درجہ چہارم کی نئی بھرتیاں،مافیا سرگرم، لوٹ مار کا منصوبہ

درجہ چہارم کی نئی بھرتیاں،مافیا سرگرم، لوٹ مار کا منصوبہ

  

جام پور،کہروڑ پکا(نامہ نگار،نمائندہ خصوصی) حکومت پنجاب کی طرف محکمہ ایجوکیشن میں درجہ چہارم کی نئی بھرتیوں کے لئے ضلع بھر میں مختلف قسم کی تقریبا چھ سو گیارہ سیٹوں کا باقاعدہ  طور پر اخبار اشتہارات شائع کیا گیا تھا اشتہار شائع ہوتے ہی مافیا نے عوام کو لوٹنے کے لئے کمر کس لی نوکری دلوانے کے لئے دوکانیں سجا لیں بیچ میں بروکر چھوڑ دیے جنہوں فی بندہ سے تین لاکھ سے اڑھائی لاکھ روپے  کی ڈیمانڈ کرنے لگے اتنی بڑی ڈیمانڈ سنتے ہی تعلیم یافتہ غریب بیروزگار نوجوانوں کے مایوسی سے منہ لٹک گئے کسی نوجوان نے اللہ تعالی کا نام لے کر ڈاکومنٹس جمع(بقیہ نمبر7صفحہ6پر)

 کروائے اور کوئی مایوس ہو کر گھروں کو چل دیے نوجوان بچوں کی مایوسی کو دیکھتے ہوئے والدین اور بھائیوں، ساجد حسین، احمد بخش، محمد بلال، ملک سونا خان، مجاہد بشیر، شاہد سلیم، ملک شاہزیب، انس اقبال، جاوید اقبال پپو، سید عمران شاہ، جنید جاوید، نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ تو خدا کے عزاب سے ڈریں  یہ لوگ پہلے ہی بے تحاشا مہنگائی نے ہم غریب عوام کا بھڑکس نکال دیا اب تم لوگ کچھ خدا کا خوف کھا یہ ہٹیاں بند کرو انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ ہمارے پاکستان کے لیڈر اور ورکر وزیراعظم ہیں آپ ہی پنجاب کے تعلیم یافتہ بیروزگاروں کی خبر لیں۔کلاس فور کے 335 ملازمین کی بھرتی،فی سیٹ بولی 7 لاکھ تک پہنچ گئی ایک خواہش مند نے نوکری کے لیے گردہ بیچنے کا اعلان کر دیامبینہ پالیسی لیٹر کے مطابق 3 اراکین اسمبلی کو40، 40،ٹکٹ ہولڈر کو 27،27سی ایم کو 107 سیٹیں حاصل ہونگئیں رقمیں اور فائلیں وصول کرنے والے ٹاوٹ کون؟ٹکٹ ہولڈر فراز نون نے اپنے نام پر کسی کو رقم نہ دینے کا اعلان کردیا امیدوار ذلیل وخوار ہو گئے میلسی کے تعلیمی ادارے کا چپڑاسی بھی فائلیں وصول کرنے میں سرگرم تفصیل کے مطا بق حکومت پنجاب نے بلدیاتی الیکشن سے قبل سرکاری نوکریاں دینے کا اعلان کیا ہیضلع لودھراں میں محکمہ تعلیم میں درجہ چہارم کی 335 سیٹوں کی تشہیر کی گئی اور عوام سے درخواستیں طلب کی گئیں اس سلسلہ میں شوشل میڈیا پر ایک مبینہ لیٹر وائرل ہو گیا ہے جس میں مبینہ طور پرتحریک انصاف کے ایم این اے،ایم پی اے اور پارٹی کے ٹکٹ ہولڈرز امید واروں میں 335 سیٹوں کی کچھ اس طرح تقسیم کی ہیکہ ایم این اے شفیق ارائیں 40،ایم پی اے زوار حسین وڑائچ 40،ایم پی اے نزیر خان بلوچ 40،کامیاب نہ ہونے والیٹکٹ ہولڈرز امیدواروں میں اختر کانجو،نواب امان اللہ،طاہر ملیزئی،فراز نون کو 27،27 اور خود وزیر اعلی نے 107 سیٹیں اپنے پاس رکھی ہیں (جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ جہانگیر خان ترین کو دی گئی ہیں) اس پالیسی لیٹر کے وائرل ہونے کے بعد سیاست دانوں کے ویران ڈیروں کی رونقیں بحال ہو گئی ہیں اور لوگ نوکری کے حصول کے لیے ان کے ڈیروں کا طواف کر رہے ہیں اسی دوران اچانک مبینہ ٹاوٹ مافیا سرگرم ہو گئے اور بھرتی کروانے کے لیے فائلیں اور پیسے پکڑنے لگ گئیمبینہ طور پر بولی 4 لاکھ سے شروع ہو کر 7 لاکھ تک پہنچ چکی ہے نوکری حاصل کرنے کے ایک امید وار نے شوشل میڈیا پر احتجاجا اپنا ایک گردہ فروخت کرنے کا اعلان کردیاہے تاکہ ملنے والی رقم سے وہ نوکری حاصل کرسکے مبینہ طور پر میلسی کے ایک تعلیمی ادارے کا چپڑاسی بھی فائلیں پکڑنے میں پیش پیش ہے یہ ٹاوٹ مافیا کون ہیں؟ یہ کس کے کہنے پر فائلیں اور رقمیں وصول کر رہے ہیں مبینہ بھرتی پالیسی لیٹر کی تاحال کسی ذریعہ سے بھی تردید نہ کی گئی ہے جبکہ ٹاوٹ مافیا کے سرگرم ہونے پر پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر رانا فراز نون کی میڈیا ٹیم کی طرف سے پوسٹ جاری کی گئی ہے کہ درجہ چہارم کی سیٹ کیلئے رانا محمد فراز نون یا ان کے والد رانا اعجاز نون کے نام پر کسی سے کوئی لین دین نا کریں کیونکہ درجہ چہارم کی کوئی بھی سیٹ بکا نہیں ہے اور نا ہی نون فیملی کا  ایسے کسی شخص سے کوئی تعلق ہے کسی بھی دھوکے بازی یا فراڈ کی صورت میں پیسے دینے اور لینے والا خود د ذمہ دار ہوگا درجہ چہارم کی بھرتی کے لیے  کوئی میرٹ پالیسی واضع نہ ہونے پر امیدوار ذلیل وخوار ہو کر رہ گئے ہیں۔

نوٹس

مزید :

ملتان صفحہ آخر -