صدر جوبائیڈن کا چینی ہم منصب کو فون، غیر منصفانہ اقتصادی عمل پراظہار تشویش 

      صدر جوبائیڈن کا چینی ہم منصب کو فون، غیر منصفانہ اقتصادی عمل پراظہار ...

  

واشنگٹن(اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں امریکہ اور چین کے باہمی تعلقات کے حوالے سے نہایت اہم معاملات رونما ہوئے جن سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کے نئے دور میں یہ کونسا رخ اختیار کرینگے صدر بائیڈن نے پہلی مرتبہ اپنے چینی ہم منصب ژی جن پنگ کو ٹیلی فون کال کی۔ اسی شام پینٹاگون کے دورے میں چین کے ساتھ فوجی تعلق کا جائزہ لیتے ہو ئے اسے مزید سخت بنانے کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اسی سہ پہر پہلی مرتبہ تائیوان کسی سرکاری نمائندہ خاتون سیاؤبی کھم کا واشنگٹن کے محکمہ خارجہ کی عمارت میں خیر مقدم ہوا جس نے امریکہ کے قا ئم مقام نائب وزیر خارجہ برائے مشرقی ایشیا سنگ کم سے باقاعدہ مذاکرات کئے۔ امریکہ اور چین کے سربراہوں نے ٹیلی فون پر جو بات چیت کی اس کی وائٹ ہاؤس نے تفصیل بیان کی ہے صدر بائیڈ ن نے اپنی بات چیت میں چینی لیڈر کو ان کے انتہائی شدید اور ناجائز اقتصادی عمل اور سنکیانگ کے صوبے میں یغور مسلم اقلیت کے ساتھ انسانی حقوق کی پامالی کے معاملات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ ا مر یکی لیڈر نے نانگ کانگ میں سیاسی آزادیوں پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کے ساتھ ساتھ تائیوان سمیت خطے میں چین کے مبینہ جارحانہ اقدامات پر اپنی ناپسندیدگی سے بھی انہیں آگاہ کیا۔ بیجنگ کے و قت کے مطابق صدر بائیڈن نے جمعرات کی صبح یہ کال کی جو چین کے قمری سال کا پہلا دن ہے جس کی انہوں نے مبارکباد بھی دی۔ انہوں نے اس موقع پر واضح کیا کہ وہ امریکہ اور اپنے اتحادیوں کے مفا دات کو مدنظر رکھتے ہوئے چین کے ساتھ عملی اور نتیجہ خیز رابطوں کو برقرار رکھنے پر کاربند رہیں گے وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں لیڈروں نے کووڈ19- کی وباء کے خاتمے پر تبادلہ خیال کیا اور عالمی  ہیلتھ سکیورٹی، ماحولیاتی تبدیلی اور ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے چیلنجوں پر بھی بات چیت کی۔قبل ازیں صدر بائیڈن نے پینٹاگون کے دورے میں وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کو ہدایت کی کہ وہ چین کے ساتھ فوجی پالیسی کو مزید سخت بنائیں اور اس حوالے سے اپنی قومی سلامتی کی پالیسی کا جائزہ لینے کے لئے ایک ٹاسک فورس تشکیل دیں یاد رہے کہ قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ انیٹونی بلنکن اپنے چینی ہم منصب یانگ جیچی سے بات چیت کر چکے ہیں لیکن وہ باہمی اختلافات کو کم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ صدر بائیڈن نے پینٹاگون کے اپنے پہلے دورے میں چین کے ساتھ سابق صدر ٹرمپ کی سخت گیر پالیسی کو جاری رکھنے کا عندیہ دیا تاہم ساتھ میں یہ بھی واضح کر دیا کہ اس کے ساتھ جنگ ان کا آخری آپشن ہو گا۔امریکہ نے تائیون کے ساتھ اپنے روابط قائم کر رکھے ہیں جسے چین اپنے ملک کا حصہ سمجھتا ہے اور وہ امریکہ کی اس پالیسی کو پسند نہیں کرتا۔ امریکہ تائیوان سے تعلق بڑھانے میں ہمیشہ محتاط رہا ہے۔ تاہم اب پہلی مرتبہ تائیوان ایک سرکاری نمائندہ سیاؤجی کھم کا واشنگٹن میں باقاعدہ خیر مقدم ہوا جنہوں نے امریکہ کے مشرقی ایشیا اوریجن والے قائم مقام نائب وزیر خارجہ سنگ کم سے محکمہ خارجہ کی عمارت میں ملاقات کی۔ تائیوان کی نمائندہ نے اس ملاقات کو بہت سودمند قرار دیا ہے جس میں محکمہ خارجہ کے بیان کے مطابق امریکہ نے تائیوان کو یقین دلایا ہے کہ وہ چین کے مقابلے پر پوری مضبوطی سے اس کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

صدرر بائیڈن

مزید :

صفحہ اول -