وزرائے کرام کے لیے ایوارڈ ایک نیا تجربہ

وزرائے کرام کے لیے ایوارڈ ایک نیا تجربہ

  

وزیراعظم عمران خان نے ایک نئی روایت ڈالتے ہوئے اپنی حکومت کی دس وزارتوں کو اعلیٰ کارکردگی پر سرٹیفکیٹ دیئے ہیں اور ساتھ ہی کہا ہے جزا کے ساتھ اب سزا کا نظام بھی لائیں گے۔ وفاقی وزیر مراد سعید دس وزارتوں کی رینکنگ میں پہلے نمبر پر آنے والی وزارت کے وزیر ٹھہرے، جبکہ دوسرے نمبر پر اسد عمر رہے۔ اعلیٰ کارکردگی کے معیار کو جانچنے کے لیے کیا پیمانہ اختیار کیا گیا اس کی وضاحت نہیں کی گئی،البتہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے پرفارمنس ان منصوبوں پر عملدرآمد سے جانچی جاتی ہے،جو وزارت پی ایم آفس کو دیتی ہے۔کیا اِس کا مطلب یہ لیا جائے  کہ حکومت کی80فیصد وزارتیں اپنے منصوبوں پر عملدرآمد کرنے میں ناکام رہیں۔وزیر مملکت علی محمد خان کی یہ بات کارکردگی کے پیمانے کو متنازعہ بناتی ہے کہ جو ذمہ داریاں ادا نہیں کرتے وہ ایوارڈ کے حق دار ٹھہرے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان ہمیشہ کچھ مختلف کرنے کی لگن میں رہتے ہیں،اُن کا یہ فیصلہ بھی کہ وزارتوں کی کارکردگی کے حساب سے ایوارڈ تقسیم کیے جائیں اُن کی اسی سوچ کا اظہار ہے،ویسے تو ایسے اقدامات سے مقابلے کی ایک فضا پیدا ہوتی ہے،جس سے کارکردگی بہتر بنانے کا موقع ملتا ہے،تاہم اگر قواعد نہ بنائے جائیں تو بددلی بھی پھیلتی ہے۔ ایوارڈز تقسیم کرنے کی اس تقریب سے ذرائع کے مطابق 80فیصد وزراء غائب تھے،صرف چند ایک ایسے موجود تھے، جنہیں ایوارڈ نہیں دیئے گئے،مگر وہ جذبہ ئ  خیر سگالی کے تحت وہاں آئے۔ اس پر وزیراعظم عمران خان کو یہ کہنا پڑا کہ پہلے سے یہ نہیں بتایا جانا چاہیے تھا کہ کن وزارتوں کو ایوارڈز دیئے جا رہے ہیں،تاکہ تمام وزیروں کی موجودگی یقینی ہوتی،اُن کی اس بات سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس تقریب نے خود کابینہ کے اندر کس قسم کی تقسیم کو جنم دیا ہے۔ ویسے تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پارلیمانی نظام میں حکومت سے مراد کابینہ ہوتی ہے اور اُس کی مجموعی کارکردگی ہی کو حکومت کی کارکردگی شمار کیا جاتا ہے۔اگر پچاس سے زائد وزارتوں میں سے صرف دس کی کارکردگی ایسی رہی کہ انہیں ایوارڈز دیئے جا سکیں تو اس کا مطلب ہے مجموعی طور پر اچھی کارکردگی دکھانے میں ناکامی رہی، اپوزیشن نے وزیراعظم کے اس فیصلے پر سخت تنقید کی ہے، اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے جس حکومت کی  سرے سے کوئی کارکردگی ہی نہیں اور جس نے ہر شعبے میں ناکامیاں سمیٹی ہیں، اُس کے وزیروں کو ایوارڈ دینا مضحکہ خیز ہے۔ایوارڈ یافتگان میں سے مشیران کرام اور معاون خصوصی مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف کو ایوارڈ دیا گیا ہے، جبکہ وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ جو قومی سلامتی کی براہِ راست ذمہ دارہوتی ہیں، ایوارڈز سے محروم رہی ہیں۔وزیراعظم آفس سے جاری ایک ٹویٹر پیغام میں کہا گیا ہے یہ اعزازات وفاقی وزارتوں کے ساتھ کئے گئے ”کارکردگی کے معاہدے“ کی بنیاد پر تقسیم کئے گئے ہیں،جس میں اُن کے لیے خاص اہداف مقرر کئے گئے تھے، پیغام میں مزید کہا گیا کہ یہ معاہدہ کارکردگی میں بہتری لانے،مقررہ ہدف حاصل کرنے،عوامی مسائل کو حل کرنے میں سبقت لے جانے، موثر اور باعمل پالیسی بنانے اور گڈگورننس کو عملی جامہ پہنانے سے متعلق ہے،جس کے تحت ڈیٹا مرتب کر کے کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور ایوارڈز کے لیے نامزدگیاں کی گئیں۔