دربار و مساجد کی تعمیر کے لئے کروڑوں کے فنڈز مختص

دربار و مساجد کی تعمیر کے لئے کروڑوں کے فنڈز مختص

  

اصلا حات کی تکمیل سے تعمیر کا ریکارڈسفرجاری ہے

سیدسعید الحسن شاہ      

 وزیر اوقاف و مذہبی امور پنجاب

محکمہ اوقاف کے زیر انتظام خود مختارادارہ پنجاب اوقاف آرگنائزیشن کا قیام1960ء  میں عمل میں لایا گیاجس کے زیر تحویل 546مزارات اور 437مساجد ہیں۔پنجاب اوقاف آرگنائزیشن کا مالی سال جولائی تا جون ہوتا ہے تاہم سال 2020 ء  میں وزیر اوقاف و مذہبی امور کے تجویز کردہ 17نکاتی پروگرام کے تحت پنجاب اوقاف آرگنائزیشن کی کارکردگی نے بے مثال ترقی کر کے دیگر محکموں کے لئے تاریخ رقم کر دی ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب محمد عثمان بزدار کے ویڑن کو ند نظر رکھتے ہوئے پنجاب اوقاف آرگنائزیشن کی آمدن میں اضافہ کی مانٹیرنگ کیلئے باقاعدہ پالیسی مرتب کی گئی۔و زیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ہدایت پر وزیر اوقاف سید سعید الحسن شاہ کی توجہ اور حکمت عملی کو مد نظر رکھتے ہوئے محکمہ کے ہر سیکشن کی ذمہ داریوں کو مزید فعال بنادیا گیا ہے۔ محکمانہ پالیسیوں کو خراب کر نے والے عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کے سلسلہ میں سخت اقدامات شروع ہیں۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ویڑن اور وزیر اوقاف سید سعید الحسن شاہ کی بہترین حکمت عملی اور ہدایت پر محکمہ اوقاف میں اصلا حتی عمل تیزی سے جاری ہے۔ محکمہ اوقاف کے زیر انتظام پنجاب اوقاف آرگنائزیشن 546مزارات اور 437مساجد کی دیکھ بھال اور تعمیرات میں سرگرمِ عمل ہے۔ گزشتہ دوسال کی کارکردگی محکمہ کی محنت کا عملی ثبوت ہے۔تمام اوقاف دفاتراور درباروں پر گھوسٹ حاضری کے خاتمہ کیلئے بائیو میٹرک سسٹم حاضری کو لاگو کر دیا گیا ہے۔ مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دی جا رہی ہیں جو تمام درباروں کی تزئین و آرائش،لنگر خانوں،نذرانہ بکسوں کی آمدنی،وقف زمینوں پر شجر کاری،سی سی ٹی وی کیمروں،واک تھرو گیٹس کی چیکنگ اور دیگر معا ملات بارے رپورٹس باقاعدگی سے حکومت کو ارسال کر رہی ہیں۔جس کی روشنی میں مزید

سخت اقدامات عمل میں لائے جارہے ہیں۔ ماضی میں اس محکمہ کو جس انداز میں مال مفت دل بے رحم سمجھ کر لوٹا گیا وہ سیاہ تاریخ کا حصہ بن گیا ہے۔وزیراعلیٰ کے تمام صوبائی محکموں اور اداروں کی کارکردگی کا باقاعدگی سے جائزہ لینے کے بھی مثبت اور مؤثر نتائج سامنے آ رہے ہیں اور ان کی کارکردگی میں بہتری اور اضافہ سے ہر طبقہ مستفید ہوہا ہے۔   گزشتہ سال کرونا وائرس کے باوجود محکمہ کی آمدن میں نومبر2020تک 7فیصد اضافہ ہوا۔پنجاب اوقاف آرگنائزیشن کے زیر تحویل 8093کمرشل یونٹس کا کرایہ ڈسٹرکٹ پرائس اسسمینٹ کمیٹی  (DPAC)سے از سرنو تشخیص کروایا گیا ہے جس سے محکمہ کی آمدن میں معقول اضافہ ہوگااور تین ہزار سے زائد یونٹس پر نیا کرایہ لاگو کرکے وصول بھی کرلیا گیا ہے۔وقف زرعی رقبہ کومتعلقہ ڈپٹی کمشنر کی طرف سے جاری کردہ علاقہ ریٹ کے مطابق نیلام عام کیا جارہاہے۔فیس منتقلی کرایہ داری کی پالیسی کو حتمی شکل دی گئی ہے.جس سے مالی سال  2019-20 ء  میں ایک کروڑ 71لاکھ کی آمدن ہوئی۔سر پلس فنڈ کی بنک اف پنجاب میں قلیل المدتی سرمایہ کاری کے تحت پنجاب اوقاف آرگنائزیشن کی آمدن میں گزشتہ سال کی نسبت71.28فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مزید برآں گزشتہ دوسالوں میں محکمہ کے سرمایہ کاری کے اثاثہ جات میں 77.34فیصد اضافہ ہوا۔حکومت پنجاب کی ہدایات کو مد نظررکھتے ہوئے ضروری اخراجات کنٹرول کیے۔ سال 2019-20کا سالانہ بجٹ 2ارب 48کروڑ روپے تھا جبکہ ایک ارب 72کروڑکے اخراجات کیے گئے۔

