ٹیکسوں کی چھوٹ سے چھٹکارالازم ہے ، ریلیف کے نئے پروگرام آئی ایم ایف مشورے کے بغیر نہ شروع کئے جائیں،آئی ایم ایف

ٹیکسوں کی چھوٹ سے چھٹکارالازم ہے ، ریلیف کے نئے پروگرام آئی ایم ایف مشورے کے ...
ٹیکسوں کی چھوٹ سے چھٹکارالازم ہے ، ریلیف کے نئے پروگرام آئی ایم ایف مشورے کے بغیر نہ شروع کئے جائیں،آئی ایم ایف

  



اسلا م آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)آئی ایم ایف وفد کے پارلیمان کی خزانہ کمیٹی سے ملاقات جاری ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق آئی ایم ایف ذرائع کاکہنا ہے کہ ٹیکسوں کی چھوٹ سے چھٹکارالازم ہے ،بجلی اورگیس کی سبسڈی 2 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے، آئی ایم ایف کاکہنا ہے کہ ریلیف کے نئے پروگرام آئی ایم ایف مشورے کے بغیر نہ شروع کئے جائیں،نیپرااوراوگرام کو مکمل خودمختاری دینالازم ہے ،ایف اے ٹی ایف سے کئے گئے وعدوں پر عملدرآمدمیں کوتاہی خطرناک ہوگی۔

آئی ایم ایف کا مزید کہنا ہے کہ سٹیٹ بینک کے معاملات مزید خودمختار ہونا لازم ہے ،معالیاتی اداروں کی آن لائن نگرانی کا نظام جلدازجلد نصب کرناہوگا، محصولاتی اور بجٹ خساروں کو ذرائع اور اخراجات میں توازن کے ذریعے کم کرنا لازم ہے ،ذرائع کاکہنا ہے کہ اقتصادی معاملات کے قوانین پارلیمان سے پاس کرانے میں تاخیر کے نتائج اچھے نہیں ہونگے ،مقامی مارکیٹ میں پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سیلز ٹیکس نافذ کرنے کے معاملات میں خودمختار ہے ۔

آئی ایم ایف ذرائع کاکہنا ہے کہ امپورٹ سٹیج پر کسٹم اورریگولیٹری ڈیوٹی میں 5 ردوبدل بھی پاکستان اپنی مرضی سے کر سکتا ہے ،عوامی ردعمل کو سامنے رکھ کر بجلی اورگیس چوری کیخلاف اقدامات بھی پاکستان کی منشا کے مطابق ہو سکتے ہیں ،چوری روکنے کیلئے ٹیکنالوجی کے حصول کیلئے عالمی اداروں سے رجوع کیا جاسکتا ہے ،اقدامات کی کامیابی سے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بھی ردوبدل کیاجاسکتا ہے ۔

آئی ایم ایف ذرائع نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام اورمہنگائی کا ایک ساتھ پاکستان میں آنامایوس کن ہے ،آئی ایم ایف پروگرام کے ساتھ مہنگائی کا تعلق صرف پالیسی کی حد تک ہے ،مہنگائی روکنے کیلئے پاکستان کے پاس انتظامی اقدامات کی گنجائش موجود ہے،بینک پالیسی ریٹ اور روپے کی قدر کا مہنگائی میں کردار پر تجزیہ ہوچکا ہے ،دونوں امور کا پاکستان کی مہنگائی میں زیادہ کردار نہیں ہے۔

آئی ایم ایف کامزیدکہنا ہے کہ پاکستان کو خام مال کی امپورٹ کی فہرست میں احتیاط سے بناناہوگی،مقامی منڈی میں سپلائی کی صورتحال پر نظر رکھنا ہوگی،ذخیرہ اندوزوںں کے خلاف اقدامات کرنے ہونگے ،پاکستانی فصلوں اور مصنوعات کی ایکسپورٹ میں احتیاط کرناہوگی، مہنگائی کیخلاف مقامی سطح کے اقدامات پر نظرثانی کرناہوگی۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد