چت وی ساڈی تے پٹ وی ساڈی

چت وی ساڈی تے پٹ وی ساڈی
چت وی ساڈی تے پٹ وی ساڈی

  

اُدھرسابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی دوسری کارروائی کا آغاز ہو چکا ہے اور ادھر وزیر اعظم عمران خان اپوزیشن تو اپوزیشن پوری پاکستانی قوم کو دن میں تارے دکھا رہے ہیں۔ تبدیلی کے اس سفر نے پاکستانیوں کے چار چاند روش کر دیئے ہیں اور انہیں سمجھ نہیں آتی کہ کریں تو کیا کریں۔ حکومت کا تازہ ترین شاہکار کے پی اسمبلی کے اراکین کی سینٹ انتخابات سے قبل خریدوفروخت کی ویڈیو کا سامنے لانا ہے۔قسمت کی خوبی دیکھئے کہ عمران خان اپنی ہی پارٹی کے اراکین کو تماشہ بنا کر اپنی عزت بنا رہے ہیں۔ اس سے قبل جہانگیر ترین کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا کہ انہیں بیچ چوراہے بے لباس کر دیا تھا اور خان صاحب کے ترجمان قو م کو بتا رہے تھے کہ ایسا ہوتا ہے لیڈر جو احتساب کے عمل میں اپنے پرائے کا فرق نہیں کرتا۔ پھر وہ علیم خان بھی تو تھے جو نیب یاترا کے بعد رڑکتے نہیں ہیں، وہی نہیں بلکہ سبطین بھی تو تھے جو پھر سے صوبائی وزیر بنادیئے گئے تھے۔ خان صاحب جس طرح سے پارٹی چلا رہے ہیں اور مخالفین کی درگت بنا رہے ہیں اس پر تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ چت وی ساڈی تے پٹ وی ساڈی!

ویسے سچی بات تو یہ ہے کہ حکومت تھوک سے پکوڑے تل رہی ہے کیونکہ جن سے کرپشن کے پیسے نکلوانے تھے وہ ملک سے باہر بیٹھے ہیں یا پھر بلاول ہاؤس کی پر آسائش اور آرام دہ کرسیوں میں دھنسے ہوئے ہیں اور حکومت خالی سلطان راہی کی بڑھکیں لگا کر اپنے دیکھنے والوں کو مبہوت کئے ہوئے ہے۔ اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ پنجاب میں انٹی کرپشن کے محکمے نے نون لیگ کے ایک ایک بندے کو الاٹ ہونے والی سرکاری زمین کا کھوج لگا کر ان کا توا لگالیا لیکن اگر کچھ نہیں مل سکا تو شریف فیملی کا نہیں مل سکا۔کوئی زمین ان کے نام الاٹ ہوئی نہیں ملی، حالانکہ خان صاحب کا سارا زور اس نکتے پر تھا کہ آل شریف ملک کو کھاگئی ہے۔ سابق وزیر خارجہ سرتاج عزیز سے گفتگو ہوتی ہے تو وہ بہت دلچسپ نکتہ اٹھاتے نظر آتے ہیں کہ شریف فیملی کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے مقدمات تو ہیں لیکن کرپشن کا ایک بھی مقدمہ نہیں ہے اور اگر شہباز شریف کے خلاف برطانوی اخبار ڈیلی میل نے بنانے کی کوشش کی تو نہ صرف DFIDبلکہ برطانوی عدالت نے بھی قرار دے دیا کہ شہبا ز شریف تو اس امدادی پروگرام کے پوسٹر بوائے تھے جس کے حوالے سے ان پر کرپشن کا الزام لگایا گیا ہے اور یہ بھی کہ بادی النظر میں کرپشن کا کوئی امکان نظر نہیں آتا، لہٰذا ڈیلی میل کے رپورٹر ہتک عزت کے قصوروار لگتے ہیں۔

