ڈاکٹرنوشین،نمرتا کے جسم،کپڑوں سے ایک ہی شخص کے اجزا ء ملے 

ڈاکٹرنوشین،نمرتا کے جسم،کپڑوں سے ایک ہی شخص کے اجزا ء ملے 

  

  لاڑکانہ (نیوزایجنسیاں) لاڑکانہ کے چانڈکا میڈیکل کالج کی طالبہ ڈاکٹر نوشین کاظمی کی ہلاکت سے متعلق میڈیکل رپورٹ میں حیران کن انکشافات سامنے آئے ہیں۔ جامشورو کی فرانزک اینڈ مالیکیولر لیبارٹری نے ڈی این اے رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں انکشاف ہوا کہ ڈاکٹر نوشین کاظمی اور ڈاکٹر نمرتا کماری کے جسم سے ملنے والے اجزا ایک جیسے ہیں جبکہ دونوں طالبہ کے جسم اور کپڑوں سے ملنے والے اجزا ایک ہی شخص کے ہیں۔ رپورٹ سامنے آنے کے بعد سیشن جج لاڑکانہ کی نگرانی میں جوڈیشل کمیشن نے تفتیش شروع کر دی ہے لیکن تاحال ملزم گرفتار نہیں ہوسکا ہے۔ نومبر2021میں گرلز ہاسٹل کے کمرے سے ڈاکٹر نوشین کاظمی کی لاش ملی تھی جبکہ ڈاکٹر نمرتا کی 16 ستمبر 2019 کو گرلز ہاسٹل کے کمرے سے لاش ملی تھی۔ ڈاکٹر نوشین کاظمی کی خودکشی کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن بھی قائم کا گیا تھا۔دوسری جانب ڈاکٹر نوشین کاظمی کی سنسنی خیز ڈی این اے رپورٹ پر لاڑکانہ یونیورسٹی کا ردِ عمل بھی سامنے آ گیا۔ ڈی این اے رپورٹ کو لاڑکانہ یونیورسٹی نے بدنیتی پر مبنی قرار دیدیا ہے۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ لمس کی رپورٹ نے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے، ڈاکٹر نوشین کیس میں عدالتی احکامات کے بغیر نمرتا کے سیمپلز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ غیر قانونی ہے۔اجلاس نے قرار دیا کہ ڈاکٹر نوشین کی رپورٹ سے نمرتا کیس کی جوڈیشل انکوائری پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی ہے، بغیر عدالتی حکم کے کسی کیس کے سیمپلز دوسرے کیس سے میچ نہیں کیے جاتے، نہ ہی کوئی لیبارٹری اپنی رپورٹ میں کسی قسم کی سفارش کر سکتی ہے۔اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر نمرتا کیس میں انکوائری کے حکم کے 2 دن بعد ڈی این اے رپورٹ جاری کیا جانا لیبارٹری کی بد نیتی کو ظاہر کرتا ہے۔اجلاس نے الزام لگایا ہے کہ لیبارٹری جوڈیشل انکوائری پر اثر انداز ہونا چاہتی ہے، اس لیے لمس یونیورسٹی انتظامیہ کو بھی جوڈیشل انکوائری میں شامل کیا جائے۔

نوشین،نمرتاکیس

مزید :

صفحہ آخر -