نیب ایسا ادارہ بن گیا جو سمجھتا ہے ہم سے کوئی سوال نہیں کر سکتا: ڈپٹی چیئر مین سینیٹ 

نیب ایسا ادارہ بن گیا جو سمجھتا ہے ہم سے کوئی سوال نہیں کر سکتا: ڈپٹی چیئر مین ...

  

اسلام آباد (این این آئی)ڈپٹی چیئر مین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ نیب ایسا ادارہ بن گیا جو سمجھتا ہے ہم سے کوئی سوال نہیں کرسکتا، پتہ نہیں کیوں سمجھتا ہے وہ جوابدہ نہیں ہے،چاہتے ہیں پہلے نیب کا احتساب ہو نیب کے ادارے کا احتساب ہو،نیب نے جتنی بھی ریکوری کی ہے وہ دراصل پلی بارگین ہے،نیب کے قانون میں تبدیلی ہونی چاہئے بہتری آئیگی۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں اجلاس ہوا جس میں نیب متاثرین نے شرکت کی۔ اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے کینیڈا، امریکا سے بھی نیب متاثرین شریک ہوئے۔ڈپٹی چیئر مین سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ چیئرمین نیب کہتے ہیں کہ کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں، لوگ تو ملک چھوڑ کر جا ہی نہیں رہے۔اس موقع پر نیب متاثرین ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کے سامنے پھٹ پڑے۔اجلاس میں متاثرین نے موقف اپنایا کہ نیب کا ادارہ بغیر وجہ کے کیس بناتا ہے، ہم نے کوئی کرپشن نہیں کی، نیب کیسز کی وجہ سے کاروبار تباہ ہوگئے۔امریکا میں مقیم پاکستانی نے اجلاس میں بتایا کہ نیب نے ایسا کیس بنایا کہ میری خاندانی زمین کو آمدن سے زائد اثاثہ بنا دیا گیا،نیب ملتان میں میرے والد کے خلاف کیس دائر کیا گیا، میرے والد شدید علیل ہیں، پاکستان آکر نیب میں پیش نہیں ہوسکتے۔نیب متاثرین نے کہا کہ یہ ہمارے ملک کیلئے افسوسناک صورتحال ہے، نیب کو عمران خان نے طاقتور بنایا لیکن عوام کو ریلیف نہیں ملا۔ڈپٹی چیئر مین سینیٹ نے کہا کہ بعض لوگ غلط جگہ پر سرمایہ کاری کرتے ہیں اور مسائل کا سامنا کرتے ہیں،نیب کی 400 بلین کی ریکوری کوئی معنی نہیں رکھتی۔سلیم مانڈوی والا نے کہاکہ کاروباری افراد سے پیسے نکالنا آسان ہے کیونکہ وہ گرفتار نہیں ہونا چاہتے، کاروباری افراد کو کہا جاتا ہے ہم آپ کا کاروبار تباہ کر دیں گے۔سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ وزیراعظم نے خود سٹاک ایکسچینج میں جا کر تسلیم کیا کہ نیب قوانین اور اختیارات میں مسائل ہیں۔

ڈپٹی چیئر مین سینیٹ

مزید :

صفحہ اول -