مالی سال2019-20کیلئے حکومت پنجاب کی طرف سے 300ملین روپے منظورکیے گئے ہیں جس میں سات جاری شدہ سکیمیں جبکہ پندرہ نئی سکیمیں شامل تھیں۔ جن میں ڈیجیٹل کیش باکسز، جیومیپنگ، واٹر کنزرویشن اور جنوبی پنجاب کی پراپرٹیز (مزارات)کی تزئین و آرائش کیلئے مختص کیے گئے۔اوقاف آرگنائزیشن نے اپنے بجٹ مالی سال 2019-20ء  میں 261.480ملین روپے تجویز کیے گئے جس 

میں 17جاری سکیموں کیلئے 86.60ملین روپے جبکہ 49نئی سکیموں کیلئے 174.88ملین روپے مختص کیے گئے۔قرآن پاک کے بوسیدہ اوراق کو محفوظ کرنے کیلئے 4قرآن محل لاہور I،ساہیوال، گجرات اوربھلوال میں تعمیرکی سکیمیں مکمل ہوچکی ہیں جبکہ4قرآن محل (راولپنڈی، ملتان،فیصل آباد،بہاولپور)پر تعمیراتی کام جاری  ہے۔

سال 2019-20 میں دربار ومساجد کی تعمیر و مرمت کی گئیں۔جن میں دربار شاہ ابوالمعالی،جامع مسجد زندہ پیر ولی قندھاری(حسن            

ابدال)، چلہ گاہ سخی سرور(دھونکل)اورتعمیر طہارت خانے دربار سخی سرور ڈی جی خان پر مشتمل 28ترقیاتی سکیمیں مکمل کی گئیں۔صوبہ بھر میں محکمہ اوقاف کے 546 مزاراور 437مساجدہیں۔ بادشاہی مسجد، داتادربار داتادربارہسپتال، لاہور،گوجرانوالہ، سرگودہا،راولپنڈی،فیصل آباد،پاکپتن،ملتان، بہاولپور،  اور ڈیرہ غازی خان میں محکمہ اوقاف پنجاب کی کل 75 ہزار ایکڑ رقبہ اراضی پر محیط ہے جس میں سے 29 ہزار ایکڑسے زائدرقبہ زیر کاشت اور 45 ہزار ایکڑ سے زائدرقبہ غیر کاشت ہے۔اوقاف کی اراضی پر واقع 1426 رہائش گاہیں اور 6179 اراضی پر دکانیں واقع ہیں جو کہ کرائے پر ہیں۔و زیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر محکمہ اوقاف کی زیرتحویل وقف اراضیات پر 323ایکڑ3کنال 15مرلہ پر کمرشل پلان تیار کر لیا گیا ہے۔اوقاف کی 124پراپرٹیز کی نشاندہی کی گئی ہے، جس میں لاہور زون 148ایکڑ 01کنال 15مرلہ،بادشاہی مسجد 01کنال 5مرلہ،گوجرانوالہ زون   12ایکڑ01کنال09مرلہ، فیصل آباد زون 9ایکڑ3کنال 17مرلہ،سرگودھا زون 26ایکڑ 7کنال 13مرلہ،راولپنڈی زون 02ایکڑ 5مرلہ،پاکپتن زون 15ایکڑ6کنال،ملتان زون  36ایکڑ5کنال 19مرلہ،بہاولپور زون 39ایکڑ 1کنال 14مرلہ اور ڈیرہ غاز ی خان زون میں 32ایکڑ 5کنال 18مرلہ نشاندہی  کردی گئی ہے۔ وزیراعظم پاکستان اوروزیر اعلیٰ پنجاب نے محکمہ کے بزنس پلان کو بے حد سراہا ہے۔ ان کمرشل اراضی کے ٹھیکہ جات سے محکمہ کی مالی حیثیت مزید مضبوط ہوگی اور اس آمدن سے عوامی فلاح وبہبود کے لیے پلان بنایا جائے گا۔جس میں مساجد ومزارات کی تزئین وآرائش،زائرین کے لیے لنگر، پناہ گاہیں اور مذہبی ٹورز کی سہولیات فراہم کی جائیں گی،جوکہ محکمہ کی کی تعمیرنو کے لیے سود مند ثابت ہونگی۔حکومتی ا ور عوامی سطح پر محکمہ اوقاف کے بز نس پلان کو بے حد سراہا گیا ہے۔ ان کمرشل اراضی کے ٹھیکہ جات سے محکمہ کی مالی حیثیت مزید مضبوط ہوگی اور اس کی آمدن سے عوامی فلاح وبہبود کے لیے مختلف پلان بنائے جائیں گے۔جس میں مساجد ومزارات کی تزئین وآرائش،زائرین کے لیے لنگر، پناہ گاہیں اور مذہبی ٹورز کی سہولیات کی فراہمی شامل ہیں،جوکہ مستقبل میں محکمہ کی تعمیرنو کے لیے بے حد سود مند ثابت ہونگی۔ ماہ ربیع الاول میں درج ذیل کیٹگریز میں صوبائی مقابلہ نعت انعقاد کروائے گئے جن میں کیٹگری نمبر1میں 15سال سے کم عمر نعت خواں لڑکے،کیٹگری نمبر2میں سال سے کم عمر نعت خواں لڑکیاں،کیٹگری نمبر3میں 15سال سے25سال کے نعت خواں مرد،کیٹگری نمبر4میں 15سال سے25سال کی نعت خواں خواتین شامل ہیں۔

