بارات احتجاجی مظاہرے میں بدل گئی ، دلہے کی جانب سے ایسا حق مہر دینے کا اعلان کہ کسی نے آج تک سوچا بھی نہیں ہوگا

بارات احتجاجی مظاہرے میں بدل گئی ، دلہے کی جانب سے ایسا حق مہر دینے کا اعلان ...
بارات احتجاجی مظاہرے میں بدل گئی ، دلہے کی جانب سے ایسا حق مہر دینے کا اعلان کہ کسی نے آج تک سوچا بھی نہیں ہوگا

  



نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن)بھارت میں شہریت بل کیخلاف بارات احتجاجی مظاہرے میں بدل گئی ، دلہے کی جانب سے حق مہر میں شہریت ترمیمی بل کی کاپی  دینے کا اعلان کیاگیاہے۔

تفصیلات کے مطابق بی جے پی حکومت کی جانب سے متنازعہ شہریت کا قانون ان کاناپسندیدہ ترین اقدام بن گیا ہے جس کے خلاف بھارت بھر میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق اس قانون کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں مختلف انداز سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔اس قانون کیخلاف بھارتی ریاست کیرالہ میں ایک شخص نے اپنی شادی کو بھی احتجاجی مظاہرے میں بدل ڈالا اور اپنے منفرد احتجاج سے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کروالی۔اونٹ پر سوار دلہے نے شہریت قانون کے خلاف پلے کارڈز اٹھائے رکھا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست کیرالہ میں دلہا اپنی شادی کے روز شہریت کے متنازع قانون کے خلاف احتجاجااونٹ پر بیٹھ کر بارات لایا اور اس نے ہاتھ میں بل کے خلاف ایک پوسٹر بھی اٹھا رکھا تھا نہ صرف دلہا نے بلکہ باراتیوں نے بھی پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جس پر انگریزی میں ’شہریت متنازع قانون نا منظور‘ لکھا تھا۔بھارتی میڈیا کے مطابق دلہا بارات لے کر 20 کلو میٹر دور سے اونٹ پر سوار ہو کر آیا تھا اور سارے راستے بارتیوں نے بھی پلے کارڈز اٹھا ئے رکھے ۔

بھارتی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے دلہے نے کہا کہ اس نے یہ اقدام شہریت کے متنازع قانون کیخلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کیلئے کیا ہے جبکہ وہ حق مہر کے ساتھ اپنی اہلیہ کو اس بل کی ایک کاپی بھی دینے والا ہے۔آخر میں دلہے نے بھی مودی سرکاری کی جانب سے نافذ متنازع قانون کو مسترد کرنے کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست تامل ناڈو کے علاقے میں بھی ایک مسلمان جوڑے محمد اور اپرینا نے اپنی شادی کے دوران انگریزی میں ’شہریت متنازع قانون نا منظور‘ کے بینر اٹھائے ہوئے اور یہ تصویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی۔

یادرہے کہ بھارت بھر میں لاکھوں لوگ مودی سرکار کے مسلمان مخالف اور انتہائی متعصب اقلیتی بل کیخلاف سراپا احتجاج ہیں۔بچے بوڑھے ، بزرگ خواتین اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد مختلف انداز سے ان مظاہروں کا حصہ بن رہی ہے اور اپنی آواز بلند کررہی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی