ہمارا انتخابی نظام: اقلیت کی حکمرانی کا ذریعہ

ہمارا انتخابی نظام: اقلیت کی حکمرانی کا ذریعہ

  

اقبال کو تو یہی شکایت تھی کہ

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں 

بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

لیکن ہمارا مروجہ انتخابی نظام تو جمہوریت کی یہ بنیادی شرط بھی پوری نہیں کرتا اور عملاً اکثریت کے بجائے اقلیت کی حکمرانی کا ذریعہ ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ہمارے ایک حلقہ انتخاب میں کم از کم پندرہ بیس امیدوار ہوتے ہیں جن میں ڈالے گئے ووٹ تقسیم ہو جاتے ہیں اور ان میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والا کامیاب قرار پاتا ہے جبکہ بالعموم اس نے ڈالے گئے ووٹوں کا بمشکل پندرہ بیس فیصد حاصل کیا ہوتا ہے۔ اسے اکثریت کا فیصلہ کیسے کہا جا سکتا ہے؟ وہ ترقی یافتہ جمہوری ممالک جہاں یہ انتخابی نظام رائج ہے، اس صورت حال سے اس لئے دو چار نہیں ہوتے،کیونکہ وہاں عموماً دو ہی بڑی پارٹیاں ہوتی ہیں، لیکن ہمارے ہاں انتخابی اکھاڑے میں جماعتی اور آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد کے سبب یہ نظام بالعموم اقلیت ہی کی حکمرانی کا ذریعہ ثابت ہوتا ہے، جبکہ مستحکم حکومت کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ اسے واقعتاً عوام کی اکثریت کی تائید حاصل ہو۔ سوال یہ ہے کہ یہ ہدف کیسے حاصل کیا جائے؟

اس کے لئے ایک طریقہ تو یہ رائج ہے کہ جیتنے والے امیدوار کے لئے ڈالے گئے ووٹوں کے پچاس فیصد سے زیادہ کا حاصل کرنا لازمی قرار دیا جاتا ہے۔ انتخابی مقابلے کے پہلے مرحلے میں شرکاء کی تعداد پر کوئی پابندی نہیں ہوتی، تاہم اگر پہلے نمبر پر رہنے والا امیدوار پچاس فیصد سے زائد ووٹ نہ لے سکے تو اول اور دوم کے درمیان چند روز کے وقفے سے مقابلے کا دوسرا اور حتمی دور ہوتا ہے۔ اس طرح جیتنے والا امیدوار کم از کم ان رائے دہندگان کی حقیقی اکثریت کا نمائندہ ہوتا ہے جنہوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہو، تاہم اس طریقے میں ایک خرابی تو یہ ہے کہ بیشتر نشستوں کے لئے دوبار مقابلہ کرانا پڑتا ہے جس کی بنا  پر محنت اور مصارف دونوں دوگنا ہو جاتے ہیں۔ لوگوں کو چند روز کے اندر دو دو بار پولنگ بوتھ تک جانے کی کھکیڑ اٹھانا پڑتی ہے جس کی وجہ سے دوسرے راؤنڈ میں ووٹنگ کی شرح اکثر بہت کم رہ جاتی ہے اور سب سے بڑی خرابی یہ کہ ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ جو بعض حلقوں میں 49 فیصد تک بھی ہو سکتا ہے، نمائندگی سے بالکل محروم رہتا ہے۔ اس کے نمائندے حزب اختلاف کی شکل میں بھی پارلیمینٹ تک نہیں پہنچ پاتے۔ یہ صورت آبادی کے ایک بڑے طبقے کے مستقل عدم اطمینان کا سبب بنی رہتی ہے۔ آیئے دیکھیں کہ پھر کون سا نظام ہمارے مطلوبہ مقاصد کو پوراکرتا ہے۔

حقیقی جمہوریت، یعنی عوام کی زیادہ سے زیادہ نمائندگی پر مبنی سیاسی نظام کے قیام کا جو سب سے کارگر طریقہ اب تک دریافت کیا گیا ہے، وہ متناسب نمائندگی کا نظام ہے جو متعدد جمہوری ملکوں میں رائج ہے۔ پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتیں بھی ماضی میں اس نظام کو سب سے بہتر قرار دیتی رہی ہیں۔ اس نظام میں ووٹ انفرادی امیدواروں کو نہیں، بلکہ پارٹیوں کو دیئے جاتے ہیں، اگرچہ پارٹیوں کے ساتھ ساتھ متعلقہ حلقوں میں آزاد امیدواروں کے الیکشن میں حصہ لینے کی گنجائش بھی رکھی جا سکتی ہے۔ پھر ہر جماعت کو پورے ملک یا پورے صوبے میں اس کے حاصل کردہ مجموعی ووٹوں کی بنیاد پر نشستیں دی جاتی ہیں۔ الیکشن میں حصہ لینے والی تمام جماعتیں الیکشن کمیشن کے پاس اپنے امیدواروں کی ترجیحی ترتیب سے مرتب کی ہوئی فہرست پہلے ہی جمع کرا دیتی ہیں اور جو جماعت جتنی نشستیں حاصل کرتی ہے، اس فہرست میں سے اول دوم سوم کی ترتیب سے لکھے گئے ناموں کو منتخب قرار دیا جاتا ہے، اسی لئے اس نظام کو لسٹ سسٹم بھی کہا جاتا ہے۔ جمہوری نظام میں اصل اہمیت افراد کی نہیں جماعتوں کی ہوتی ہے۔ ان ہی کے پروگرام کی بنیاد پر لوگ فیصلہ کرتے ہیں کہ کس کی حمایت کریں۔ 

جماعتوں کو ووٹ دینا ہوتو انفرادی امیدواری کے نتیجے میں رونما ہونے والی برادریوں کی جتھہ بندیوں، شخصیات کے تصادم اور مالی لین دین جیسی بہت سی قباحتیں خود بخود ختم ہو جاتی ہیں یا ان میں نمایاں کمی ہو جاتی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ڈالا گیا ایک ووٹ بھی ضائع نہیں ہوتا اور تمام رائے دہندگان کی پارلیمنٹ میں نمائندگی یقینی ہو جاتی ہے۔ حلقہ انتخاب کی پابندی بھی اس نظام میں ضروری نہیں رہتی جس کے سبب کوئی شخص ملک یاصوبے کے کسی بھی حصے میں ہو، اپنی پسندیدہ جماعت کو ووٹ دے کر پارلیمنٹ میں اپنی نمائندگی یقینی بنا سکتا ہے۔ انتخابی فہرست کی تیاری اور اصلاح کے جھنجٹ سے بھی اس طریقے سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔ ووٹر صرف اصلی شناختی کارڈ کی بنیاد پر کسی بھی پولنگ بوتھ پر ووٹ دے سکتا ہے۔ لسٹ سسٹم کے سبب رائے دہندگان کے سامنے ہر جماعت کی پوری پارلیمانی ٹیم اور اس کے کوائف ہوتے ہیں، لہٰذ ملکی معاملات کو چلانے کے لئے مختلف جماعتوں کی مجموعی اہلیت کا اندازہ لگانا آسان ہو جاتا ہے۔ انفرادی امیدواری کی شکل میں سیاسی جماعتوں کو بسا اوقات مختلف حلقوں میں الگ الگ مختلف جماعتوں کے ساتھ نظریات اور اصولوں کی کسی ہم آہنگی کے بغیر جو ایڈجسٹمنٹ یا جوڑ توڑ کرنا پڑتی ہے، متناسب نمائندگی میں اس کی کوئی ضرورت نہیں رہ جاتی، جبکہ ہم خیال جماعتیں انتخابی اتحاد بنا کر ایک انتخابی نشان کے تحت بھی الیکشن لڑ سکتی ہیں۔ 

ایک ایک حلقے میں لگ الگ انتخابی مہم چلانے اور جلسوں جلوسوں کی ضرورت بھی متناسب نمائندگی میں نہیں ہوتی۔ ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہر جماعت آسانی سے اپنا پیغام لوگوں تک پہنچا سکتی ہے۔ ان سہولتوں کی بنا پر اہل فکر و دانش، مختلف شعبوں کے ماہرین، قانون دان، اکنامسٹ، اساتذہ، اہل علم و ادب وغیرہ کے لئے بھی پارلیمنٹ کے دروازے کھل سکتے ہیں جن کا مار دھاڑ سے بھرپور موجودہ انتخابی نظام میں پارلیمنٹ میں پہنچنا عموماً ناممکن ہوتا ہے۔ اس نظام میں آزاد امیدواروں کی گنجائش بھی رکھی تو جا سکتی ہے، تاہم اس سے اجتناب ہی بہتر ہے، کیونکہ آزاد امیدوار عام طور پر حکومت سازی کے مرحلے میں بکاؤ مال ثابت ہوتے ہیں،جبکہ معلق پارلیمنٹ کی صورت میں اپنے ضمیر کی زیادہ سے زیادہ قیمت وصول کرتے ہیں۔ ان حقائق سے واضح ہے کہ متناسب نمائندگی کا نظام ہی ہمارے ملک میں حقیقی جمہوریت، یعنی اکثریت کی حکمرانی کے قیام کا ضامن ہے۔ حکمرانوں، سیاسی حلقوں اور اہلِ فکر و دانش سے گزارش ہے کہ ان معروضات پر سنجیدگی سے غور کریں اور اگر انہیں درست پائیں تو کوشش کریں کہ آئندہ انتخابات متناسب نمائندگی ہی کی بنیاد پر ہوں تاکہ اقلیت کی حکمرانی کے بجائے ملک میں حقیقی جمہوریت قائم ہو۔

مزید :

رائے -کالم -