مولانا فضل الرحمن نے راز کی بات کہہ دی،چودھری برادران مشکل میں!

مولانا فضل الرحمن نے راز کی بات کہہ دی،چودھری برادران مشکل میں!

  



جمعیت علماء اسلام(ف) کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں اور انہوں نے اپنی توجہ کا مرکز ان دینی، سیاسی جماعتوں کو بنا لیا ہے،جن کے ساتھ اب نیا اتحاد بنا اور تحریک کا فیصلہ ہوا ہے۔مولانا دو تین روز قبل اچانک پشاور اور اسلام آباد کے بعد لاہور پہنچ گئے اور یہاں مرکزی جماعت اہلحدیث کے سربراہ پروفیسر ساجد میر کے ساتھ طویل نشست کی۔پروفیسر ساجد میر نے ان کو اپنے مکمل ترین تعاون کا یقین دِلا دیا، محترم ساجد میر مسلم لیگ (ن) کے پکے اور معتبر حلیف ہیں کہ اسی جماعت کے تعاون سے سینیٹر ہوئے۔یوں مولانا نے بظاہر تو یہ کہا کہ وہ اپنی حالیہ تحریک میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کو خود مدعو نہیں کریں گے تاہم وہ لوگ خود آئیں تو الگ بات ہے۔ مولانا نے دھرنے والے نو جماعتی اتحاد میں سے مسلم لیگ(ن)، پیپلزپارٹی اور اے این پی کو الگ کر دیا کہ ان جماعتوں نے ان کی حمایت تو کی، لیکن ساتھ نہ دیا اور ”اہم قانون“ کی منظوری کے لئے حکومت کا مکمل ساتھ دیا، حتیٰ کہ پیپلزپارٹی نے بل میں پیش کرنے کے لئے دی گئی ترامیم کی تحریک بھی واپس لے لی،تاہم اندازہ یہی ہوتا ہے کہ وہ ان جماعتوں کو خوش آمدید کہہ لیں گے اگر وہ بھی مہنگائی کے خلاف تحریک میں شامل ہوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی الگ الگ مہنگائی پر احتجاج کر رہی ہیں اور پیپلزپارٹی نے تو جلسے شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہوا ہے،جبکہ مسلم لیگ(ن) اپنے طور پر مہنگائی کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں،اس طرح ان کی واپسی ناممکن نہیں۔

مولانا فضل الرحمن طویل تجربہ کے حامل ہیں، نوجوانی سے اس جواں سالی تک بہت زیادہ نشیب و فراز دیکھ چکے ہیں،اِس لئے اکثر بہت اہم گفتگو عام انداز میں کر جاتے ہیں،حضرت نے لاہور ہی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پہلے تو مسلم لیگ(ق) کے اہم ترین رہنما اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی سے کہا کہ وہ اب دھرنا ختم کرانے کے حوالے سے ان(فضل الرحمن) سے ہونے والی وہ گفتگو سنا ہی دیں جو انہوں نے امانت کے طور پر دِل میں رکھی ہوئی ہے،اس کے بعد مولانا نے سوالات کے جواب میں بتا دیا کہ ان کے ساتھ وعدہ کیا اور یقین دلایا گیا کہ استعفیٰ ہو گا اور اس کے بعد تین ماہ کے اندر اندر نئے انتخابات ہو جائیں گے۔ مولانا نے یہ گفتگو اس اہم ترین ملاقات سے ایک روز پہلے ہی لاہور میں کی، جو سوموار کو حکومتی کمیٹی اور مسلم لیگ(ق) کے اکابرین کے ساتھ ہوئی اور سیاسی امور زیر غور آئے۔ یہ قدرتی امر ہے کہ مولانا کی گفتگو کے اس حصہ پر بھی بات ہوئی جو انہوں نے لاہور میں کی۔ چودھری حضرات کی طرف سے وضاحت بھی نہیں دی گئی، تاہم شیشے میں بال تو آ گیا کہ چودھری کیسے،ایسی گفتگو کر سکتے ہیں،چنانچہ انہوں نے تردید بھی کی تاہم یہ امر خالی از دلیل نہیں کہ مسلم لیگ(ق) نے مولانا کو یہ پیشکش کیسے کر دی؟ مسلم لیگ(ق) کی طرف سے وزیراعظم کی مخالفت یا تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد توڑنے کی ہمیشہ تردید کی گئی ہے تاہم پھر بھی دال میں کالا تو نظر آتا ہی ہے! اور اس پر حکومتی ٹیم نے مذاکرات سے قبل اپنی میٹنگ میں بھی غور کیا تھا،کیونکہ یہ بہت اہم بات ہے اگر اس میں کچھ بھی سچائی ہے تو پھر وزیراعظم کو بھی تحفظ رکھنے کا حق حاصل ہو جاتا ہے۔بہرحال مسلم لیگ(ق) کے ساتھ یہ میٹنگ ختم ہوتے ہوتے رہی اور اس کے حوالے سے خبریں ملتی رہیں گی۔لاہور کی میٹنگ کو فریقین نے کامیاب قرار دیا، مستقبل کا انتظار رہے گا۔

