عدالت عظمیٰ کے ریمارکس، سندھ حکومت پھر متحرک، تجاوزات کے نام پر مکان مسمار، متبادل نظام نہیں

عدالت عظمیٰ کے ریمارکس، سندھ حکومت پھر متحرک، تجاوزات کے نام پر مکان مسمار، ...

  



ڈائری۔ کراچی۔مبشر میر

وفاق، سندھ رسہ کشی میں ہر طرح کا نزلہ گورنر سندھ پر ہی گرتا ہے، موجودہ گورنر سندھ عمران اسماعیل نے جب سے چارج سنبھالا ہے، سندھ اسمبلی مسلسل ان کے اختیارات میں کمی کے ترمیمی بل پاس کرنے میں لگی ہوئی ہے، اور ایسا دکھائی دیتا ہے کہ پیپلز پارٹی 18ویں ترمیم کے استعمال سے وفاق کے نمائندے کو دن بدن ڈی گریڈ کرتی جارہی ہے۔ یہ رفتار اسی طرح جاری رہی تو شاید ایک وقت وہ بھی آئے گا کہ گورنر سندھ کے اختیارات نام کی کوئی چیز نہ رہے اور محض گورنر ہاؤس تک ہی محدود ہوجائیں۔ سندھ اسمبلی سے حال ہی میں بل پاس کیا گیا ہے کہ محتسب اعلیٰ کا تقرر گورنر سندھ کی بجائے وزیراعلیٰ سندھ کریں گے۔ بل پاس ہونے کے بعد گورنر عمران اسماعیل نے دستخط کرنے میں تاخیر کی تو اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اسے نافذ العمل کردیا، گورنر سندھ سے یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا تقرر بھی واپس لیا جاچکاہے۔

تحریک انصاف کی سندھ اسمبلی میں اپوزیشن خاموش تماشائی کی صورت میں موجود ہے، اگر چہ پیپلز پارٹی اپنی مرضی سے ہر طرح کے بل پاس کرنے کی اکثریت رکھتی ہے، لیکن دکھائی یوں دیتا ہے کہ سیاسی جماعتوں نے باہمی رضامندی سے اپوزیشن کا کردار دفن کردیا ہے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے مرکز میں اپوزیشن کی حقیقی آواز دبادی ہے اور صوبائی اسمبلیوں میں بھی کیفیت اس سے مختلف نہیں۔ تحریک انصاف سندھ اسمبلی میں اپنی موجودگی کا احساس دلانے سے بھی باز آچکی ہے۔ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر گذشتہ 18 ماہ سے عوام میں یہ تاثر قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے کہ وہ متبادل وزیراعلیٰ ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کے کئی اراکین اسمبلی (صوبائی/قومی) کاروباری اعتبار سے بلڈرز گروپ میں شمار ہوتے ہیں، ان کا سیاسی قد کاٹھ بھی کچھ زیادہ نہیں اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی زد پڑ سکتی ہے،لہٰذا اپوزیشن جو جمہوریت کا حُسن ہے، اب ماند پڑ گیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور گورنر سندھ عمران اسماعیل کے درمیان ملاقات بھی ہوئی ہے، ابھی بھی آئی جی سندھ کی تقرری کا معاملہ کھٹائی میں پڑا ہوا ہے، اب جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک مرتبہ پھر کراچی بدامنی کیس کی سماعت شروع کردی ہے، دو دن سپریم کورٹ نے سندھ انتظامیہ اور کے ایم سی پر تابڑ توڑ حملے کیے جس کے نتیجے میں بلاول ہاؤس ا ور وزیراعلیٰ سندھ ہاؤس میں کھلبلی مچ گئی۔ اہم اجلاس منعقد ہوئے اور آئندہ سماعت تک کئی معاملات کی پیش بندی کیلئے سندھ حکومت کے اہم راہنما سرجوڑ کر بیٹھ گئے۔ کراچی کے شہریوں کو ریلیف ملے نہ ملے لیکن مجموعی تاثر یہی دیکھنے میں آیا کہ لوگ سندھ حکومت اور دیگر اداروں کی دھلائی ہوتے دیکھ کر بہت خوش ہورہے تھے، یہ ایسا ہی تاثر تھا جب پنجابی فلموں میں ہیروسلطان راہی، جاگیردار پر حملہ آور ہوتا تھا اور سینما ہال میں لوگ تالیاں اور سیٹیاں بجاکر خوشی کا اظہار کرتے تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اعلیٰ عدالتیں ہی ایسا راستہ ہیں کہ جن کے ذریعے گڈ گورننس کی منزل حاصل کی جائے گی، آخر انتظامیہ اس وقت کا کیوں انتظار کرتی ہے کہ جب بھری عدالت میں چیف جسٹس ان کو قانون پر عملدرآمد کروانے کیلئے آئینہ دکھارہے ہوتے ہیں۔ 2011ء سے یہ کیس عدالت عظمی میں زیرسماعت ہے، یقینا بہت سے فیصلے اسی کیس کے دوران ہوئے، اب بھی ایسا ہی دکھائی دیتا ہے کہ آئندہ کی کئی سماعتوں میں بہت سے فیصلے ہو جائیں گے۔

کراچی سرکلر ریلوے کے راستے میں جو تجاوزات باقی ہیں ان کو ہٹانے کے لیے رینجرز کی خدمات لینے کی بات ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ کے شہر کراچی کی حالت زار کے بارے میں ریمارکس نے یہ ثابت کردیا ہے کہ گذشتہ کئی سالوں سے ہم اپنے مضامین اور کالم میں جس صورتحال کا تذکرہ کرتے چلے آرہے ہیں، وہ من و عن سچائی پر مبنی تھا اور ہے۔ عدالت عظمی کے ریمارکس نے ان پر مہر ثبت کردی ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ نعمت اللہ خان کی میئرشپ کے دور میں لیاری ایکسپریس وے کی زد میں آنے والی تجاوزات (کچی آبادیاں) کو ہٹانے سے پہلے تمام مکینوں کا جامع سروے کیا گیا اور ہر مکین کو ایک پلاٹ اور 50ہزار روپے نقد دے کر انہیں وہاں سے منتقل کردیا گیا، رہائشی سہولت دینے کی وجہ سے وہ خوشی خوشی جگہ چھوڑنے پر آمادہ ہوئے، اور اس طرح وہ کچی آبادی کے بجائے انہیں لیز مکانوں کے مالک بنادیے گئے۔

لیکن موجودہ حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق سرکلر ریلوے کی زد میں آنے والے پکے اور کچے مکانات منہدم کرنے کا عمل شروع کردیا ہے، مگر اس سے قبل ان مکینوں کو سرچھپانے کی جگہ دینے کا کوئی باقاعدہ پروگرام نہیں بنایا گیا جو انتہائی تشویشناک عمل ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں منہدم ہونے والے جگہوں کے مکین بے سروسامانی کی حالت میں کہاں جائیں گے؟ایسی صورت میں سندھ حکومت کے وزراء کا دعویٰ بے بنیاد ہے کہ انہوں نے گذشتہ 12 سالوں میں بہت ترقیاتی کام مکمل کروائے ہیں۔ اگر ایسا درست ہے تو سپریم کورٹ نے ایسا نتیجہ کیوں پیش کیا۔ وزیراعظم عمران خان کراچی کے شہریوں کو 2020ء میں اگر موجودہ مسائل سے باہر نکالنے میں کامیاب نہ ہوئے تو بلدیاتی الیکشن میں تحریک انصاف کیلئے مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا۔

سندھ کی سیاست میں ایک اور شخصیت کے داخل ہونے کے امکانات دن بدن بڑھتے جارہے ہیں، جس کا تذکرہ میں پہلے بھی ایک تحریر میں کرچکا ہوں اور وہ ہے ”فاطمہ بھٹو“ جو گاہے گاہے کراچی اور لاڑکانہ کے سیاسی سرکل میں ملاقاتیں کرچکی ہیں۔ اس وقت بھی وہ ادبی اور سماجی حوالوں سے متحرک ہیں۔ لیکن کسی قسم کی میڈیا کوریج سے اجتناب کررہی ہیں۔پیپلز پارٹی شہید بھٹو گروپ کی راہنما غنویٰ بھٹو نے نقیب اللہ محسود کی برسی پر حیران کن پیغام جاری کیا ہے کہ مرتضیٰ بھٹو اور نقیب اللہ کے قاتل ایک ہی ہیں۔

پیپلز پارٹی آئی جی سندھ کلیم امام کو ہٹانے کیلئے ہر حربہ استعمال کررہی ہے، پبلک سیفٹی کمیشن کے اجلاس میں سندھ کابینہ کی جانب سے آئی جی سندھ پر عدم اعتماد کے بعد پہلی بار وزیراعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ آمنے سامنے ہوئے، آئی جی سندھ کو ہٹانے کا معاملہ بھی ایجنڈے میں شامل تھا، لیکن پبلک سیفٹی کمیشن کے آزاد رکن کرامت علی تحریر ی درخواست دے کر ایجنڈے سے دستبردار ہوگئے۔ اجلاس میں آئی جی کلیم امام 23 اعلیٰ پولیس افسران کے خلاف کاروائی سے متعلق رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ گریڈ 21 کے غلام سرور جمالی کے خلاف انضباطی کاروائی کی گئی۔

مزید : ایڈیشن 1