امریکی محکمہ خارجہ کا بیان کشمیر کی متنازعہ  حیثیت سے متصادم، مایوس کن، پاکستان

 امریکی محکمہ خارجہ کا بیان کشمیر کی متنازعہ  حیثیت سے متصادم، مایوس کن، ...

  

  اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان نے امریکی  محکمہ خارجہ کی  جانب سے سماجی رابطہ کی ویب سائٹ پر مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت سے متصادم بیان کو  مایوس کن قرار دیا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے، بین الاقوامی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی روکنے کے لئے بھارت پر زور ڈالے۔جمعرات کو ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں فور جی انٹرنیٹ سروس کے دوبارہ آغاز سے متعلق امریکی بیان کو مایوس کن قرار دے دیا۔انہوں نے  کہا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے سماجی رابطہ کے ویب سائٹ پربیان دیکھ کر مایوسی ہوئی ہے، امریکی محکمہ خارجہ کا بیان جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت سے متصادم ہے، کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ میں دیرینہ مسئلے کی حیثیت رکھتا ہے۔بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل نہیں ہوسکا، کشمیر کے عوام کی معاشی اور سیاسی ترقی کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حق خودارادیئت دینے میں  ہے،ترجمان دفتر خارجہ نے زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی کوشش کی جائے، بین الاقوامی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی روکنے کے لئے بھارت پر زور ڈالے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے کی گئی ایک ٹوئٹ میں خطے کی متنازعہ حیثیت کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے حقائق کے برعکس ٹوئٹ کرائی جس میں بھارت کا جموں کشمیر لکھا گیا ہے۔تاہم امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نیڈ پرائس نے واضح کیا ہے کہ کشمیر پر امریکی پالیسی میں تبدیل نہیں ہوئی اور امریکا اب بھی کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک متنازع علاقہ سمجھتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ

مزید :

صفحہ اول -