ایک دوسرے کے کمزور ہونے کا انتظار

ایک دوسرے کے کمزور ہونے کا انتظار
ایک دوسرے کے کمزور ہونے کا انتظار

  

ایسا نہیں کہ سیز فائر ہو چکا ہے۔ فریق بھی وہی ہیں، جھگڑے کی بنیاد وہی، اور مخالفت کی شدت بھی وہی۔ دونوں جانب سے حکمت عملی میں تبدیلیاں اپنی اپنی مجبوریوں کے باعث آئی ہیں۔ خیال کیا جارہا ہے کہ بعض اندرونی اور بیرونی رابطوں اور پی ڈی ایم میں شامل ایک دو جماعتوں کی اپنی ترجیحات کے باعث احتجاج کی شدت میں کمی آئی، لیکن تحریک رکی ہرگز نہیں اور نہ ہی رکے گی۔ دوسری جانب حکومت اور اس کے سرپرستوں کو خدشات لاحق ہیں کہ ریاستی اداروں کا بپھری ہوئی اپوزیشن جماعتوں کے خلاف مزید استعمال اُلٹا گلے پڑ سکتا ہے۔ یہاں بھی ایسا ہرگز نہیں سرکار اور سرپرستوں کے ارادوں میں کوئی  نرمی آئی ہے،بلکہ وہ اگلا وار کرنے کے لئے موقع کی تاک میں ہیں۔ بعض حلقوں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے دئیے جانے والے تاثر کے برعکس دونوں فریق اپنی اپنی جگہ کھڑے ہیں اور پہلے سے زیادہ ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ پی ڈی ایم کے قیام سے پہلے پوری اپوزیشن کا مکو ٹھپنے کے لئے دسمبر 2020 ء کی ڈیڈ لائن طے کردی گئی تھی۔

حالات نے پلٹا کھایا اور اب تک ایسے آثار نہیں۔ ہائبرڈ حکومت کا یہ وہی نظام ہے جس میں مریم نواز کو ان کے علیل والد کے سامنے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ان سے ملاقات کے لیے گئی تھیں۔ اس ایک مثال سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکمران ٹولہ کسی بھی سطح پر اتر کر کوئی بھی اوچھا ہتھکنڈہ استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔ ماضی کی طرح اس وقت بھی اولین ٹارگٹ مریم نواز ہیں۔ اسی سطح کا دوسرا بڑا ٹارگٹ مولانا فضل الرحمن ہیں۔ حالیہ دنوں کے دوران دونوں کو مختلف مقدمات میں ملوث کرنے اور گرفتار کرنے کے منصوبے بنائے گئے۔ مریم نواز نے تحریک کے آغاز میں ہی اعلان کردیا تھا کہ وہ پھر سے جیل جانے کے لئے تیار ہیں۔ویسے بھی تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے ملک کی سیاست  میں رحم نام کی کوئی شے نہیں پائی جاتی۔ 

جنرل ضیا الحق نے اپنے محسن ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر لٹکایا۔ جنرل مشرف نے اپنے محسن نواز شریف کو سزائے موت دلوانے کی کوشش کی۔ باقی سب کے ساتھ جو ہوا وہ ملکی تاریخ کا المناک اور شرمناک باب ہے۔ یہ سچ ہے کہ پی ڈی ایم کی تحریک سے زیادہ اس کا بیانیہ کارگر ثابت ہوا اور ہوتا ہی جارہا ہے۔ پچھلے دنوں مسلم لیگ (ن) کے ایک بہت اہم لیڈر سے تبادلہ خیال کا موقع ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ استعفوں کا آپشن استعمال کرنے کی نوبت نہ بھی آئے تب بھی دھرنا ضرور ہوگا اور اس دھرنے کے نتیجے میں پہلے سے مشکلات میں گھری ایک صفحے کی حکومت ادھ موئی ہو جائے گی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر اس دھرنے سے بھی حکومت کا خاتمہ نہ ہوسکا تو پھر کیا ہوگا۔ لیگی رہنما نے بڑے وثوق سے کہا کہ ہم اس کے بعد ایک اور دھرنے کی تاریخ دے دیں گے یوں حکومت کا چلنا ناممکن بنا دیا جائے گا۔ ان صاحب کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر حکومت اسی طرح چلتی رہی تو اس صورت میں بھی2023ء کے عام انتخابات کے موقع پر اسٹیبلشمنٹ کمزور اور اپوزیشن سیاسی جماعتیں مضبوط ہو چکی ہوں گی۔

اس طرح 2018ء کی طرز پر دھونس اور دھاندلی ممکن نہیں رہے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب ان سے گلگت بلتستان کے الیکشن میں پیش آنے والی صورتِ حال کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نہ صرف یہ دعوی کیا کہ کچھ عرصے کے بعد ہونے والے آزاد کشمیر کے انتخابات میں بھی دھاندلی کرائی جائے گی،بلکہ اس پراجیکٹ کے انچارج افسر کا نام اور اگلے ممکنہ وزیراعظم کے  متعلق بھی بتا دیا۔کس قدر مضحکہ خیز تماشہ ہے کہ  تمام ریاستی اداروں کی بھرپور سپورٹ ہونے کے باوجود حکومت کی حالت اس قدر پتلی ہوگئی کہ سینٹ الیکشن میں اپنے ہی ارکان اسمبلی پر اعتبار کرنے کے لئے تیار نہیں۔ شو آف ہینڈز کی آئینی ترمیم ممکن نظر نہ آئی تو گیند سپریم کورٹ کے کورٹ میں پھینک دی۔

اس پر بھی قرار نہ آیا تو صدر عارف علوی سے سپریم کورٹ میں زیر سماعت معاملے پر آرڈیننس جاری کرا دیا۔ اس حرکت پر قانونی حلقے ششدر رہ گئے۔لاڈلے وزیراعظم کی حکومت بھی خوب ہے پہلے دوسری پارٹیوں کے ارکان اسمبلی کو لوٹے بنانے کے لئے ریاستی اداروں کو استعمال کرتی رہی اب اپنے ارکان اسمبلی کو کڑی نگرانی میں رکھنے کے لئے دوسروں کو اس دلدل میں گھسیٹ رہی ہے۔ مریم نواز اور بلاول تویہاں تک بتا چکے ہیں کہ پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کو لوٹے بننے سے بچانے کے لئے عمران خان کے“بڑے“ اپوزیشن جماعتوں سے خود رابطے کررہے ہیں تاکہ موافق آئینی ترمیم کرائی جا سکے۔ ظاہر ہے کشمکش کے اس موڑ پر پی ڈی ایم کو کیا پڑی ہے کہ موجودہ سیاسی بندوبست کو کسی بھی حوالے سے کوئی ریلیف دینے کا سبب بنے۔

 اسمبلیوں کے اندر عدم اعتماد کے بارے میں آصف علی زرداری کی تجویز کو اسی لئے پزیرائی نہیں مل سکی کہ ناکامی کی صورت میں حکومت کو وقتی سہارا ملے گا۔پیپلز پارٹی کے سوا کوئی اپوزیشن جماعت اس پر تیار نہیں۔ مریم نواز نے تو یہاں تک کہہ رکھا کہ ہم تحریک عدم اعتماد کے لئے نمبر پورے ہونے پر بھی پنجاب میں بزدار حکومت گرا کر ان کو سیاسی شہید بننے کا موقع فراہم نہیں کریں گے۔ایک دوسرے پر نظریں گاڑے فریق اس وقت بات چیت میں بھی مصروف ہیں۔ اپوزیشن کو لالی پاپ دیا جارہا ہے کہ سینٹ الیکشن کے بعد عام انتخابات جلد کرانے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ بار بار وعدہ خلافی کا شکار ہونے والی اپوزیشن اب ایسی کسی پیشکش پر کان دھرنے کے لئے تیار نہیں۔ صف بندیاں ہو  رہی ہیں۔ ایک فریق چاہتا ہے کہ اپوزیشن کمزور ہو اسے کچل ڈالے۔ دوسرے کی کوشش ہے کہ حکومت کو سرپرستوں سمیت اپنی شرائط پر معاملات طے کرنے پر مجبور کر دے۔ دونوں ایک دوسرے کے کمزور ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔

پی ڈی ایم نے 26مارچ کو اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان کردیا ہے۔ یہ اعلان ہی اس حکومت اور اس کے محافظوں کے لئے ڈرونا خواب بن چکا۔ کیونکہ اس سے پہلے بھی وفاقی دارالحکومت میں کچھ اورتنظیموں کی جانب سے دھرنے دئیے جانے کا پروگرام ہے۔ یہ کافی سخت مراحل ہوں گے۔پی ٹی آئی کے ترجمان اور وزرا اپنا خوف چھپانے کے لئے کہہ رہے کہ 26مارچ کے فوری بعد تو روزے آ جائیں گے۔ دھرنے والے اس سے پہلے ہی میدان چھوڑ جائیں گے۔ ہوسکتا ہے کہ ایسا ہی ہو، لیکن اگر دھرنے والوں نے اسلام آباد کے ریڈ زون میں ہی نماز تراویح کا اہتمام کرلیا۔ سحری اور افطاری کے لئے لنگر کھول دئیے۔ وضو خانے بنا دئیے تو سوچ لیں کیا منظر ہوگا۔حکومت کی یہی کارکردگی رہی تو عید پر اپوزیشن کی  عید ہو سکتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -