پشاور میں پولیس شہداء کے لواحقین کا احتجاجی مظاہرہ

پشاور میں پولیس شہداء کے لواحقین کا احتجاجی مظاہرہ

  

پشاور (سٹی رپورٹر)پشاور دوران سروس فوت ہونیوالے پولیس شہداء کے ورثاء نے اپنے مطالبات کے حق  میں صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا مظاہرے کی قیادت سلیمان،شاہ خالد،زر ولی اور اپراہیم سمیت دیگر ساتھیوں نے کی مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر انکے حق میں مطالبات درج تھے مظاہرین کا کہنا تھا کہ دوران سروس پولیس میں فوت ہونیوالے اور میڈیکل بورڈ پر  یٹائرڈ ملازمین کے بچے اپنے حق کیلئے عرصہ دراز سے در بدر کی ٹھوکرے کھانے پر مجبور ہے انہوں نے کہا کہ appointment,prormotion and trasnfer rules 1989 section 10 (4)کے مطابق 100 فیصد کوٹہ مقرر ہے پھر بھی 2021میں کے اوائل میں  سن کوٹہ والوں سے 25wpmکو بنیادد بنا کر ٹائپنگ ٹیسٹ لیا گیا ہم پوچھنا چاہتے ہے کہ کہ اس سے پہلے سن کوٹہ پر بھرتی (جونیئر کلرکس)بھی اسی شرط کے تابع کی گئی تھی اگر نہیں تو پھر یہ کھلا تضاد ہے انہوں نے کہا کہ حکومت اگر یہ کہنا چاہتی ہے کہ بھرتی سنیارٹی کے بنیادپر ہو گئی تھی تو واضح رہے کہ سنیارٹی کا تو پہلے بھی کوئی لحاظ نہیں رکھا گیا ہے تاہم اگر بھرتی کا سبب کورٹ کا فیصلہ ہے تو ایسے اکثر امیدوار موجوددد ہے جنکے حق میں بھی کورٹ نے فیصلہ دیا ہے لیکن آج تک انہیں حق نہیں ملا انہوں نے ارباب اختیار سے مطالبہ کیا  ہے کہ موجودہ کلرکس کی پوسٹوں سے امیدداروں کی تعداد زیاددہ اگر گنجائش ہو تو چند ایک محرومین کو قد اور عمر مین ممکن حد تک رعایت دے کر یونیفارم والے پوسٹوں پر بھرتی کیا جائے اور سروس کے دوران فوت ہونیوالے پولیس اور میڈیکل بورڈ سے ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کے بچوں کو اسٹینڈنگ آڈر کے مطابق حق دیا جائے بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ کار وسیع کرینگے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -