وائٹ کالرکرائم میں یہی بات تواچھی ہے کہ اس میں ثبوت نہیں ملتا،سپریم کورٹ کے جعلی بینک اکاﺅنٹس کیس میں ریمارکس

وائٹ کالرکرائم میں یہی بات تواچھی ہے کہ اس میں ثبوت نہیں ملتا،سپریم کورٹ کے ...
وائٹ کالرکرائم میں یہی بات تواچھی ہے کہ اس میں ثبوت نہیں ملتا،سپریم کورٹ کے جعلی بینک اکاﺅنٹس کیس میں ریمارکس

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں جعلی بینک اکاﺅنٹس کیس کے ملزم حسین لوائی کی درخواست ضمانت پر جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وائٹ کالرکرائم میں یہی بات تواچھی ہے کہ اس میں ثبوت نہیں ملتا،بینک کی تمام برانچیں کارپوریٹ ہیڈ کے ماتحت کام کرتی ہیں،کسی بھی مقدمے کی تفتیش دوران ٹرائل بھی کی جاسکتی ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں جعلی بینک اکاو¿نٹ کے ملزم حسین لوائی کی درخواست ضمانت پرسماعت ہوئی،جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی

وکیل حسین لوائی نے کہا کہ حسین لوائی 20ماہ سے جیل میں ہے،صدمے کی وجہ سے گر کرزخمی ہوگئے،زخمی حالت میں جیل میں زمین پر سو نہیں سکتے،مقدمے میں شریک ملزموں نے حسین لوائی کا ذکر کیا ہے،جعلی بینک اکاؤنٹ کھولنے کےلئے نورین سلطان نے50 ہزار روپے کی رشوت لی۔

جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ وائٹ کالرکرائم میں یہی بات تواچھی ہے کہ اس میں ثبوت نہیں ملتا،بینک کی تمام برانچیں کارپوریٹ ہیڈ کے ماتحت کام کرتی ہیں،کسی بھی مقدمے کی تفتیش دوران ٹرائل بھی کی جاسکتی ہے۔

وکیل نیب نے کہا کہ ملزم حسین لوائی کے خلاف ٹرائل چل رہا ہے ریفرنس دائر کر دیا گیا ہے، وکیل درخواست گزارنے کہا کہ جعلی بینک اکاﺅنٹس کیس میں اکثر ملزموں کی ضمانتیں ہو چکی ہیں ،ہارڈشپ اصول کے تحت حسین لوائی کو بھی ضمات دی جائے۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد