حکومت نے مسئلہ کشمیر اور سی پیک کوثانوی حیثیت دی: آفتاب شیر پاؤ 

حکومت نے مسئلہ کشمیر اور سی پیک کوثانوی حیثیت دی: آفتاب شیر پاؤ 

  



چارسدہ (بیورورپورٹ) قومی وطن پارٹی کے مرکزی چیئرمین آفتاب خان شیر پاؤ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر اور سی پیک کو حکومت نے ثانوی حیثیت دی ہے۔موجودہ حکومت نے عالمی دباو کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں۔خیبر پختونخواہ میں ضم شدہ قبائلی اضلاع کے لوگوں کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے گئے۔و زیراعظم بتائے کہ گزشتہ 18 ماہ سے کون حکومت چلا رہا تھا۔ وہ شیر پاؤ میں سابق گورنر حیات محمد خان شیر پاؤ کے 45ویں برسی کے حوالے سے منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔ جلسہ سے قومی وطن پارٹی کے صوبائی چیئرمین سکندر حیات خان شیر پاؤ، مزدور کسان پارٹی کے مرکزی چیئرمین افضل شاہ خاموش، بی این پی کے صدر سنیٹر حاصل بزنجو، ہاشم بابر اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے حیات محمد خان شیر پاؤ کو زبر دست حراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ وہ غریب اور پسے ہوئے طبقے کی آواز تھے۔ انہوں نے وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کر تے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان خود عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں جبکہ غریب عوام مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے خود کشیوں پر مجبور ہے۔ موجودہ حکومت نے بے تحاشہ قرضے لیکر ملک کو معاشی طور پر ڈبو دیا ہے۔کپتان سابق حکومت پر روزانہ 12 ارب کے کرپشن کا الزام لگا تا رہا۔عمران خان کو گزشتہ 18 مہینے سے روزانہ 12 ارب روپے بچت ہو رہی ہے وہ کہاں گئی۔وزیراعظم کی طرف سے مہنگائی ختم کرنے کا دعوی بھی جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوگا۔وزیراعظم بتائے کہ گزشتہ 18 ماہ سے کون حکومت چلا رہا تھا۔ ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی کی وجہ سے عوام کا جینا محال ہوچکا ہے۔وزیر اعظم کئی لاکھ تنخواہ میں مہنگائی کا رونا رو رہے ہیں۔ وزیراعظم بتائیں کہ 15 ہزار تنخواہ لینے والے کیسے گزارا کرینگے۔آٹا اور چینی بحران پیدا کرنے والے مجرم عمران خان کے بغل میں بیٹھے ہیں۔پی ٹی آئی کے اپنے کارکن کپتان سے مایوس ہو چکے ہیں۔ موجودہ حکومت نے عالمی دباو کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں۔ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اور سی پیک کو حکومت نے ثانوی حیثیت دی ہے۔کنٹرول ڈیموکریسی مزید نہیں چل سکتی۔پاکستان کا امن افغانستان کے امن سے وابستہ ہے۔خیبر پختونخواہ میں ضم شدہ قبائلی اضلاع کے لوگوں کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے گئے۔ قبائیلی عوام اب انضمام مسترد کر کے نئے صوبے کے لئے جدوجہد کا سوچ رہے ہیں۔انہوں نے ملک میں از سر نو انتخابات کا مطالبہ کیا۔ 

مزید : صفحہ اول