'پولیس نے مجھے حراست میں لے کر زبردستی گاڑی میں بٹھایا' عطا تارڑ کا الزام 

'پولیس نے مجھے حراست میں لے کر زبردستی گاڑی میں بٹھایا' عطا تارڑ کا الزام 
'پولیس نے مجھے حراست میں لے کر زبردستی گاڑی میں بٹھایا' عطا تارڑ کا الزام 

  

وزیرآباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ نے الزام عائدکیا ہے کہ پولیس نے مجھے حراست میں لے کرزبردستی گاڑی میں بٹھایا اور ہمارے ملازمین پر تشدد بھی کیا۔ 

لیگی رہنما عطا تارڑ نے اپنی مبینہ گرفتار ی اور رہائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا  کہ پولیس نے اسلحے کی چیکنگ کے لیے ہماری گاڑی کو روکا ، ہمارے پاس لائسنس یافتہ اسلحہ تھا لیکن پھر بھی ہمیں پولیس نے زبردستی حراست میں لےکر گاڑی میں بٹھایا ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے ہمارے ملازمین پر تشدد بھی کیا۔ 

دوسری جانب ڈپٹی سپرٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) وزیرآباد نے نجی ٹی وی 92نیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے موقف دیا ہے کہ پولیس نے تلاشی لی جس پر گاڑی سے اسلحہ ملا تو کاغذات دکھانے کے  بعد جانے دیا گیا ، کسی بھی شخص کی گرفتار ی نہیں کی گئی۔ میڈیا پر چلنے والے ویڈیو مسلم لیگ ن کی سوشل میڈیا ٹیم نے بنائی  تھی۔

واضح رہے کہ  عطا تارڑ ضمنی الیکشن میں لیگی امیدوار کی انتخابی مہم کے لیے  وزیرآباد میں موجود ہیں ۔ کچھ دیر قبل میڈیا پر ایک ویڈیو چلائی گئی جس میں دیکھا جاسکتا ہے عطا تارڑ پولیس کی گاڑی میں بیٹھے ہیں اور کچھ دیر بعد ان کو رہا کر دیا جاتا ہے۔ جس پر عطا تارڑ کا موقف ہے کہ انہیں زبردستی پولیس نے حراست میں لیاجبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ کسی شخص کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا۔ 

مزید :

علاقائی -پنجاب -حافظ آباد -