفصیلات کے مطابق ٹی ایم اے کوھاٹ جو کہ گزشتہ کئی سالوں سے مالی بحران کا شکار ہے اس دیوالیہ ٹی ایم اے میں جہاں درجنوں نائب قاصد اور چوکیدار تنخواہیں وصول کر رہے ہیں وہیں پر ذرائع کے مطابق 5000 روپے ماہانہ تنخواہ پر 46 لیڈی دستکاری ٹیچرز بھی بھرتی ہیں جن کی ماہانہ تنخواہ 2 لاکھ 30 ہزار جبکہ سالانہ 27 لاکھ 60 ہزار بنتی ہے ان دستکاری ٹیچرز کے علاوہ BPS تین‘ 6 اور 9 کی 6 مستقل ٹیچرز سمیت 3 کمپیوٹر ٹیچرز بنیادی سکیل 07 میں خدمات انجام دے رہی ہیں جن کی نگرانی کے لیے سکیل 14 کی ایک سپروائزر بھی موجود ہیں کوھاٹ میں یہ دستکاری سینٹرز زیادہ تر گھروں میں قائم ہیں مگر گزشتہ کئی سالوں سے ان سینٹرز میں کتنی طالبات نے داخلہ لیا کتنی طالبات نے کورسز مکمل کیے کب اور کس نے ان میں سرٹیفکیٹ تقسیم کیے ان دستکاری سینٹرز کو کیا سہولیات فراہم کی گئیں کچھ پتہ نہیں گزشتہ مہینوں میں جب میلم سینٹر دستکاری اور کمپیوٹر سینٹر سے سامان دوسری جگہ شفٹ کیا جا رہا تھا تو اس سینٹر کی اپنی حالت تباہ کن تھی جہاں پر زمانہ قدیم کے کمپیوٹرز اور مشینیں ٹوٹی پھوٹی حالت میں پڑی اپنی قسمت پر رو رہی تھیں ضلعی انتظامیہ اور ٹی ایم اے افسران کو چاہیے کہ ان دستکاری سینٹرز کو فعال بناتے ہوئے سوشل ویلفیئر کے حوالے کریں جہاں پر نہ صرف ان کی مناسب نگرانی ہو سکے بلکہ طالبات کو سیکھنے کے لیے اچھی حالت میں مشینیں اور دوسرا سامان بھی دستیاب ہو بصورت دیگر ان دستکاری سینٹرز کا کسی کو کچھ فائدہ نہیں البتہ ٹی ایم اے کو سالانہ لاکھوں روپے کا نقصان ضرور ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر