سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ٹرائل کورٹ میں کارروائی رکنی نہیں چاہئے، سپریم کورٹ: فریقین کل طلب

  سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ٹرائل کورٹ میں کارروائی رکنی نہیں چاہئے، سپریم کورٹ: ...

  



اسلام آباد (آئی این پی) سپریم کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی دوسری جے آئی ٹی کی درخواست پر(کل) جمعرات کو تمام فریقین کو پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے نوٹسز جاری کر دیئے، چیف جسٹس گلزار احمد خان نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ٹرائل کورٹ میں کارروائی رکنی نہیں چاہیے، کیس کو جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے تا کہ متاثرین کو انصاف فراہم ہو۔ منگل کو سپریم کورٹ میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی دوسری جوائنٹ انویسٹی گیشن کی بحالی درخواست کی سماعت ہوئی، سپریم کورٹ نے ماڈل ٹاؤن متاثرین کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے، دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پنجاب حکومت نے دوسری جے آئی ٹی بنانے کی ذمہ داری لی تھی، جس پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ نئی جے آئی ٹی 80فیصد کام مکمل کر چکی تھی، جس پر جسٹس سجاد علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا اس مرحلے میں دوسری جے آئی ٹی بنانے میں قانونی رکاوٹ ہے، جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ دوسری جے آئی ٹی بنانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ حکومت نئی جے آئی ٹی سے اضافی تحقیقات کرانا چاہتی ہے تو کرالے۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ٹرائل، کورٹ میں کارروائی نہیں رکنی چاہیے،عدالت نے کیس کی سماعت 13فروری تک ملتوی کرتے ہوئے تمام فریقین کو پیش ہونے کے نوٹسز جاری کر دیئے۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن

اسلام آباد (آئی این پی) سپریم کورٹ نے کراچی میں پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والی بچی امل کی ہلاکت سے متعلق کیس میں سندھ حکومت کو بچی کے والدین کو 5لاکھ اور امل ٹرسٹ کو 5 لاکھ معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس نمٹا دیا،چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ امل جیسے واقعات سن کر ہمارا دل پھٹ جاتا ہے، پولیس نے مارنا کسی کو ہوتا مار کسی اور کو دیتے ہیں، ایک سپاہی کے پاس تو بڑی بندوق ہونی ہی نہیں چاہیے، سپاہی کے پاس صرف 9ایم ایم پستول ہونی چاہیے، پولیس میں سپاہی کا کوئی کام نہیں ہوتا، صرف افسران ہی پولیس کی عزت کروا سکتے ہیں، کانسٹیبل نہیں، کانسٹیبل صرف حکم مانتا اور اپنے کام نکالتا ہے، محکمہ بدنام ہونے پرکانسٹیبل کو کوئی فکر نہیں ہوتی،کراچی میں دن دیہاڑے شہریوں کو لوٹ لیا جاتا ہے یہاں تک کہ بچوں سے ان کے اسکول کے بستے تک چھین لیے جاتے ہیں، '4لوگ ایک نوجوان پر اسلحہ تان لیں تو وہ کیا کرے گا، سٹریٹ کرائم میں کون ملوث ہے پولیس کو معلوم ہے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔عدالت نے سندھ حکومت کو امل عمر کے والدین کو 5لاکھ روپے اور امل ٹرسٹ کو 5لاکھ روپے دینے کا حکم دیتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل کو معاوضے کی ادائیگی کے بعد رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا۔دوران سماعت کمسن بچی امل عمر کے والدین کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی کمیٹی کی سفارشات پر عمل نہیں کیا گیا اور سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے خلاف کاروائی نہیں ہوئی۔چیف جسٹس نے بتایا کہ جو جو اس واقعے میں ملوث تھا ان سب کے خلاف کاروائی ہوگی۔جسٹس سجاد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کراچی میں رینجرز نے لڑکے کو گولی مار کر ہلاک کیا تھا، ان رینجرز اہلکاروں کو بھی بری کر دیا گیا تھا، غلطی پولیس والوں سے بھی ہوسکتی ہے۔

امل واقعات

مزید : پشاورصفحہ آخر