معاشی خوشحالی کی توقع، ملکی سیاسی استحکام سے منسلک ہے، مہنگائی کی دہائی خود وفاقی وزرا نے دی

معاشی خوشحالی کی توقع، ملکی سیاسی استحکام سے منسلک ہے، مہنگائی کی دہائی خود ...

  



ملتان کی سیاسی ڈائری

شوکت اشفاق

ملک میں سیاسی استحکام ہوگا تو معاشی خوشحالی کی توقع کی جاسکتی ہے معاشیات کا اصول یہ ہے کہ اگر حکومت وقت کمزور ہوگی تو ناجائز منافع خور طاقتوں ہوں گے جس کا تمام تر اثر اقتصادی ترقی پر آئے گا مہنگائی میں غیر معمولی اضافہ ہوگا مقامی کرنسی کمزور برآمدات کم اور درآمدات میں اضافہ ہوگا چور بازاری حکمرانی کرے گی۔ اب شاید مسند اقتدار پر براجمان ہونے والوں کو اس کا ادراک نہیں ہورہا حالانکہ جمہوری اصولوں اور جمہوریت کے مطابق یہ اپوزیشن کو دیکھنا چاہیے تھا مگر اس مرتبہ یہ بھی الٹ ہورہا ہے کہ شامل اقتدار آواز بلند کررہے ہیں کہ مہنگائی سے عوام کی زندگیاں مشکل میں ہیں زندگی اجیرن ہورہی ہے گذارہ کرنا انتہائی مشکل اور درد ناک بنتا جارہا ہے یہ بات کسی ایک غیر ذمہ دارمحض رکن اسمبلی نے بغض معاویہ میں نہیں کہی بلکہ پی ٹی آئی کے روشن دماغ اور وزیراعظم عمران خان کے سیاسی وغیر سیاسی کار خاص سابق وزیر خزانہ اور اب منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر اسد عمر نے کسی دباؤ کے بغیر زچ ہوکر کہی ہے واقف حال بتاتے ہیں کہ یہ وفاقی وزیر مہنگائی ہاتھوں جکڑے عوام کی چیخوں سے پریشان ہیں اور مہنگائی کو بے قابو جن قرار دے رہے ہیں اور ساتھ ہی ان سرکاری اعداد وشمار کا بھانڈا بھی پھوڑ دیا ہے جس میں موجودہ مہنگائی کی شرح کو محض 12فیصد قراردیا جارہا ہے موصوف کا کہنا ہے کہ یہ دراصل 14.6ہے جو گزشتہ دہائیوں میں سب سے زیادہ ہے یا کم از کم پی ٹی آئی کی حکومت میں تو ہے ہی‘ ادھر وزارت خزانہ کی رپورٹ بھی مالیاتی خسارے نواعشاریہ چار فیصد بڑھنے کی خبر دے رہا ہے جو قرضوں کے حجم میں اضافے کے باعث ہے جو بڑھ کر 402کھرب ہوگیا ہے یعنی مجموعی قرض اور واجبات میں 35فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ حالانکہ معیشت کے موجودہ ارسطو سال 2018-19میں مالیاتی خسارے کی توقع 4فیصد تک کررہے تھے لیکن یہ دوگنا سے بھی بڑھ چکا ہے اور تشویش ناک امر یہ ہے کہ 15ماہ کے عرصہ میں تبدیلی حکومت نے 38فیصد مقامی اور 35فیصد غیر ملکی قرضے لئے ہیں جس کا اثر اس وقت مہنگائی کی صورت میں عوام بھگت رہے ہیں جبکہ دوسری طرف آئی ایم ایف کا وفد ایک مرتبہ پھر اسلام آباد آچکا ہے جو 38کروڑ ڈالر کی تیسری قسط کیلئے مذاکرات کررہا ہے جس کیلئے آئندہ چند روز میں ایک اور منی بجٹ لایا جارہا ہے جو یقینا عوام کیلئے ایک اور تبدیلی ہوگی۔ اب وہ کیا کاریگری کرتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکتا ہے لیکن ایک اور اعدادوشمار حیران کن ہیں کہ بہت جتن کے باوجود محصولات کی وصولی میں 250ارب روپے سے زیادہ کمی آچکی ہے جو معیشت کے لئے اچھا اشارہ نہیں ہے۔

چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو شبر زیدی کے ایک مرتبہ پھر لمبی چھٹی پر بھی جانے کی یہی وجہ ہوسکتی ہے کیونکہ محصولات میں اتنی زیادہ کمی پہلے کبھی ریکارڈ نہیں ہوئی خدشہ ہے کہ یہ مزید بڑھ سکتی ہے کیونکہ اس سمت دوسری صنعت کے کاروباری لوگوں نے حکومتی اقدامات کے خلاف غیر معینہ مدت تک ہڑتال پر جانے کا فیصلہ کیا،ان کا کہنا یہ ہے کہ بجلی، گیس محصولات کی مد میں اس قدر اضافہ کردیا گیا ہے کہ اب صنعتی یونٹوں کا پیداوار جاری رکھنا مشکل ہوچکا ہے ان کے مطابق 22لاکھ مزدور پہلے ہی بے روزگار ہوچکے ہیں اور اگر حکومت نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لئے تو پھر ہم صنعتیں بند کردیں گے کیونکہ ہمارے پاس مزدوری کو معاوضہ دینے کیلئے فنڈز نہیں ہوں گے۔ اب اس پر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وفاقی حکومت فوری طور پر اقدام کرتی اور متعلقہ وزراء معیشت میں ریڑھ کی اس ہڈی کو مطمئن کرنے کیلئے کوئی اقدامات کرتے لیکن بھلا ہو ان اپاہج حکمرانوں کا کہ انہوں نے گورنر پنجاب چوہدری سرور کو مذاکرات کیلئے فیصل آباد بھجوادیا جو کچھ کرسکتے تھے کرچکے نتیجہ یہ ہو اکہ ہڑتال پر آمادہ دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئے اب ہڑتال ہوتی یا نہیں اس کا اثر حکومت پر آچکا جس کا اندازہ ان کے اپنے اتحادی سیاسی دوستوں سے لگایا جاسکتا ہے اب بھی وفاقی حکومت بیدار ہوتی ہے کہ نہیں اس کا اندازہ لگانا مشکل ہی ہے لیکن گورنر چوہدری محمد سرور کی کچھ خوبیوں کی داد دینا پڑے گی کہ ایک طرف تو یہ وہ اکیلے ہی ملک بھر کے صنعت کاروں کے ساتھ مذاکرات کرتے رہے تو دوسری طرف انہوں نے نہ صرف اپنی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا ڈالا اور خاص طور پر جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے نام پر اکٹھے ہوکر پی ٹی آئی کے ساتھ الحاق اور پھر 100دن میں ایک صوبہ بنانے کی خوشخبری سنانے والوں کا کچا چٹھا بھی کھول کر رکھ دیا صاف اور آسان الفاظ میں گویا ہوئے کہ جنوبی پنجاب کی سیاست پر چھائی اشرافیہ نہیں چاہتی کہ پنجاب تقسیم ہو اور الگ صوبہ بنے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تمام اشرافیہ کے محلات لاہور کے پوش ترین علاقوں میں ہیں اور ان کے بیوی بچے یہاں رہتے ہیں پڑھتے یہی ہیں اب وہ کب چاہیں گے یہ الگ صوبہ بن جائے ہاں البتہ یہ ہوسکتا تھا کہ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے نام پر پی ٹی آئی میں آنے والے سیاستدان جب کامیاب ہوئے تھے تو وہ سو دن مکمل ہونے سے پہلے اسلام آباد میں اتحاد اور اتفاق کرلیتے اور وزارتیں لینے کی بجائے یکجہتی سے پریس کانفرنس کرکے اپنے الگ صوبے کا حق مانگتے، مگر اب وقت گذر چکا ہے ا ب تو الگ صوبہ مانگنے والے روٹی مانگ رہے ہیں کیونکہ گندم پیدا کرنے والے کے پاس اس وقت آٹا نہیں ہے ویسے برسبیل تذکرہ حکومت یہ اندازہ بھی لگائے کہ ملکی ضرورت کے مطابق کاٹن بھی پوری نہیں آنے والی برآمد کے بعد مال درآمد کرنے والا مافیا پھر سلام کرنے والا ہے کیونکہ انہیں عوام کی دردناک دہائی سے کوئی سروکار نہیں ہے۔

ادھر چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس گلزار احمد اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس شیخ مامون الرشید نے ملتان کا دورہ کیا، لاہور ہائی کورٹ بار ملتان بنچ کی طرف سے منعقدہ سیمینار میں بھی شرکت کی چیف جسٹس آف پاکستان نے ایک مرتبہ پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ عدلیہ کمزور ہے اور نہ کسی کے دباؤ میں آئے گی۔ ہمیں اپنے اختیارات کا علم ہے لوگوں کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں اور گھبراتے نہیں جو بھی سامنے آئے آجائے انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جائے گا ہمارے اندر کوئی کمزوری نہیں ہے کہ ہم لڑکھڑا جائیں۔ انہوں نے ملتان میں درختوں کی کمی اور سٹریٹ لائٹس کا مسئلہ حل کرنے کا حکم جاری کیا دوسری طرف مقامی ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے مل کر ایک دن پورے شہر کی مخصوص اور معروف ترین سڑکوں کو نہ صرف بلاک رکھا بلکہ متبادل روٹ پر ٹریفک چلنے کی اجازت نہ تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کچھ مقامات پر ٹریفک 4سے 6گھنٹے تک جام رہا اور رات گئے تک نہ چلا بلاک ہونے والی سڑکوں پر کاروبار زندگی بھی معطل ہی رہا‘ معلوم نہیں ایسا کس کی ہدایت پر کیا گیا۔

مزید : ایڈیشن 1