ہٹ دھرمی ترک کرکے فیصلے کریں 

ہٹ دھرمی ترک کرکے فیصلے کریں 
ہٹ دھرمی ترک کرکے فیصلے کریں 

  

تحریک انصاف کی حکومت اول روز سے ہی مسائل میں گھری ہوئی ہے،پاکستان مسلم لیگ (ق) کی قیادت نے تحریک انصاف کی حکومت کا ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا اور اپنے تئیں پوری کوشش کی کہ ملکی معاملات خوش اسلوبی سے چلائے جائیں، اس مقصد کے حصول کے لیے چوہدری شجاعت حسین، چوہدری پرویز الٰہی،چوہدری مونس الہی، کامل علی آغا ایڈووکیٹ سمیت دیگر مسلم لیگی قائدین کا کردار روز روشن کی طرح عیاں ہے، اس کی مثال جمعیت علماء  اسلام (ف)  کااسلام آباد کا وہ دھرنا ہے جو مسلم لیگ(ق) کی قیادت کی بدولت خوش اسلوبی سے انجام پذیر ہوا۔ ملکی معاملات کو بھی احسن طریقے سے چلانے کے لیے ایسی ہی دور اندیشی اور حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ حکومت اور اپوزیشن سب کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے معاملات میں عسکری قیادت کو نہ لائیں۔ آج جبکہ ملک میں مہنگائی اور لاقانونیت عروج پر ہے، ایسے میں عام آدمی سرحدی  محافظوں کی وجہ سے ہی سکون کی نیند سو رہا ہے۔ 

   سیاست، خدمت خلق اور سپاہ گری، سیکھنے سے آتی ہے۔اس کے لئے اخلاص اور عجز و انکساری کی ضرورت ہوتی ہے۔ خدمت،  سیاست اور سپاہ گری  شب و روز محنت کی متقاضی ہے لیکن ان دونوں سے بڑھ کر سپاہ گری ہے جن کی محنت اور تربیت باقی دونوں پر بھاری نظر آتی ہے عسکری قیادت چونکہ بہت سے اہم معاملات کی رازداں ہوتی ہے، اس لئے اْن کے بعض حتمی فیصلے حکومت اور سیاست دانوں کو من و عن ماننے پڑتے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن ملکی معاملات میں جس انداز میں عسکری قیادت کو ملوث کر رہی ہے، اس سے اجتناب برتا جائے تاکہ ملک اچھے انداز میں ترقی کی جانب گامزن ہو سکے۔ 

 ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے افواج پاکستان، حکومت اور اپوزیشن اپنی اپنی  جگہ تینوں کا کردار اہم رہا ھے۔آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد کے ثمرات قوم  ابھی صحیح معنوں میں سمیٹ نہیں پائی جس کی بڑی وجہ ملک میں سیاسی عدم استحکام ہے۔ سیاسی عدم استحکام کے باعث ملک دشمن قوتیں فائدہ اٹھا رہی ہیں اور دہشت گرد گروپ دوبارہ سر اٹھا رہے ہیں۔ان کے سدباب کیلئے ضروری ہے کہ ملک  میں جاری سیاسی چپقلش کا خاتمہ ہو، ملک میں سیاسی استحکام ہوگا تو ملک دشمن طاقتوں کو ختم کرنے میں آسانی ہو گی۔اس طرح حکومت، اپوزیشن اور افواج پاکستان مل کر ملک دشمن عناصر کے خلاف سکہ بند کارروائی عمل میں لا سکیں گی۔ یہ تبھی ممکن ہو گا جب حکومت، اپوزیشن اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہو گی لیکن افسوس کہ ہماریہاں معاملہ ہی الٹ ہے۔حکومت اور اپوزیشن کے معاملات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے بھی روا دار نہیں ہیں،اس طرح حکومت اور اپوزیشن کے ساتھ ساتھ ملک اور قوم کا نقصان بھی ہو رہا ہے اور ملک دشمن قوتیں بھی اس کا بھر پور فائدہ اٹھا رہی ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ(ق) کی قیادت حکومت اور اپوزیشن میں بے جا اختلاف کی اسی لئے مخالف رہی ہے کہ اس سے عسکری قیادت کی عزت، ساخت اور توقیر کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس کے اثرات ملک اور قوم پر بھی پڑ رہے ہیں جس سے عام آدمی کی زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے، لہٰذا حکومت اور اپوزیشن دونوں کو اس حوالے سے ٹھنڈے دماغ سے سوچنے اور اپنی انا اور ضد کو چھوڑ کر ملک اور قوم کے مفاد میں فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

رائے -کالم -