بجلی اور گیس کے نرخ مزید بڑھ گئے

بجلی اور گیس کے نرخ مزید بڑھ گئے

  

نیپرا نے فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام سے بجلی کے نرخوں میں 1.53 روپے فی یونٹ اضافہ کر دیا ہے۔ یہ دسمبر کے حوالے سے ہے، جبکہ سوئی گیس کمپنی نے مجموعی طور پر 2فیصد اضافہ کیا، جو13.42 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہے۔ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے نام پر ہر ماہ اضافہ کیا جاتا ہے، جبکہ حکومت مستقل طور پر قریباً دو روپے فی یونٹ بڑھا چکی ہے،اس طرح فیول ایڈجسٹمنٹ ہر ماہ کے لئے ہوتی اور اسے بلوں کا حصہ بنا دیا جاتا ہے، اس طرح دیکھا جائے تو اب صارفین کو چار روپے فی یونٹ زیادہ دینے ہوں گے، جہاں تک گیس کا تعلق ہے تو ایک طرف کمپنی کثیر منافع دکھاتی ہے اور دوسری طرف گیس کے نرخ بڑھانے کے لئے بے تاب رہتی ہے۔ پہلے یہ کام ہر جنوری اور دسمبر کی یکم تاریخ سے ہوتا اور اضافہ بلوں میں شامل کر دیا جاتا تھا،اس کے لئے عذر یہ تھا کہ گیس کے استعمال پر بھی سبسڈی دی جاتی ہے جو بتدریج کم کر رہے ہیں۔ صارفین کا یقین تو یہ ہے کہ یہ سب آئی ایم ایف کا کیا دھرا ہے،جو دباؤ ڈال کر ہر شعبہ سے سبسڈی ختم کرا رہا ہے اور اب تو گیس حکام نے مرمت کے نام پر نرخ بڑھائے ہیں۔بجلی کے نرخوں اور گیس کی قیمت میں ہر ماہ اضافہ پہلے سے مہنگائی اور بے روزگاری میں پھنسے عوام کی پریشانی بڑھاتا ہے، کیونکہ اس کے اثرات صرف گھریلو بلوں پر ہی نہیں ہوتے، بلکہ مارکیٹ بھی متاثر ہوتی ہے اور اشیاء ضرورت اور خوردنی کے نرخ بھی بڑھتے ہیں اور اسی کو مہنگائی کہتے ہیں، یہ سلسلہ جاری ہے اور جب تک ایسا ہوتا رہے گا نرخوں میں اضافہ ہی نظر آئے گا، بہتر یہ ہے کہ وہ راستہ اختیار کیا جائے جو عوام کے لئے مفید ہو کہ محض وزیراعظم کے کہہ  دینے سے  نرخ کم نہیں ہوتے۔

مزید :

رائے -اداریہ -