سیاسی مبصرین اِس بات پر حیران ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کو اپنے اقتدار کے چوتھے سال میں یہ کارکردگی ایوارڈ دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی،دوسرے لفظوں میں کیا یہ ایک درست فیصلہ ہے،جو ایسے موقع پر کیا گیا جب حکومت کے خلاف اپوزیشن ایک تحریک منظم کر رہی ہے اور عدم اعتماد لانے کی تیاریوں میں بھی مصروف ہے،اس موقع پر تو حکومتی صفوں میں اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے،چہ جائیکہ اسے تقسیم کر دیا جائے۔ وفاقی وزراء نے دبے اور کھلے لفظوں میں اس تقریب پر اپنے جس ردعمل کا اظہار کیاہے،وہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ خوش نہیں ہیں،کابینہ کی اکثریت اگر ستائش سے محروم رہے گی تو ردعمل بھی ہو گا۔یہ بھی کہا جائے گا کہ صرف دس وزارتیں اچھا کام کررہی ہیں تو باقی کیا حکومت اور خزانے پر بوجھ بنی ہوئی ہیں تاہم لگتا ہے وزیراعظم عمران خان کو اس قسم کے ردعمل کی زیادہ پروا نہیں،وہ جو اُن کے من میں آتا ہے، کرگذرتے ہیں، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کارکردگی دکھانے والی وزارتوں کو مراعات بھی دی جائیں گی،ان مراعات کے ذریعے ہی بتدریج تبدیلی لائی جائے گی،انہوں نے کہا جب میں حکومت میں آیا تو میرا خیال تھا فوری تبدیلی لانا ممکن ہے،اس لیے انقلابی تصورات پیش کئے تھے،مگر وقت گزرنے پر احساس ہوا ہمارے نظام میں اچانک تبدیلی لانے کی گنجائش ہے اور نہ برداشت کرنے کی صلاحیت،اس لیے بتدریج تبدیلی کا راستہ اختیار کیا گیا، انہوں نے کہا وزارتوں کو لوگوں کی زندگی میں تبدیلی لانے کے لئے کام کرنا چاہیے، اُن کی کارکردگی جانچنے کا پیمانہ یہی ہونا چاہئے کہ انہوں نے عوام کی زندگیاں آسان بنانے میں کتنا کردار ادا کیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کی مجموعی کارکردگی ٹیم ورک کا نتیجہ ہے،عمران خان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک مسلمہ ٹیم لیڈر ہیں، تاہم یہ سوال شروع دن سے اٹھتے رہے ہیں کہ انہوں نے اپنی ٹیم کا انتخاب کارکردگی کی بنیاد پر کیا ہے یا نظریہئ ضرورت کے تحت۔ ماضی میں ہم نے یہ بھی دیکھا کہ کئی وفاقی وزراء نے من مانی بھی کی اور یہ تک کہا کہ اُن کی وزارت میں مداخلت کی گئی،تو وہ مستعفی ہوجائیں گے، اتنی بڑی کابینہ بنانے کے پیچھے کمزوری بھی یہی ہے کہ حکومت کے پاس سادہ اکثریت بھی اتحادیوں کی مدد کے بغیر موجود نہیں،بعض وزارتیں  نظریہئ ضرورت کے تحت دی گئیں اور یہ کوئی ڈھکی ڈچھپی بات نہیں۔وزیر کھپانے کے لیے ایک ایک وزارت کو کئی حصوں میں بھی تقسیم کیا گیا،یہ سب سامنے کی حقیقتیں ہیں،اس تناظر میں وزیراعظم عمران خان کا وزارتوں کو کارکردگی ایوارڈ دینا اس حوالے سے جرأت مندانہ عمل قرار پائے گا کہ انہوں نے ناراضگی کے خطرے کو اہمیت دیئے بغیر اپنی کابینہ کو یہ پیغام دیا ہے کہ جو اچھی کارکردگی دکھائے گا اُسے سراہا جائے گا اور بری کارکردگی والوں سے باز پرس کی جائے گی۔کابینہ کو جزا و سزا کا پیغام دے کر وزیراعظم نے جہاں ایک نئی روایت ڈالی ہے وہاں اس بات کو بھی ثابت کیا ہے کہ وہ اپوزیشن کی وجہ سے کسی عدم تحفظ کا شکار نہیں،وہ اس تقریب کو موخر بھی کر سکتے تھے،مگر انہوں نے جو سوچا وہ کرگذرے، اب جو ہو سو ہو۔

مزید :

رائے -اداریہ -