 آ خری پیغمبر زماں حضرت محمد?کی تعلیمات کو اجاگر کرنے کے لئیماہ ربیع الاول میں خصوصی طورپر محکمہ اوقاف مذہبی امور پنجاب کے زیر اہتمام صوبائی سطح پر "صوبائی سیرت النبی? کانفرنس"جبکہ تحصیل سطح پر سیرت کانفرنسز کا اہتمام ہوا۔محکمہ اوقاف ومذہبی امور پنجاب نے قمری سال 1441ھ میں طبع ہونے والی کتب سیرت طیبہ ?ومجموعہ ہائے نعت کے مصنفین کو صوبائی سیرت النبی?کے موقع پر نقد انعام،شیلڈ اور اعزازی سرٹیفکیٹ بھی پیش کیے گئے۔نبی اکرم،رسول محتشم،خاتم النبین حضرت محمد مصطفی? کے ساتھ اپنی ایمانی اور قلبی وابستگی کے اظہار،آپ? کی عظمت ورفعت کے بیان اور عالمی سطح پر آگاہی کے لیے جناب وزیر اعلی پنجاب کی خصوصی ہدایت"ہفتہ شان رحمتہ للعالمین "کے سلسلہ میں "بین المذاہب عالمی مشائخ وعلماء  کنونشن "کا انعقاد کیا گیا۔ہفتہ شان رحمت للعالمین"کے سلسلہ میں "محفل سماع"منعقد کروائی گئی۔سال 2019-20میں مذہبی ہم آہنگی کی ترویج کے لیے اسلامی تحقیقی کتب بالخصوص صوفیاء  کے افکار و تعلیمات پر مبنی حسب ذیل گراں قدر علمی وتحقیقی کتب کی اشاعت عمل میں آئی۔جن میں فوائد الفواد،سید ہجویر، حضرت خواجہ غلام فرید،حضرت بہاء  الدین زکریا? ملتانی،حقوق وفرائض واخلاقی تعلیمات شامل ہیں۔مذہبی تقریبات دربار حضرت داتا گنج بخش? لاہور، دربار حضرت میاں میر?لاہور، دربار حضرت موج دریا بخاری?لاہور، دربار حضرت شاہ جمال? لاہور، دربار حضرت شاہ چراغ لاہوری، دربار حضرت میراں حسین زنجانی ?لاہور، دربار حضرت فرید الدین گنج شکر? پاکپتن، دربار حضرت بہاؤالدین زکریا? ملتان، دربار حضرت شاہ شمس? ملتان، دربار حضرت خواجہ غلام فرید? کوٹ مٹھن کے سالانہ عرس کا کامیاب انعقاد کیا گیا۔اس کے علاوہ عالمی تصوف سیمینار، عالمی سیرت النبی? کانفرنس اور زونل سیرت البنی? کانفرنسز کا کامیاب انعقاد کیا گیا۔ملکی اور غیر ملکی زائرین کی سہولت اور سیاحت کے فروغ کیلئے دربار حضرت داتا گنج بخش?، عالمگیری بادشاہی مسجد، دربار حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر? پاکپتن اور دربار حضرت بہاؤالدین زکریا? ملتان پر سہولت کاؤنٹرز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے  جس کیلئے ملازمین کو تربیت بھی دی گئی ہے۔

عوام الناس کی سہولت کیلئے اوقاف آرگنائزیشن کے زیر کنٹرول درباروں اور مساجد کی معلومات کیلئے PITB کے تعاون سے ویب سائیٹ کا قیام عمل میں لایا جاچکا ہے۔دربار حضرت داتا گنج بخش? پر زائرین کو طبی سہولت فراہم کرنے کیلئے میڈیکل فرسٹ ایڈسنٹر قائم کیا گیا ہے۔پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے محکمہ کی متعددخالی آسامیوں (پیتھالوجیسٹ، ریڈیالوجیسٹ، میڈیکل آفیسرز، سب ڈویڑنل 

آفیسرز، سٹاف نرسز،ڈیٹا بیس ایڈمنسٹریٹر) تقرریاں عمل میں لائی گئیں۔

حکومت پاکستان کے گرین اینڈ کلین ویڑن کے تحت 175ایکٹر وقف اراضی کی شجر کاری کیلئے نشاندہی کی گئی ہے۔جس پر محکمہ جنگلات کے تعاون سے شجر کاری کی جائے گی۔مزید برآں محکمہ ماحولیات کے تعاون سے گرین ٹاؤن لاہورمیں موجود وقف اراضی پرپودوں کی نرسری کیلئے ایم او یو بھی دستخط کیا گیا ہے۔پٹہ دار کو اوقاف آرگنائزیشن کی اراضیات پر بھی 10درخت فی ایکٹر لگوانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ڈیرہ غاری خان سرکل میں 32ہزار وقف اراضی کی جدیدٹیکنالوجی سے حد براری کا عمل جاری ہے۔محکمہ کی زمین پر عرصہ دراز سے قابض ناجائز قابضین سے2510ایکڑ 7کنال 4مرلہرقبہ واگذار کروایا جاچکا ہے جس کی مالیت 5211ملین  روپے ہے۔

مستقبل کے منصوبہ جات کو پایہء  تکمیل پہنچانے کے لئے حکمت عملی تیار کر لی گئی ہیاس سلسلہ میں مزارات ومساجد پر اے ٹی ایم مشین کی طرز پر الیکٹرونک کیش ڈیپازٹ مشینیں (CDM) نصب کی جارہی ہیں۔بہترمنافع حاصل کرنے کے لیے حکومت پنجاب کے ادارہ پنجاب پنشن فنڈ کی معاونت سے پنشن فنڈ پالیسیکا اجراء  کیا جائے گا۔محکمہ کی پراپرٹیز کے لیے ایک بزنس ماڈل مرتب کیا جارہا ہے جس کے ذریعے 

کمرشل اراضیات کا نیلام عام کیا جائے گا۔پنجاب اوقاف آرگنائزیشن کی پراپرٹیز کی جیومیپنگ کی جا رہی ہے جس سے ڈیجیٹل ریکارڈ مرتب ہوگا اور شفاف نیلام عام ہوگا۔مزارات پر زائرین کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت مختلف کمپلیکس(شاپنگ پلازہ،ہسپتال پلازہ،پارکنگ پلازہ وغیرہ)تعمیر کیے جائیں گے۔ناجائز قابضین سے واگزار کروائی گئی زرعی اراضی کو ڈیری فارمنگ،فش فارمنگ اور لائیو سٹاک فارمنگ کے لیے نیلام عام کیا جائے گا۔پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف قرآن اینڈ سیرت سٹڈیز کو ازسرنوفعال بنایا جارہا ہے۔خالی اسامیوں کے محاذPPSCکے ذریعے موذوں افراد کو بھرتی کیا جا ئے گا جس کے لیے کارروائی کا آغا زکردیاگیا ہے۔مخیر حضرات کے ساتھ مل کرپبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت قرآن پاک کے مقدس  بوسیدہ  اوراق کی ری سائیکلنگ کی جائے گی۔دربار حضرت داتاگنج بخش لاہور اور دربار حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر پاکپتن کی توسیع کی جائے گی۔بڑے مزارات پر مسافرخانوں کی تعمیراوروضو کے پانی کودوبارہ استعمال کرنے کے لیے زیر زمین واٹر سٹوریج ٹینک کی تعمیرکئے جائیں گے۔مزارات پر زائرین کے لیے مزیدسہولیات کی فراہمی کی جائے گی۔مذہبی وثقافتی ورثہ کے حامل مزارات و مساجد کی تعمیرومرمت کے لئے حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے۔محکمہ اوقاف کے زیر انتظامہفتہ شان رحمت اللعالمین 16 تا 22 نومبر منایا گیا -جس میں سیرت کانفرنس، علماء  مشائخ کانفرنس، آل پنجاب نعتیہ مشاعرہ، محافل سماع، سیرت النبی پر لیکچر، خواتین کیلئے محافل میلاد، خطاطی کی نمائش، دستاویزی فلم، تقریری مقابلے سمیت مختلف تقریبات منعقد کی گئیں -

مزید :

ایڈیشن 1 -