لانگ مارچ روکنے کاکوئی منصوبہ نہیں، اپوزیشن جو کرنا چاہتی ہے کرلے: عمر ان خان 

      لانگ مارچ روکنے کاکوئی منصوبہ نہیں، اپوزیشن جو کرنا چاہتی ہے کرلے: عمر ...

  

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ لانگ مارچ روکنے کی کوئی پلاننگ نہیں، اپوزیشن جو کرنا چاہتی ہے کرے۔ عوام ان کی کرپشن بچانے کے لیے باہر نہیں نکلے گی۔ایک انٹرویو کے دوران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے سینیٹ میں جا کر قانون پھنس جاتا ہے۔ میثاق جمہوریت میں انہوں نے خود کہا تھا اوپن بیلٹ سے الیکشن ہونا چاہیے لیکن اب یہ پیچھے ہٹ رہے ہیں، ان کی کوشش این آر او ہے جو نہیں ملنا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چار دفعہ مینار پاکستان کو تحریک انصاف نے بھرا تھا۔ میں نے لوگوں کو کرپشن کے خلاف باہر نکالا تھا۔ یہ جو مرضی کر لیں، عوام باہر نہیں نکلیں گے۔ملکی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مہنگائی کی اصل وجہ روپے کی قدر کم ہونا ہے۔ ڈالر بڑھنے سے تیل کی قیمتیں دگنا جبکہ ستر فیصد دالیں مہنگی ہوئیں۔ ہماری کوشش ہے لوگوں پر مہنگائی کا بوجھ کم سے کم ہو۔ مہنگائی میں کمی کے حوالے سے اقدامات کر رہے ہیں۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے ساتھ پہلے دن سے بات چیت کو تیار ہیں لیکن انہوں نے این آر او پر آ جانا ہے۔ بڑے، بڑے ڈاکوؤں کا ون پوائنٹ ایجنڈا چوری بچانا ہے۔پیپلز پارٹی سے بات چیت کے سوال پر وزیراعظم مسکرا دیئے اور کہا کہ ان کو اچھی طرح جانتا ہوں، کیا بات کروں، انہوں نے اقتدار میں رہ کر چوری کی۔ان کا کہنا تھا کہ عام لوگوں سے نہیں، وزیراعظم کی چوری سے ملک تباہ ہوتے ہیں۔ ملائیشیا میں بھی نواز اور زرداری جیسے لوگوں نے ملک لوٹا۔ جن ممالک میں کرپشن نہیں انہوں نے ترقی کی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے سرکاری زمینیوں پر قبضے کیے۔ میں نے تو کہا تھا جس نے ملک لوٹا نہیں چھوڑوں گا۔ سیاستدانوں نے اربوں کی سرکاری زمینوں پر قبضے کیے، مزید انکشافات سامنے آنے والے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میری پارٹی کے اگر کسی شخص نے کوئی قبضہ کیا ہوا ہے تو میرے پورٹل پر شکایات بھیجیں، فوری ایکشن ہوگا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 30 سالوں سے سینیٹ الیکشن میں ووٹوں کی خرید وفروخت ہوتی آ رہی ہے۔ 2018ء  میں 20 ارکان کو پیسے لینے پر پارٹی سے نکال دیا تھا۔وزیراعظم نے کہا کہ اگر میرے پاس ویڈیو ہوتی تو پہلے ہی عدالت میں پیش کر دیتا۔ ویڈیو سامنے آنے سے ثابت ہو گیا کہ سینیٹ الیکشن میں پیسہ چلتا ہے۔ ویڈیو معاملے کی تحقیقات کے لیے ہدایات جاری کر دی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں ویڈیو پیش کرنے کے معاملے کو اٹارنی جنرل دیکھ رہے ہیں۔ سینیٹ الیکشن اگر سیکرٹ بیلٹ سے ہوئے تو اپوزیشن والے پھر بھی روئیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے راولپنڈی کے نالہ لئی منصوبے کی منظوری دیتے ہوئے اس پر فوری طور پر کام شروع کرنے کی منظوری دیدی ہے۔ عمران خان کے زیر صدارت نالہ لئی منصوبے کے حوالے سے اجلاس ہوا جس میں وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اور سینئر افسران شریک ہوئے۔ڈاکٹر سلمان شاہ اور چیف سیکرٹری پنجاب نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ اس منصوبے کا تخمینہ 75 ارب روپے ہے جو دو سال میں مکمل ہوگا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت نالہ لئی کے دونوں اطراف ایکسپریس وے تعمیر کی جائے گی۔ سرکاری زمین پر دو مالز بھی بنائے جائیں گے۔ منصوبے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت مکمل کیا جائے گا۔وزیراعظم نے منصوبے پر فوری طور پر کام شروع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ علاقے کی زوننگ اور ذیلی قوانین میں تبدیلی کا عمل بھی چند ہفتوں میں مکمل کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ایکسپریس وے کے دونوں اطراف کثیر المنزلہ اور کمرشل مارکیٹیں تعمیر ہو سکیں گی۔ راولپنڈی کے مسائل حل کرنا اولین ترجیح ہے۔ منصوبہ راولپنڈی شہر کی ٹرانسفارمیشن میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ایک اور اجلاس میں زیراعظم نے انتظامیہ کو  اشیائے ضروریہ کے مقرر کردہ نرخ ناموں پر عمل درآمد کو یقینی بنا نے کی ہدایت کر تے ہوئے چیف سیکرٹریز کواس حوالے سے  غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف  کاروائی یقینی بنانے کا حکم دے دیا، وزیر اعظم نے کہا کہ  افسران کو غریبوں کی تکالیف کا احساس کرنا ہوگا،تفصیلات کے مطابق جمعرات کو وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت کسان (پھل اور سبزی)منڈیوں کی تعداد میں اضافے  اور گندم سے آٹے کی پیداوار میں اضافے کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا،اجلاس میں وفاقی  و صوبائی وزرا، سیکرٹری صاحبان اور چیف سیکرٹری صاحبان سمیت سینئر افسران شریک  ہوئے، اجلاس میں گندم سے آٹے کی پیدا وار میں اضافے کے لئے فلور ملوں میں پسائی کا تناسب  80:20کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا جبکہ سرکاری سطح پر گندم کی خریداری، ترسیل و سٹوریج کے ضمن میں انتظامی اخراجات میں کمی لانے کا فیصلہ کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ کو اس حوالے سے ایک ہفتے میں پلان پیش کرنے کی ہدایت  کی گئی، وزیر اعظم کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں فروٹ اور سبزی منڈیوں کے قیام میں نجی شعبے کو شامل کرنے کے حوالے سے پنجاب میں منڈیوں  کے قیام سے متعلقہ قوانین میں نظر ثانی کا فیصلہ  بھی کیا گیا ہے، وزیرِ اعظم  نے منڈیوں کے قیام کے حوالے سے قوانین  اور طریقہ کار کو آسان بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے انتظامیہ کو  اشیائے ضروریہ کے مقرر کردہ نرخ ناموں پر عمل درآمد کو یقینی بنا نے کی ہدایت کر دی، وزیراعظم نے چیف سیکرٹریز کو اس حوالے سے  غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف  کاروائی یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ افسران کو غریبوں کی تکالیف کا احساس کرنا ہوگا۔وزیرِ اعظم  عمران خان نے بنکوں کے متحرک کردار اور تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے گورنر سٹیٹ بنک اور چیئرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کو ہدایت کی کہ کم آمدنی والے افراد کو قرضوں کی فراہمی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے اور اس عمل میں کسی بھی پیش آنے والی رکاوٹ کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جائے، راوی اربن ڈویلپمنٹ منصوبہ لاہور شہر کے مسائل حل کرنے  اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں ایم سنگ میل ثابت ہوگا۔جمعرات کو وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی برائے ہاؤسنگ، کنسٹرکشن و ڈویلپمنٹ کا ہفتہ وار اجلاس ہو اجس میں ملک میں جاری تعمیراتی سرگرمیوں، بنکوں کی جانب سے ڈویلپرز، سرمایہ کاروں اور خصوصا کم آمدنی والے افراد کو ذاتی مکان کی تعمیر کے لئے آسان قرضوں کی فراہمی   اور تعمیرات سے متعلقہ دیگر معاملات کا جائزہ  لیا گیا۔ گورنر سٹیٹ بنک  نے اجلاس کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ مارک اپ سبسڈی کے حوالے سے محض چند ہفتوں میں اب تک آسان قرضوں کے لئے آٹھ ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں  جن میں سے تقریبا دو ہزار کے قریب (1820)  منظور ہو چکی ہیں اور منظور شدہ قرضے کا حجم پانچ ارب روپے ہے۔ سینئر صوبائی وزیر پنجاب  علیم خان نے اجلاس کو بتایا کہ بلڈرز اور ڈویلپیرز  اس امر کے معترف ہیں کہ تعمیرات کے لئے قرضے فراہم کرنے کے حوالے سے بنک نہایت متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ سٹیٹ بنک کی کاوشوں اور بنکوں کے تعاون سے کم آمدنی والے افراد کو ذاتی مکان کے لئے قرضوں کی فراہمی کے لئے یکساں اور اسٹینڈرڈ  درخواست فارم رائج کیا گیا ہے تاکہ آسان قرضوں کی فراہمی کے عمل کو آسان ترین بنایا جا سکے۔سیکرٹری ہاسنگ نے اجلاس کو بتایا کہ وزارتِ ہاسنگ نے بنک آف پنجاب اور الفلاح بنک سے مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت ان بنکوں کی جانب سے  طے شدہ شرح پر  گھروں کی تعمیر کے لئے قرض  فراہم  کیا جائے گا اور اس قرضے کے لئے رقم کی کوئی حد نہیں ہوگی۔ اس طرح اس عمل سے وہ لوگ بھی استفادہ حاصل کر سکیں گے جن پر مارک اپ سبسڈی سکیم کا اطلاق نہیں ہوتا۔  وزیرِ اعظم نے بنکوں کے متحرک کردار اور تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔۔وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ پراجیکٹ کے حوالے سے منعقدہ سرمایہ کاروں کی کانفرنس میں اب تک پانچ بڑے سرمایہ کاروں کی جانب سے دلچسپی کا  باقاعدہ اظہار کیا جا چکا ہے۔ مزید دو سرمایہ کار کمپنیاں بھی اس منصوبے میں سرمایہ کاری  میں دلچسپی رکھتی ہیں اور ان کی جانب سے باقاعدہ طور پر اس  حوالے سے پیش رفت کی جا رہی ہے۔

وزیر اعظم

مزید :

صفحہ اول -