گیس مہنگی، آنسو گیس سستی

گیس مہنگی، آنسو گیس سستی
گیس مہنگی، آنسو گیس سستی

  

ایک طرف حکومت نے چولہا جلانے والی گیس مہنگی کی تو دوسری طرف آنکھوں میں جلن پیدا کرنے والی آنسو گیس اتنی سستی کر دی کہ اسلام آباد میں وہ سڑکوں پر بڑی مقدار میں مفت بٹتی نظر آئی۔ اس سے تو یہی لگتا ہے کہ حکومت نے کسی اور شعبے کا بجٹ چاہے نہ بڑھایا ہو آنسو گیس فراہم کرنے کا بجٹ ضرور بڑھا دیا ہے۔ یہ آنسو گیس کی فراوانی کا نتیجہ تھا یا اسلام آباد پولیس کی بے تدبیری اور عدم منصوبہ بندی کا،  جس طرح اسلام آباد کی سڑکوں پر آنسو گیس کے دھوئیں کا راج دیکھا گیا، پہلے کسی شہر میں دیکھنے کو نہیں ملا، یہ حکومت نجانے اور کون کون سے ریکارڈ قائم کرے گی۔ ہم تو پہلے ہی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ شیخ رشید احمد کو وزیر داخلہ بنایا گیا ہے، تو اب خیر کی توقع نہ رکھیں۔ ان کے پاس ہر مسئلے کا ایک ہی جواب ہے کہ عبرت کا نشان بنا دوں گا، غالباً سرکاری ملازمین کو بھی ان کی ہدایات پر اسلام آباد پولیس نے عبرت کا نشان بنانے کی حتی الامکان کوشش کی، یہ تو ان احتجاجی ملازمین کی سخت جانی ہے کہ اتنی زیادہ شیلنگ کے باوجود وہ سڑکوں پر ڈٹے رہے اور ایک دن میں اسلام آباد پولیس کے 13 ”حملوں“ کا سامنا کرنے کے باوجود پسپا نہیں ہوئے۔

سمجھ نہیں آتی کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے پالیسی اور فیصلہ ساز کس غفلت کی مٹی سے بنے ہوئے ہیں انہیں اس بات کا ادراک ہی نہیں ہوتا کہ حالات کس سمت کو جا رہے ہیں اب ان سرکاری ملازمین کے احتجاج ہی کو دیکھ لیں۔ گزشتہ ایک برس میں یہ لوگ کئی مرتبہ اسلام آباد احتجاج کے لئے آئے ہیں حکومت انہیں مذاکرات کے ذریعے بہلا پھسلا کر واپس بھیجتی رہی ہے۔ مسئلہ حل کرنے کی بجائے جھوٹے دعوؤں اور وعدوں کے ذریعے اسے لٹکانا ایک بڑی بد دیانتی اور حماقت ہے۔ اس طرح تو ایک چھوٹا مسئلہ رفتہ رفتہ بڑا بنتا چلا جاتا ہے وہی ہوا اس بار جو سرکاری ملازمین اپنے مطالبات لے کر اسلام آباد گئے تو ان کے رویئے میں لچک نہیں تھی۔ وہ حکومت کی طرف سے دو ٹوک اعلان چاہتے تھے۔ اعلان تو نہ ہوا البتہ پوری دنیا میں لوگوں نے دیکھا کہ پاکستان کا دارالحکومت دھوئیں کے زہریلے بادلوں میں گم ہو چکا ہے اور سرکاری ملازمین کے سر پھٹ رہے ہیں۔

سرکاری ملازمین بجٹ کے بعد سے اپنی تنخواہیں بڑھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں ان کے احتجاج کو غلط کیسے قرار دیا جا سکتا ہے جب خود اسٹیٹ بنک اور ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق مہنگائی میں غیر روائتی اضافہ ہوا ہے پہلے یہ ہوتا تھا کہ ملازمین کو بجٹ میں دس پندرہ فیصد اضافے کا ریلیف مل جاتا تھا اور بڑھتی ہوئی مہنگائی اور افراطِ زر کے مقابلے میں انہیں ایک معمولی ہی سہی ڈھال میسر آ جاتی تھی۔ اس مرتبہ آئی ایم ایف کے آگے چاروں شانے چت ہونے والی موجودہ حکومت نے پہلی بار تنخواہوں میں ایک دھیلے کا اضافہ نہیں کیا جبکہ اس کے برعکس بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرتی چلی گئی۔ اب ایک محدود آمدنی والا طبقہ اپنے روز مرہ معاملات کو کس طرح چلا سکتا ہے جبکہ اس کی آمدنی تو بڑھی نہ ہو البتہ قیمتیں کئی گنا بڑھ گئی ہوں۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتیں جتنی مرتبہ بھی رہیں انہوں نے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا کوئی بجٹ بھی ایسا نہیں دیا، جس میں ملازمین کو مالی ریلیف نہ دیا گیا ہو۔

اس بار حکومت کے معاشی مینجروں نے انوکھا فیصلہ کیااور تنخواہیں نہ بڑھائیں اس کے لئے جو بھی عذر پیش کئے گئے حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے کسی دوسرے شعبے میں پیسے کی بچت نہیں کی، سارے کام اسی طرح چلتے رہے جیسے ماضی میں چلتے آئے ہیں خود وزیر اعظم عمران خان اور ان کی معاشی ٹیم یہ تسلیم کرتی ہے کہ مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ ویسے بھی سامنے کی حقیقتوں کو کیسے جھٹلایا جا سکتا ہے۔ حکومت کم از کم ایک درجن بار بجلی کی قیمت بڑھا چکی ہے، گیس کا حال بھی یہی ہے، اس کے ساتھ مجموعی مہنگائی بھی عوام کے کس بل نکال چکی ہے ایسے حالات میں لاکھوں سرکاری ملازمین نے معاشی دباؤ کا شکار تو ہونا ہی تھا، حکومت کا حال یہ ہے کہ وہ مہنگائی کا ذکر بھی تکلفاً کرتی ہے۔ کر بھی دے تو سارا نزلہ پچھلی حکومتوں پر گرا کر خود بری الذمہ ہو جاتی ہے۔ تاہم وہ یہ بھول جاتی ہے کہ جن پچھلی حکومتوں کو الزام دے رہی ہے انہوں نے سرکاری ملازمین کو ہر بجٹ میں خاطر خواہ مالی ریلیف بھی دیا۔

جب آپ جانتے ہیں کہ قصور سرکاری ملازمین کا نہیں حکومت کے معاشی مینجروں کا ہے تو پھر سرکاری ملازمین سے کم از کم کھلے دل سے مذاکرات تو کرنے چاہئیں۔ اس طرف تو کسی نے توجہ نہ دی سارا زور آنسو گیس کے شیل گرانے پر لگا دیا کیا ایسے تحریکوں کو دبایا جا سکتا ہے کہتے ہیں کہ بھوک سے جڑی تحریکیں سب سے خطرناک ہوتی ہیں کیونکہ ان میں شامل افراد زندگی کا بوجھ اٹھانے سے تنگ آئے ہوتے ہیں کیا آپ ڈنڈوں، آنسو گیس کے شیلوں اور پکڑ دھکڑ سے ان لوگوں کو واپس بھیج سکتے ہیں جو گھروں سے اس لئے نکلے ہیں کہ وہاں بھوک کا راج ہے اور وہ اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی دینے سے بھی عاجز آ چکے ہیں کیا یہ بے حسی کی انتہا نہیں کہ اسلام آباد میں زندگی مفلوج ہو جاتی ہے لیکن وزیر اعظم معاملے کا نوٹس نہیں لیتے، کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ مسئلہ ان کے نزدیک چھوٹا ہے، انہیں بڑے بڑے مسائل پر توجہ دینی چاہئے۔ انہوں نے اس حساس معاملے کو وزراء پر چھوڑ دیا جو یہ کہہ کر جلتی پر تیل ڈالتے رہے کہ ملازمین کو تنخواہیں بڑھوانے کی بجائے اپنے اخراجات میں کمی کرنی چاہئے۔ اخراجات تو ان کے پہلے ہی کم ہو چکے ہیں کہ مہنگائی نے ان کی آمدنی ہی سیکڑ دی ہے۔ اب تو وہ خود اور اپنے بچوں کو بھوکا رکھ کر ہی اخراجات کم کر سکتے ہیں۔

یہ نئے پاکستان کی وہ حکومت ہے جو اتنی بڑی کابینہ کا بوجھ تو برداشت کر سکتی ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کر سکتی۔ یہ وہ حکومت ہے جو ارکانِ اسمبلی کو پچاس پچاس کروڑ روپے دینے کے راستے تو تلاش کرتی ہے، مگر ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ نہیں کرتی۔ یہ ترجیحات کا معاملہ ہے جس میں حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ کل پرویز خٹک کہہ رہے تھے کہ ملازمین اگلے بجٹ تک صبر کریں، اس میں تنخواہیں بڑھائیں گے کوئی عقل کا اندھا ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ سرکاری ملازمین ایسے بیانات سے مطمئن ہو جائیں گے۔ یوں اسلام آباد میں اب ہر روز کوئی طبقہ احتجاج کرتا ہے، تاہم سرکاری ملازمین کے احتجاج نے اس حکومت کی بے تدبیری کو بے نقاب کر دیا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -