’حکومت آئی ایم ایف کے پاس دوبارہ جائے اور ان سے ۔۔۔‘بلاول بھٹو نے نیامطالبہ کردیا

’حکومت آئی ایم ایف کے پاس دوبارہ جائے اور ان سے ۔۔۔‘بلاول بھٹو نے نیامطالبہ ...
’حکومت آئی ایم ایف کے پاس دوبارہ جائے اور ان سے ۔۔۔‘بلاول بھٹو نے نیامطالبہ کردیا

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے دوبارہ معاہدہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے غریب عوام کے حقوق کی سودے بازی کی گئی، حکومت آئی ایم ایف کے پاس دوبارہ جائے، مذاکرات کرے اور مان لے کہ ہم نالائق تھے، نااہل تھےاورہم سےغلطی ہوگئی ، پیپلزپارٹی اورعوام کامطالبہ ہےکہ پھاڑ دو پی ٹی آئی ایم ایف کےمعاہدے کو،ہم جانتے ہیں کہ نالائق حکومت اچھے مذاکرات نہیں کر سکتی، پندرہ ماہ میں پہلی بار مشیر خزانہ پارلیمنٹ میں آئے، ہم نے مہنگائی کی بات کی تو ہمیں گالیاں دی گئیں،مشیر خزانہ حفیظ شیخ آئی ایم ایف کے نمائندے ہوسکتے ہیں عوام کے نہیں، جس تیزی سے مہنگائی میں اضافہ ہوا  پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلے کبھی  نہیں ہوا ،ملک کا ہر طبقہ پریشان ہے، عوام کا معاشی قتل ہورہا ہے،خوراک کی مہنگائی ایک سال میں 78 فیصد بڑھی، کراچی میں ایک شخص نے خودکشی کی کیونکہ وہ بچوں کے کپڑے نہیں خرید سکتا تھا،کسانوں اور مزدوروں کا معاشی قتل ہو رہا ہے،حکومت تنقید پر ذاتیات پر آجاتی ہے اور گالیاں دیتی ہے،یہ حکومت گالم گلوچ اور ماضی میں رہنے کی عادی ہے ، عمران خان نے کہا مودی بڑے آفس میں چھوٹا آدمی ہے، میں نے عمران خان کی بات دہرائی تو سپیکر اور ممبرز بولنے لگے۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں میڈیا سےگفتگوکرتےہوئےبلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ  حکومتی اعدادوشمار خود بتاتے ہیں کہ جتنی مہنگائی اِن کے دور میں ہوئی اتنی کبھی نہیں ہوئی تھی، ہم نے بڑی مشکل سے ملک کی معاشی اور مہنگائی کی صورتحال کو پالیمنٹ کے ایجنڈا میں شامل کیا تھا،قومی اسمبلی میں ہمیں اس پر بات کرنے کا موقع  دیا گیا، ہم نے کوشش کی  کہ اس صورتحال پر اچھے فیصلے لیں تاکہ ہم ملک کے غریب عوام کو اس مہنگائی سے بچا سکیں، ہمارے کسانوں کو اور ہمارے مزدوروں کو کوئی ریلیف پہنچا سکیں، ہمارے عوام جو بیروزگار ہو رہے ہیں ان کو ریلیف پہنچا سکیں مگر ہمیں افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ یہ حکومت مسائل پر بات نہیں کرتی،حقیقت پراور آج کے مسائل پر بات نہیں کرتی،یہ حکومت صرف گالم گلوچ کی عادی ہے،یہ حکومت صرف ماضی کی بات کرتی ہے،میں نے قومی اسمبلی میں جو تقریر کی اس میں اپنے متعلق نہیں بلکہ فیکٹس اور فگرز پر بات کی اور یہ فیکٹس اور فیگرز شماریات سے،سٹیٹ بنک سےاور ایف بی آر کے تھے جو ہم نے حکومت کے سامنے رکھے تھے کہ یہ آپ کے ادارے کہہ رہے ہیں،آپ کا شماریات کا ادارہ کہہ رہا ہے کہ تاریخ طور پر مہنگائی بڑھی ہے،جس تیزی سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے پاکستان کی تاریخ میں ایسا اضافہ کبھی نہیں ہوا، ہم یہ سوال کررہے ہیں کہ آپ نے کتنا قرض لیا ہے؟ آپ کا سٹیٹ بینک کہہ رہا ہے کہ جتنا قرضہ 15 ماہ میں لیا گیا ماضی میں اتنا قرضہ کسی حکومت نے نہیں لیا، آپ کا اپنا ایف بی آر کہہ رہا کہہ رہا ہے کہ ایک سال میں ٹیکس میں 400 ارب کا شاٹ فال ہے، آپ کا اس پر کیا جواب ہے؟لیکن  جواب میں ہمیں ملا کہ گالم گلوچ، زرداری کا بیٹا، جواب میں ہمیں ملا کہ ایشوز کی بات نہیں کرتے ذاتیات پر آجاتے ہیں،یہ ہم تو برداشت کرسکتے ہیں مگراِس وقت غریب عوام اِن کی معاشی پالیسیاں برداشت نہیں کرسکتے،اس وقت ملک کے غریب عوام جس طبقے سے تعلق ہے وہ برداشت نہیں کرسکتے، چاہے مزدور ہوں، کسان ہوں، ہر طبقے کے لوگ یہ برداشت نہیں کر سکتے، اگر کھانے پینے کی چیزیں اور فوڈ میں مہنگائی 78 فیصد بڑھے گی تو عوام پریشان ہوں گے، جب عوام کا معاشی قتل ہورہا ہو تو اس کا جواب حکومت کو دینا پڑتا ہے، اگر دیہاتی علاقوں میں فوڈ میں مہنگائی 91فیصد ہوگی تو یہ سب ہمارے دیہات کے لوگوں کا معاشی قتل ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ عوام ریلیف چاہتےہیں،عوام جینا چاہتےہیں،عوام اپنے بچوں کو سنبھالنا چاتے ہیں،عوام اپنے خاندان کو کھلانا چاہتے ہیں،عوام اپنے بچوں کو سکول بھیجنا چاہتے ہیں، جب ہم اپنے حلقے میں جاتے ہیں تو ہمیں کیا نظر آتا ہے، عوام ہم سے کیا پوچھتے ہیں؟۔انہوں نے صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہر دن آپ ہی کے چینلز پر کوئی نہ کوئی بہت افسوسناک سٹوری آتی ہے، کوئی خود کشی کرتا ہے، میں آپ کو بتاؤں کے کراچی سے ایک والد نے خودکشی کردی کہ وہ اپنے بچے کے لئے گرمیوں کے کپڑے نہیں خرید سکتا تھا، آپ میڈیا سے تعلق رکھتے ہیں آپ ہر دن اس قسم کی کہانیاں ہمیں سناتے ہیں اور آپ کو خود پتہ ہے کہ آپ لوگوں کی کب سے تنخواہیں بند ہیں؟جب سے یہ حکومت آئی ہے کتنا مشکل ہوگیا ہے آپ کا اپنا گھر چلانا؟ہم جب یہ سوال اٹھاتے ہیں تو پھر گالم گلوچ آجاتی ہیں ان لوگوں کی طرف سے، عمران خان نے خود مجھ کو چھوٹا آدمی کہا،عمران خان وزیراعظم پاکستان نے مودی کو کہا کہ یہ چھوٹا آدمی ہے بڑے آفس میں۔ میں نے اسی کے الفاظ دہرائے اور اس نے پوری بات کو سپیکر سمیت پوری حکومت کے بنچوں نے میرے ہر ایک لفظ کو پکڑنا شروع کر دیا،غریب عوام کا کیا ہوگا؟ ان کے سوالوں کے جواب کون دے گا؟ جو ٹی وی کی طرف دیکھ رہے تھے،ہمارے جو تبدیلی کے وزیر ہیں وہ کھڑے ہوں گے،وہ اعلان کریں گے آپ کے لئے ریلیف پیکج کا ،وہ اعلان کریں گے کہ ہم اس مہنگائی سے کیسے بچیں گے ؟لیکن وہ سب  نہیں ہوا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ سب میرے گواہ ہو ،جب سے میں اس پارلیمان میں آیا ہوں پانچ منی بجٹ پیش کئے گئے ،میں ہر منی بجٹ میں کھڑے ہو کر کہتا رہا ہوں کہ آئی ایم ایف ڈیل ہمیں منظور نہیں، یہ پاکستان کے لئے صحیح نہیں ہے ،پاکستان کے شہریوں کے لئے فائدہ مند نہیں ہے، یہ پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل ہے، یہ عوام کا معاشی قتل ہے،یہ ہم نہیں مانتے، تب ہماری بات نہیں مان رہے تھے، اب ہمارا  پیپلزپارٹی کا یہ مطالبہ ہے،پاکستان میں ہر آدمی کا مطالبہ ہے، پھاڑ دو اپنا پی ٹی آئی ایم ایف کی ڈیل، پھاڑ دو اپنا پی ٹی آئی ایم ایف کو، پھاڑ کے پھینک دیں اس پی ٹی آئی ایف کو۔ بلاول بھٹو زرداری کے کہا کہ  آئی ایم ایف کے ساتھ دوبارہ ڈائیلاگ کرو تاکہ پاکستان کے مفاد میں ہم ڈیل لے کر آئیں، دوبارہ غریب عوام کے فائدے میں ڈائیلاگ کریں یا آپ مان لیں کہ ہم نالائق ہیں، نااہل ہیں، ہم سیاست نہیں چلا سکتے، نالائق ہیں، نااہل ہیں، حکومت نہیں چلا سکتے، نالائق ہیں، نااہل ہیں ،معیشت نہیں چلا سکتے اوار نالائق ہیں، نااہل ہیں، ہم مذاکرات نہیں کر سکتے، آپ نے پاکستان کے حقوق کی سودے بازی کی، آپ نے پاکستان کی خودمختاری کی سودے بازی کی اور ہمارے سامنے پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل لے کر آ گئے۔

انہوں نے کہا کہ پندرہ مہینے گزرنے کے بعد ہر پاکستانی کو پتہ ہے کہ آپ نے ان کے معاشی حقوق پر سودے بازی کی ہے، آپ نے ان کے حقوق کا سمجھوتہ کیا ہے، ہمارے لئے پورے پاکستان کے لئے یہ پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل ہمیں منظور نہیں ہے، میں آپ کے سامنے پھر دہرا رہا ہوں وہ کل والا تقریر سنیں جو سنسر ہوئی تھی، میں نے اپنا مطالبہ پارلیمان کے سامنے رکھا تھا، پارلیمان کے فلور پر رکھا تھا کہ یہ جو پی ٹی آی ایم ایف ڈیل، جو پارلیمنٹ کے سامنے نہیں لایا گیا جو کہ قانون کے مطابق آپ کا ڈیتھ سیل ہے، اس کے قریب نہیں جا سکتے، وہ ڈیل لے کر آئے جس میں آپ نے ہماری عوام کے معاشی حقوق کا خیال نہیں رکھا ہم نہیں مانتے اور آپ کو یہ ڈائیلاگ دوبارہ کرنے پڑیں گے۔

چیئرمین پی پی پی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں وہ سیاستدان ہوں جو ہمیشہ جمہوریت پر یقین رکھتا ہوں اور اس چیز کو سمجھتا ہوں کہ حکومت کو اگر جانا ہے تو نئے الیکشن کرانا پڑیں گے، کوئی دوسرانظام ہمیں قبول نہیں ہوگا،جو نظام شہید ذوالفقار علی بھٹو قائد عوام نے اس ملک کے لئے سوچا تھا ،اس کو ہم نے چلانا ہے، اس کو انہوں نے کمزور کرنے کی کوشش کی ہے،وہ جو نظام اس ملک کے غریب عوام کو طاقت دیتا ہے، وہ جو نظام ہر صوبے کو طاقت دیتا ہے، یہ اس کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،جس سے آپ معاشی حقوق پر حملہ کر رہے، آپ کے آئینی اور جمہوری حق پر بھی حملہ کر رہے ہیں، ہم اسے بالکل نہیں مانتے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آج ہم بہت خوش ہیں کہ ہمارے ہی مطالبے کے بجٹ پر بحث ہونا تھی، پہلی بار  ہمارے ملک کا وزیر فنانس پارلیمان میں آیا  اور پارلیمنٹ میں لمبی چوڑی تقریر بھی کی ،ہم انہیں خوش آمدید کہتے اور امید کرتے ہیں کہ یہ سلسلہ چلتا رہے گا، پارلیمنٹ کا حق ہے کہ وہ اپنے وزیر سے سوالات پوچھے، جہاں تک آئی ایم ایف کی بات ہے الحمد للہ یہی حفیظ شیخ صاحب ہمارے دور میں وزیر تھا، جب ہم آئی ایم ایف کے پاس گئے تھے لیکن اس کو پتہ تھا کہ اس کو کھلا نہیں چھوڑا جائے گا ،ہم آئی آیم ایف کے حکم کو نہیں مانتے تھے، ہم پاکستان کے عوام کی بات مانتے تھے،آئی ایم ایف آتا تھا اور ہمیں کہتا تھا کہ بجلی کی قیمت بڑھا دو، ہم کہتے تھے نہیں ہم اپنے عوام کے معاشی حقوق پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے،سیاسی حکومت کی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ عوام کی نمائندگی کرے، عوام کے لئے جدوجہد کرے، اگر آپ نے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کرنے ہیں تو  ہم مانتے ہیں آپ کریں ،پر جب مذاکرات کرتے ہو تو اپنے ملک کی معاشی خودمختاری پر تو سودے بازی نہ کریں، اپنے عوام کے معاشی حقوق کو تحفظ دلا دو۔ میں سمجھتا ہوں کہ جس طریقے سے نالائق ٹیم نے جو مذاکرات کئے وہ غلط ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ آپ واپس نہ جاؤ ہم کہہ رہے ہیں جو آپ کی پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل ہے اس پر ہمارا اعتراز ہے اس پر اس ملک کے عوام کا اعتراز ہے۔ آپ نے غلط طریقے سے مذاکرات کیے اور جو پاکستان کی معاشی حقیقت ہے وہ سامنے نہیں رکھی، آپ نے پاکستان کی معیشت جس طرح چلتی ہے وہ سامنے نہیں رکھی۔ آپ ان بنیادوں پر دوبارہ مذاکرات کریں اس لیے جس طریقے معیشت چل رہی ہے جس طریقے سے آپ آئی ایم ایف پروگرام نافذ کررہے ہو یہ ہماری معیشت سے جان نکال لے گی، اس میں سے کوئی مثبت نتائج تو نہیں آئے اس پورے پروگرام کی وجہ سے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو بڑھانے کا فائدہ کیا؟ وہ کیوں کر کر رہے ہیں؟ صرف اسی لئے کہ وہ آئی ایم ایف کو پیسہ واپس کرنا چاہتے ہیں، ہمارا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کرنے کے لئے، نہ آپ کی جیب میں پیسہ آئے گا نہ پیٹ میں کھانا آئے گا، حکومت کا معیشت کا پورا کا پورا فوکس اس بات پر ہے کہ پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل پیسہ واپس کر دینا چاہیے۔  پاکستان پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ اگر پاکستان کی معیشت کو چلنا ہے حکومت کو چلنا ہے تو پوراکا پورا فوکس پاکستان کے عوام پر ہونا چاہیے، پاکستان کی حکومت صرف معیشت اسی لئے نہیں ہےکہ ہمیں صرف آئی ایم ایف کو پورے کے پورے پیسے واپس کریں، ہمارا فنانس منسٹرمنتخب نمائندہ نہیں ہے،پورے ملک کے سامنے جس طرح ہمارے فنانس کے وزیر نے کہا کہ بلیو بھرن کہہ رہا ہے ہمارا سٹاک مارکیٹ اتنا اچھا نہیں ہے اور آئی ایم ایف کہہ رہا ہے آپ بڑے اچھے طریقے سے چلا رہے ہیں آئی ایم ایف کو کہیں کہ لاہور کے عوام کیا کہہ رہا ہے؟ پاکستان کا عوام کیا کہہ رہا ہے ؟گوجرانوالہ کے عوام کیا کہہ رہے ہیں؟ فاٹا کے عوام کیا کہہ رہے ہیں؟ سندھ کے اور بلوچستان کے عوام کیا کہہ رہے ہیں؟ ہم پاکستان کے عوام کے نمائندے کہہ رہے ہیں، میں آپ توسط سے حفیظ شیخ کو کہنا چاہوں گا کہ پاکستان کے عوام خوش نہیں ہیں، کراچی کےعوام سےپوچھیں کہ پاکستان کی سٹاک مارکیٹ اس وقت دنیا کی سب سے بہترین سٹاک مارکیٹ ہے؟کسی چھوٹے دکاندار سے پوچھیں، کسی چھوٹے تاجر سے پوچھیں کہ کیا پاکستان کی معیشت ترقی کر رہی ہے؟ پاکستانی عوام موڈی کی رپورٹ اور آئی ایم ایف کی رپورٹ کھا سکتے ہیں؟ اس حکومت نے پاکستان کو پاکستانی عوام کو بہت مشکل جگہ پر لے کر آئیں ہیں جہاں سے واپس جانے کے لئے بہت مشکل راستہ ہمیں طے کرنا پڑے گا، جتنا جلدی یہ حکومت مان لےیہ غلط ہےاور یہ غلط ہیں، آج اس پی ٹی آئی ایم ایف کی ڈیل کو پھاڑ دیں، ان کو کہیں ہم غلط تھے ،ہم نالائق تھے ،ہم سلیکٹڈ تھے،ہمیں تو عوام کا کچھ پتہ نہیں تھا، پندرہ مہینے بعد ہمیں یہ ہوش آیا ہے کہ ہم آپ کے لئے اتنا ٹیکس اکٹھا نہیں کر سکتے۔ بلاول بھٹو زرداری نے ایک دوسرے سوال کے جواب میں کہا کہ اس صورتحال میں پاکستان پیپلزپارٹی کا موقف یہی ہے کہ ہم کسی طرح مہنگائی میں غربت میں کمی لے کر آئیں؟ جتنا جلدی ہم عوام کو ریلیف پہنچا سکتے ہیں پہنچانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔

مزید : قومی