سری لنکا کے بعد بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کی لاہور آمد نے اس شہر میں بھی سماجی اور کھیلوں کی سرگرمیوں کو مہمیز دی ہے، کرکٹ کے بعد لاہور ہی میں پنجاب ہی کے روایتی کھیل کبڈی کا میلہ جم گیا ہے،اور یہاں پنجاب سٹیڈیم میں کبڈی کے عالمی کپ مقابلے ہو رے ہیں، دلچسپ امر یہ ہے کہ اس ورلڈکپ میں جو نو ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں ان میں مغربی ممالک آسٹریلیا، کینیڈا اور جرمنی جیسے ممالک کی ٹیمیں بھی ہیں اور بھارتی ٹیم بھی حصہ لینے پہنچ گئی ہے۔اس حوالے سے یہ بھی خبر ہے کہ بی جے پی حکومت بہت برہم ہے اور اس کا موقف ہے کہ کبڈی ٹیم حکومتی اجازت(این او سی) کے بغیر گئی اس سلسلے میں امیگریشن کے دو افسر معطل کر دیئے جانے کا بھی خبر میں ذکر موجود ہے۔بہرحال یہ ان کا معاملہ ہے کہ بھارتی ٹیم مجموعی طور پر بھارتی پنجاب سے تعلق رکھنے والوں پر مشتمل ہے،جہاں کانگرس کی صوبائی حکومت ہے۔

میٹرو پولیٹن کارپوریشن اور ایل ڈی اے کی طرف سے تجاوزات ختم کرنے کی مہم کا ذکر کیا جاتا تاہم خبر یہ دی جاتی ہے کہ فلاں فلاں علاقے سے اتنے ٹرک سامان قبضہ میں لے لیا گیا یا تھڑے مسمار کئے گئے یہ سب عارضی ہے کہ اہلکار مستقل تجاوزات کو نہیں چھیڑتے اور بنچ، کرسیاں اٹھا کر لے آتے ہیں، مرکزی شاہراہوں پر مستقل دکان داریاں نظر نہیں آتیں۔ یوں بھی ایل ڈی اے جو لاہور کا ترقیاتی ادارہ ہے اس کی مہربانی ہی سے شہر کا حلیہ خراب ہے کہ شہر کی قریباً تمام اہم مرکزی سڑکوں کو کمرشل قرار دے دیا گیا ہے، حتیٰ کہ جنرل غلام جیلانی(مرحوم) کے دورِ گورنری میں جیل روڈ، گلبرگ اور بعض اہم علاقوں کو تجارتی بنانے کی جو ممانعت رکھی گئی تھی اس کا بھی خیال نہیں کیا گیا، جوہر ٹاؤن کی ہر سڑک کمرشل ہے، وحدت روڈ پر ایک سرے سے آخری کونے تک پلازہ، دکانیں، تعلیمی ادارے اور شادی گھر قائم ہو چکے ہیں اور یہ سب وحدت روڈ کے دونوں طرف اور سروس روڈ کے درمیان گرین بیلٹوں پر بھی قابض ہیں اور یہ گرین بیلٹیں پارکنگ کے کام آ رہی ہیں،ان کی گھاس ختم،پودے توڑ دیئے گئے اور کناروں پر لگے لوہے کے جنگلے بھی غائب ہیں،نہ تو ایل ڈی اے والے، نہ ہی پی ایچ اے والے اور ٹاؤن (میٹروپولیٹن کارپوریشن) والے کوئی کارروائی کرتے ہیں۔یہ سلسلہ جاری اور وزیراعظم کے گرین پاکستان منصوبے کا منہ چڑا رہا ہے۔یہ کام چوری مسلسل جاری ہے، حتیٰ کہ گدھے، بھینسیں اور گائے بھی یہیں سے ”کھانا تناول“فرماتی ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1