اب دیکھئے  ٹرائل کیا گل کھلاتا ہے، وگرنہ ابتدائی سماعت تو شہباز شریف کے حق میں گئی ہے۔ اسی طرح سے سینٹ کے لئے اراکین صوبائی اسمبلی کی خریدوفروخت کے حوالے سے پی ٹی آئی مارچ 2018میں پیپلز پارٹی پر الزامات لگاتے نظر آئی تھی اور پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابر گورنر پنجاب پرالزام لگاتے نظر آئے کہ انہوں نے پنجاب سے سینٹ کی نشست ویسی ہی ساز باز کرکے جیتی ہے جیسی ساز باز کے الزامات پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں پیپلز پارٹی پر لگاتی نظر آتی ہے۔ اس معاملے میں بھی نواز شریف کا دامن صاف ہے، ان پر کسی کو خریدنے کا الزام ہے اور نہ کسی کو بیچنے کا، جہاں تک چھانگا مانگا کا تعلق ہے تو وہ بھی اپنے اراکین کو محدود کرنے کا ایک جتن تھا تاکہ پیسے والی پارٹی ان تک اپروچ کرکے ان کا ضمیر نہ خرید سکے۔

پھر بلوچستان میں پیسے والی پارٹی اور پی ٹی آئی نے کیا گل کھلائے تھے کہ اس کے باوجود کہ وہاں نون لیگ اکثریت میں تھی، سینٹ کے لئے ایک بھی نشست اسے نہ مل پائی تھی۔ بعد میں چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کے انتخاب اور فالو اپ میں ان پر ہونے والے عدم اعتماد کے دوران بھی پیسے والی پارٹی نے پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر جو کچھ کیا، وہ سب پر عیاں ہے۔ مختصر یہ کہ پیسے والی پارٹی اورپی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر پنجاب سے نون لیگ کا جنازہ نکالنا چاہتی ہے، یہی وجہ ہے کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر پیپلز پارٹی کبھی حکومت کی نمائندہ جماعت دِکھنے لگتی ہے تو کبھی اسٹیبلشمنٹ کی، اگر نہیں لگتی تو اپوزیشن کی جماعت نہیں لگتی ہے۔ لیکن کیا ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے پنجابیوں کے دل سے نواز شریف کو باہر کیا جا سکتا ہے، اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرسکتاہے جس کے ہاتھ میں ہمارے حال کی باگیں ہیں۔

اب جبکہ وزیر اعظم عمران خان کہتے پائے جاتے ہیں کہ کے پی میں ووٹوں کی خریدوفروخت کی ویڈیو جاری ہونے کی ٹائمنگ اہم نہیں بلکہ اہم یہ ہے کہ صوبائی اسمبلیوں کے اراکین بکتے ہیں اس لئے اوپن بیلٹ کرلیا جائے۔ جب یہی سوال سابق چیئرمین سینٹ وسیم سجاد سے ہم نے کیا کہ یہ اہم نہیں ہے بلکہ اہم بات یہ ہے کہ کیا قانون میں سادہ ترمیم کرکے آئین کے آرٹیکل 226کی منشا سے روگردانی کی جاسکتی ہے کہ سینٹ کے انتخابات سیکرٹ بیلٹنگ سے ہوں گے۔ سینٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق تو اس سے بھی ایک قدم آگے گئے اور کہنے لگے کہ سینٹ میں اوپن بیلٹ کے لئے صدارتی آرڈیننس کا معاملہ ہو یا پھر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا قانون، ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم ہاؤس اور ایوان صدر میں ڈھنگ کا کوئی ایک بھی وکیل یا آئینی ماہر نہیں ہے جو حکومت کو سبکی سے بچا سکے۔ آرمی چیف کے معاملے میں سپریم کورٹ نے حکومت کی گت بنائی تھی اور اوپن بیلٹ کے معاملے پر پوری قوم بنارہی ہے مگر حکومت بضد ہے کہ چت وی ساڈی تے پٹ وی ساڈی!

مزید :

رائے -کالم -