”الیکٹیبلز“نئے ٹھکانوں کی تلاش میں؟

”الیکٹیبلز“نئے ٹھکانوں کی تلاش میں؟

  

پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے رکن سردار خرم لغاری نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کیا ہے وہ ایک دو روز میں اس کی وجوہ بھی بتائیں گے۔ وہ پی پی275 سے آزاد امیدوار کے طور پر رکن منتخب ہوئے تھے، لیکن بعدازاں جنوبی پنجاب کے بہت سے دوسرے ارکان کی طرح تحریک انصاف میں شامل ہو گئے تھے۔انہوں نے کہا ہے کہ اُن کے ساتھ پانچ دوسرے ارکانِ اسمبلی بھی پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔ایک ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میٹرک فیل وزیر ہیں اور پڑھے لکھے عوام پیچھے رہ گئے ہیں۔انہوں نے وزیراعلیٰ کے حلقے راجن پور اور تونسہ کے ترقیاتی منصوبوں پراعتراض کیا اور کہا کہ ان پر ضرورت سے زیادہ رقوم خرچ ہو رہی ہیں۔دوسری  جانب  تحریک انصاف کے ہم خیال گروپ کے ارکان کو منانے کا ٹاسک گورنر پنجاب اور سپیکر پنجاب اسمبلی کے سپرد کر دیا گیاہے۔ ہم خیال گروپ کی قیادت خواجہ داؤد سلیمانی کر رہے ہیں، جن کا تعلق بھی جنوبی پنجاب سے ہے اور انہیں وزیراعلیٰ سے شکایات ہیں۔

سینیٹ کے الیکشن سے پہلے، ممکن ہے ایسے دوسرے کئی ارکان بھی سامنے آئیں،جنہیں گلہ  ہے کہ پارٹی کے لیڈر اُن کی بات نہیں سنتے،وزیراعلیٰ اُن کے مطالبے پر کان نہیں دھرتے اور وزیراعظم بھی اُن کی بات سننے کے لئے تیار نہیں۔ایسے ارکان موقع کی تلاش میں رہتے ہیں اور یہی بہترین وقت ہے، جب وہ اپنے مطالبات منوا بھی سکتے ہیں اور پارٹی قیادت کی جانب سے انہیں نظر انداز کرنے کی جو شکایت ہے اس کا ازالہ بھی ممکن ہے،لیکن اگر وہ مطمئن نہ ہوں تو بعید نہیں کہ  وہ پارٹی چھوڑنے کے اعلان پر ڈٹ جائیں اور مصالحت کی ممکنہ کوششیں کامیاب نہ ہوں،لیکن سینیٹ کے لئے چونکہ ایک ایک ووٹ قیمتی ہے اور وزیراعظم عمران خان کہہ چکے ہیں کہ بلوچستان میں ایک سینیٹر کو منتخب ہونے کے لئے50 سے 70 کروڑ روپے تک خرچ کیے جا سکتے ہیں، ایسے میں ارکانِ پنجاب اسمبلی بھی چاہیں گے کہ اور کچھ نہیں تو اُن کے وہ مطالبات ہی مان لئے جائیں جنہیں منوانے میں اُنہیں ڈھائی سال میں کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔اِس لئے اب انہوں نے ہر چہ بادا بار کہتے ہوئے پارٹی چھوڑنے کے اعلان کی شکل میں  ترپ کا آخری پتہ بھی کھیل دیا ہے۔ دیکھیں جواب کس شکل میں ملتا ہے۔

