سندھ حکومت نے 1.4ایم ایم ٹن گندم خریدنے کی منظوری دیدی، قیمت 200روپے فی من برقرار

    سندھ حکومت نے 1.4ایم ایم ٹن گندم خریدنے کی منظوری دیدی، قیمت 200روپے فی من ...

  

کراچی (سٹاف رپورٹر)سندھ کابینہ نے1.4 ایم ایم ٹن گندم خریدنے کا ہدف مقرر کرنے کی منظوری دیدی ہے۔ 2000 روپے فی 40 کلوگرام سپورٹ پرائس برقرار رکھی جائے گی۔جبکہ کابینہ نے وفاقی کابینہ کی جانب سے سندھ حکومت پر گندم کی ذخیرہ اندوزی کے الزام کو مسترد کردیا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا۔اجلاس میں صوبائی وزراء، چیف سیکریٹری، مشیر اور متعلقہ افسران شریک ہوئے۔اجلاس میں سندھ کابینہ نے کویت انویسٹمنٹ اتھارٹی کیساتھ ایم او یو کی توثیق کی ہے۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ کویت گورنمنٹ کی کمپنی سندھ میں 30 ایم جی ڈی واٹر سپلائی ٹو ڈی ایچ اے، کینجھر لیک ریزورٹ پروجیکٹ اور ٹی پی-  3 واٹر ٹیٹمنٹ میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے جس پر کابینہ نے ایم او یو کی منظوری دیدی ہے۔دوران اجلاس بریفنگ میں بتایا گیا کہ 8 لاکھ ٹن گندم محکمہ خوراک کے پاس موجود ہے، اس موقع پر کابینہ نے باردانہ 80 فیصد پی پی بیگز اور 20 فیصد جٹ بیگز خریدنے کی منظوری دی ہے۔سندھ کابینہ نے وفاق کی جانب سے سندھ پر گندم کی زخیرہ اندوزی کے الزام کو متفقہ طور پرمسترد کردیا ہے۔کابینہ ارکان نے کہا کہ ملک میں گندم کا بحران پنجاب سے 60 لاکھ ٹن گندم غائب ہونے سے ہوا، وفاقی حکومت پنجاب میں گندم غائب ہونے کا الزام سندھ پر نہ لگائیں، سندھ کابینہ گندم اسٹاک کی موجودگی کا جائزہ لے گی،اس حوالے سے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے،کمیٹی میں مکیش چاولہ، شبیر بجارانی، ہری رام اور وزیر اینٹی کرپشن اکرام اللہ دھاریجو شامل ہیں۔کمیٹی گندم اسٹاک کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ ہفتوں میں دیگی۔

گندم 

مزید :

صفحہ اول -