تحریک لبیک کے رہنماؤں کے نام فورتھ شیڈول سے نکالنے کا فیصلہ، حکومت سے معاہدہ طے 16فروری کا احتجاج ملتوی 

تحریک لبیک کے رہنماؤں کے نام فورتھ شیڈول سے نکالنے کا فیصلہ، حکومت سے معاہدہ ...

  

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)حکومت کا تحریک لبیک کے ساتھ معاہدہ طے پاگیا،جس  کے بعد ٹی ایل پی نے 16فروری کو اسلام آباد میں احتجاج ملتوی کر دیا، معاہدے میں طے کئے  گئے نکات کے مطابق  فورتھ شیڈول میں ڈالے گئے تحریک لبیک کے افراد کے نام نکال دیئے جائیں گے،حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے  مندرجات میں حکومت نے ایک بار پھر نومبر2020کے معاہدے پر اپنا عزم دہرایا، حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان معاہدے کی شقوں کو20اپریل 2021تک پارلیمنٹ میں پیش کیاجائیگا،معاہدے  کے  نکات میں کہا گیا ہے کہ فیصلے پارلیمنٹ کی منظوری سے طے کئے جائیں گے، دوسری جانب  وزیراعظم عمران خان نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہماری ٹیم ٹی ایل پی کیساتھ بات چیت کررہی تھی جس کا مثبت نتیجہ نکلا  اور ٹی ایل پی کیساتھ حکومت کا معاہدہ طے پایا گیا ہے، کامیاب مذاکرات کے بعد ٹی ایل پی نے ختم نبوت کے قانون سے متعلق اپنی ڈیڈلائن فروری سے بڑھا کر 20اپریل کردی ہے،وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بیس اپریل کے بعد ٹی ایل پی کے مطالبات پارلیمنٹ میں رکھیں گے، آج ٹی ایل پی اور اپنے ملک کے لوگوں کو کہناچاہتاہوں کہ ہماری حکومت سے پہلے کسی نے حضرت  محمدؐ  کی شان کیلئے واضح موقف نہیں اپنایا، میں یہ بات فخر سے کہہ سکتاہوں کہ ہماری حکومت نے حساس معاملے پر عالمی سطح پر واضح موقف اپنایا، وزیراعظم نے واضح کیا کہ نبی کریم حضرت محمد  ؐ کی شان سے متعلق موقف ووٹ کیلئے نہیں لیایہ میرا عقیدہ ہے، انہوں نے کہا مغربی ممالک میں بیٹھے فتنے کو سمجھ نہیں آتی کہ ہمارا کیا عقیدہ ہے؟میں نے یہ معاملہ اوآئی سی اور یواین میں بار بار اٹھایا،وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ختم نبوت سے متعلق مسلم ممالک کی جانب سے اب رد عمل آرہے ہیں، اسلامی ممالک کے چار، پانچ حکمرانوں کی طرف سے ردعمل آیا، جبکہ حضرت محمدؐ  کی شان  میں فرانس کی جانب سے گستاخی پر یو این نے  ہمارے موقف کی تائید کی۔

تحریک لبیک معاہدہ

مزید :

صفحہ اول -