15 کنال رقبہ پر سوشل سکیورٹی ہسپتال تعمیر ہوگا‘ ڈاکٹر احمد جاوید 

  15 کنال رقبہ پر سوشل سکیورٹی ہسپتال تعمیر ہوگا‘ ڈاکٹر احمد جاوید 

  

ڈیرہ غازیخان (سٹی رپورٹر) ڈیرہ غازیخان میں پندرہ کنال رقبہ پر سوشل سکیورٹی ہسپتال تعمیر ہو گا جس کیلئے دانش سکول سے ملحقہ سرکاری رقبہ محکمہ کے نام منتقل کر دیاگیا ہے. جلد تعمیراتی کام شروع کرنے کیلئے بھی حکمت عملی مرتب کر لی گئی. ورکرز کے حقوق اور مفادات کیلئے لیبر قوانین میں ضروری ترمیم کر لی گئی. سوشل سکیورٹی سے رجسٹرڈ ورکرز کو ریڈایبل کارڈ جاری ہو ں گے او رہر ورکر(بقیہ نمبر41صفحہ 6پر)

 کا ریکارڈ آن لائن ممکن ہو سکے گا. میرج گرانٹ ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر دو لاکھ روپے اور ڈیتھ گرانٹ پانچ لاکھ سے بڑھا کر چھ لاکھ روپے کر دی گئی ہے. میرج اور ڈیتھ گرانٹ نظام کو مارچ تک کمپیوٹرائزڈ کر لیا جائے گا. اب ورکرز کو فلیٹس کرایے پر نہیں بلکہ مالکانہ حقوق کے ساتھ ملیں گے جس کیلئے ہاوس الاٹمنٹ پالیسی بنائی جا رہی ہے. لیبر ویلفیئر کے سکولز کی تعداد بڑھانے کے ساتھ ہائر سکینڈری سکول تک اپ گریڈ کیا جائے گا. کم سے کم اجرت کے قانون میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جارہاہے جلد ورکرز کو خوش خبری ملے گی. بے روزگار افراد کیلئے جاب پورٹل بھی متعارف کرائی جا رہی ہے. پورٹل رجسٹرڈ افراد کو نزدیک ترین جاب، تربیت، قرضہ، حقوق سے آگاہی اور دیگر معلومات خود فراہم کرے گا. یہ خوش خبریاں سیکرٹری لیبر و افراد ی قوت پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے ڈپٹی کمشنر آفس میں منعقدہ محکمانہ اجلاس میں بتائیں. ڈائریکٹر جنرل لیبر و افرادی قوت فیصل نثار چودھری، کمشنر سوشل سکیورٹی پنجاب ڈاکٹر سید بلال حیدر، ڈائریکٹر لیبر رانا جمشید فاروق، ڈائریکٹر سوشل سکیورٹی ڈاکٹر مظفرعباس، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیبر شاہد حمید لغاری اوردیگر موجود تھے. سیکرٹری لیبر و افرادی قوت نے مزید کہاکہ لیبر تنظیموں کے ساتھ قریبی رابطہ اور بہتر تعاون کی فضا قائم کی جائے گی ورکرز  کا مفاد سب سے زیادہ عزیز ہے. انسانی عضو کی معذوری اور جان محفوظ کرنے کیلئے ہیلتھ اور سکیورٹی نظام پر کام کر رہے ہیں. نئے نظام کے تحت لیبرآفیسرز  کی کارکردگی کو آن لائن مانیٹر کیا جائیگا افسران لیبر قوانین پر عملدرآمد کیلئے محنت کریں اور کارکنوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے. اس موقع پر ورکرتنظیموں کے مسائل بھی سنے گئے. سیکرٹری لیبر نے سوشل سکیورٹی ہسپتال کی جگہ کا بھی معائنہ کیا۔

ڈاکٹر احمد

مزید :

ملتان صفحہ آخر -