ہر الیکشن سے پہلے الیکٹیبلز جوق در جوق اس پارٹی کا رُخ کرتے ہیں،جس کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں یا پھر جس کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اقتدار کا  ہُما اس کے سر پر بیٹھنے کے لئے بے قرار ہے۔2018ء کے عام انتخابات سے پہلے بہت سے الیکٹیبلز  اپنی آزاد مرضی سے یا دوستوں اور بہی خواہوں کے مشورے پر اپنی اپنی پارٹیاں چھوڑ کر برق رفتاری کے ساتھ تحریک انصاف کا رُخ کر رہے تھے، پارٹی میں ان کا خیر مقدم کیا جا رہا تھا اُن کے گلے میں  تین رنگوں والا پٹکا ڈالا جاتا تھا۔بہت سے ایسے لوگ بھی اپنی جماعتوں کو خیر باد کہہ کر تحریک انصاف کا حصہ بن گئے،جنہیں سابق جماعتوں میں بھی عزت و احترام کا مقام حاصل تھا۔پنجاب کے موجودہ گورنر چودھری محمد سرور جب برطانیہ سے سیاست کرنے کے لئے پاکستان آئے تو مسلم لیگ(ن) نے بھی اُنہیں گورنر بنایا تھا، لیکن تھوڑے ہی عرصے کے بعد انہوں نے یہ منصب چھوڑ دیا۔ تحریک انصاف میں باقاعدہ شامل ہوئے اور دوبارہ گورنر بن گئے،اسی طرح جنرل پرویز مشرف،  پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن)  کے دور میں وزیر رہنے والے کئی سیاست دان اب بھی وزیر ہیں، پارٹیوں کی تبدیلی کی یہ روش تو بہت دیرینہ ہے،لیکن اگر کوئی ریسرچ کی جائے تو اندازہ ہو گا جتنے الیکٹیبلز  نے2018ء سے پہلے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی،اس سے پہلے اتنے بڑے پیمانے پر ”نقل مکانی“کم ہی دیکھنے میں آئی ہو گی۔ پنجاب میں حکومت سازی کے مرحلے پر آزاد ارکان کا کردار بھی اپنی جگہ بہت اہم تھا یہ اگر تحریک انصاف کو رونق نہ بخشتے تو شاید حکومت سازی مشکل ہو جاتی،اِس وقت پنجاب میں اگر تحریک انصاف کی حکومت ہے تو اس میں اِن آزاد ارکان اور اتحادی جماعت مسلم لیگ(ق) کا بڑا حصہ ہے۔

کہا جا سکتا ہے کہ یہ ارکان اپنے مطالبے منوا کر اپنے فیصلے پر نظرثانی کر لیں گے اور بدستور پارٹی کا حصہ رہیں گے،لیکن ایک امکان یہ بھی ہے کہ انہوں نے آنے والے انتخابی منظر کا کوئی نہ کوئی اندازہ کر لیا ہو اور اپنے بہتر مستقبل کے لئے ابھی سے منصوبہ بندی شروع کر دی ہو۔وعدہ کیا گیا تھا کہ تحریک انصاف برسر اقتدار آ کر ایک سو دِنوں میں جنوبی پنجاب کو صوبہ بنا دے گی،لیکن ڈھائی سال میں بات صرف ایک سیکرٹریٹ تک پہنچی ہے، جس کے بارے میں ابھی حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ یہ بنے گا کہاں؟ ملتان میں یا بہاولپور میں۔ اور اس کے اختیارات کی نوعیت کیا ہو  گی۔ قارئین محترم کو یاد ہو گا کہ انتخاب سے تھوڑا عرصہ پہلے ایک جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بھی بنا تھا اس کے نام ہی سے ظاہر تھا کہ اس میں شریک بزرگ اور نوجوان سیاست دان نئے صوبے کے لئے میدان میں اُترے ہیں،لیکن حیرت انگیز طور پر انتخاب جیتنے کے بعد یہ پورے کا پورا محاذ تحریک انصاف کا حصہ  بن گیا یہ اعلان بھی کیا گیا کہ اب محاذ کا مشن یہ تحریک پورا کرے گی۔

وزیراعلیٰ پنجاب دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ صوبے کو یکساں طور پر ترقی دینا چاہتے ہیں،اس مقصد کے لئے وہ اپنے اُن اقدامات کا اکثر و بیشتر تذکرہ بھی کرتے رہتے ہیں جو انہوں نے اپنی وزارتِ علیا کے دوران اٹھائے،لیکن حیرت ہے کہ اب جبکہ ناراض ارکان کو منانے کی ضرورت ہے تو گورنر پنجاب اور سپیکر کو درمیان میں لے آیا گیا ہے،ویسے تو گورنر کا آئینی منصب انہیں ایسی کسی  سرگرمی  کی اجازت نہیں دیتا،لیکن جب سے وہ دوسری مرتبہ گورنر بنے ہیں ایسے امور میں نہ صرف پوری طرح متحرک ہیں، بلکہ کہا جا رہا ہے کہ وہ آئندہ الیکشن بھی لڑنا چاہتے ہیں (اس کے لیے انہیں انتخاب سے دو سال پہلے اپنا موجودہ منصب چھوڑنا پڑے گا)۔ جہاں تک سپیکر پنجاب اسمبلی کا تعلق ہے اُنہیں سینیٹ الیکشن سے پہلے ارکانِ اسمبلی سے رابطوں کا کام سونپا گپا ہے، کیونکہ انہوں نے بھی اپنی جماعت کا ایک سینیٹر منتخب کرانا ہے اِس لئے وہ اس سلسلے میں کافی سرگرم ہیں، لیکن ایک خیال یہ بھی ہے کہ الیکٹیبلز اب تحریک انصاف کو  داغِ مفارقت دینے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔الیکشن سے پہلے نئے ٹھکانوں کے متلاشیوں کے طرزِ عمل سے اندازہ ہو جائے گا کہ ہواؤں کا رُخ کدھر ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -