ایس ایل جی اے 2013 ء میں تبدیلی کیلئے کام شروع کر دیا ہے: میئر کراچی

ایس ایل جی اے 2013 ء میں تبدیلی کیلئے کام شروع کر دیا ہے: میئر کراچی

  



کراچی(اکنامک رپورٹر)میئرکراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ ایس ایل جی اے 2013ء میں تبدیلی کے لئے کام شروع کر دیا ہے، مسودے کو جلد سپریم کورٹ میں پیش کیا جائے گا، کراچی کا مسئلہ اب سیاسی نہیں انسانی بن گیا ہے، سب کو مل کر کوشش کرنا پڑے گی، کراچی کو صرف سیاسی جماعتوں ہی نے نہیں بلکہ سب نے مل کر خراب کیا اور سب کو مل کر اسے ٹھیک کرنا ہو گا،استعفیٰ دینا بہت آسان کام ہے کمزور لوگ استعفیٰ دے کر چلے جاتے ہیں مگر میں کمزور نہیں ہوں نہ ہی ڈرتا ہوں لہٰذا عوام کا مقدمہ لڑتا رہوں گا، اگر میں استعفیٰ دے کر چلا جاتا تو میری جگہ ایڈمنسٹریٹر آجاتا اور شہر کا مقدمہ لڑنے والا کوئی نہ ہوتا، آج سپریم کورٹ حکومت سندھ سے پوچھ نہ رہی ہوتی کہ ایس ایل جی اے 2013ء میں میئر کو کیا اختیارات دیئے ہیں، تاجر اور عوام بلدیاتی قانون کو ضرور پڑھیں کہ کراچی کے ساتھ کس قدر زیادتی ہوئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو کراچی چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے استقبالیہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ کراچی کے تاجر اپنے مسائل تو اسلام آباد جا کر حل کر لیتے ہیں مگر کراچی کے مسائل پر ایک تاجر بھی نہیں بولتا، تاجر بلدیاتی قانون کو مضبوط کرنے میں مدد کریں، ملک کے سارے مسائل حل ہوں گے، کے ایم سی کے اسپتال بند تھے، اب کام کر رہے ہیں، کوئی نہیں پوچھتا کہ ان اختیارات اور وسائل کے ساتھ کراچی کیسے چل سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ میں خود تاجروں کے پاس گیا اور بیگ دیئے کہ کچرا اس میں ڈال کر باہر رکھو مگر کوئی تعاون نہیں کرتا، میئر کراچی نے تاجروں کو ایس ایل جی اے 2013ء میں کے ایم سی سے متعلق شقوں کو پڑھ کر سنایا اور پوچھا کہ کیا کراچی اس سے چل سکتا ہے، سندھ حکومت نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اختیارات کو اپنے پاس رکھا ہوا ہے جبکہ وہ کام نہیں کر رہی،انہوں نے کہا کہ اس کمزور قانون میں سے بھی منافع بخش کام نوٹیفکیشن کے تحت اپنے پاس رکھا ہوا ہے کیونکہ اس میں آمدنی ہے، انہوں نے کہا کہ کراچی کے فائر بریگیڈ کو بہتر ہونا چاہئے مگر اس پر کوئی توجہ نہیں دے رہا، انہوں نے کہا کہ بلدیاتی ٹیکسز حکومت سندھ وصول کرتی ہے، وزیر اعلیٰ سندھ سے متعدد درخواستیں کیں مگر ابھی تک اس پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی، کراچی کو صرف سیاسی جماعتوں ہی نے نہیں سب نے مل کر خراب کیا، میئر کراچی نے کہا کہ ورلڈ بینک نے بھی پوری اسٹیڈی کے بعد رپورٹ دی ہے، شہری اس کا بھی مطالعہ کریں، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ایم این اے کو ترقیاتی فنڈز دے کر دستور کی خلاف ورزی اور اپنی بات کی نفی کررہے ہیں، انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کی دکانیں انسدادِ تجاوزات مہم میں توڑی تھیں ان میں سے 90 فیصد لوگوں کو متبادل دیا جا چکا ہے،تاجر رہنما سراج قاسم تیلی نے کہا کہ کراچی کے مسائل براہ راست ملک کی معیشت کو متاثر کرتے ہیں، مگر آج تک کراچی کو کسی نے اون نہیں کیا بلکہ ہر جماعت نے کراچی کو لوٹا ہے، اس شہر کو خراب کرنے میں تمام سیاسی جماعتوں کا برابر حصہ ہے اور لا ء اینڈ آرڈر خراب کرنے کی بھی یہی جماعتیں ذمہ دار تھیں، آج بھی یہ جماعتیں سیاست کی وجہ سے کراچی کے مسائل حل کرنا نہیں چاہتیں، سندھ حکومت سیاست کی وجہ سے لوکل گورنمنٹ کو خراب کر رہی ہے جب بزنس مین یہ بولتے ہیں تو لوگ ناراض ہوتے ہیں۔ اس شہر کو اداروں میں تقسیم کر کے مفاد حاصل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی اس صورتحال کی ذمہ داری یہاں کی عوام پر بھی ہے جس کو حکمرانوں کے احتساب کا ہوش نہیں ہے، کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر آغاشہاب احمد نے کہا کہ ہمارے ممبران تقریبا 50 ہزار سے زیادہ ہیں اور اس حوالے سے مسائل کے بارے میں ہمارے پاس زیادہ معلومات ہے، شہر میں احساس محرومی پیدا ہو رہا ہے کہ ملک میں سب سے زیادہ ریونیو دینے کے باوجود ہمارے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے،انہوں نے کہاکہ کراچی میں ایسی صورتحال ہونا چاہئے کہ سرمایہ کاری آئے اور بے روز گاری ختم ہو، اس کے لئے انفراسٹرکچر کو بہتر ہونا چاہئے، حکومت اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہی ہے، انہوں نے کہا کہ کراچی کی سرکاری زمین کا استعمال درست نہیں کیا جاتا، ہر سال اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا جاتا ہے، اگر یہ رقم یہاں لگ رہی ہوتی تو شہر کی یہ حالت نہ ہوتی، انہوں نے کہا کہ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، کے ایم سی کی انسداد تجاوزات مہم کا خیر مقدم کرتا ہے، اس سے شہر خوبصورت اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا۔

مزید : صفحہ اول