عدم اعتماد ممکن ہے؟

 عدم اعتماد ممکن ہے؟
 عدم اعتماد ممکن ہے؟

  

ہمارے پیارے دوست رانا اکرام ربانی ان دنوں پیپلزپارٹی کی اس سہ رکنی کمیٹی کے رکن ہیں جو بلدیاتی انتخابات کے لئے جائزہ لے کر مناسب امیدواروں کی تلاش بھی کرے گی۔ یہ کمیٹی خاموشی سے اپنا کام کر رہی ہے، رانا اکرام ربانی جو پرانے جیالے ہیں۔ صوبائی وزیر رہے اور پھر ایک دور میں منی اپوزیشن کے سربراہ بھی تھے اور یہ وقت انہوں نے بڑی استقامت اور ہمت سے گزارا کہ یہ منی اپوزیشن ایوان میں اچھی بحث کرتی تھی، حتیٰ کہ بجٹ کے مواقع پر حزب اقتدار کو کٹوتی کی تحریکوں کے حوالے سے سخت مزاحمت کا سامنا ہوتا تھا کہ خود قائد حزب اختلاف تیار ہو کر آتے تو درجن بھر اراکین بھی بہترین بحث کرتے تھے۔ اکثر حزب اقتدار کو جمہوری انداز اپنا کر حزب اختلاف سے معاملات طے کرنا پڑتے کہ بجٹ کی منظوری کے مراحل ایسے تھے، جب اچھی تیاری کے ساتھ حزب اقتدار کو معقول مزاحمت کا سامنا ہوتا تھا۔ رانا تجربہ کار ہیں، دنیا گھومے اور پھرے ہوئے ہیں اور مطالعہ بھی کرتے ہیں۔ قارئین! یہ سب بلاوجہ یا بے جا تعریف نہیں، بلکہ صرف یہ گوش گزار کرنا ہے کہ اگر طرز عمل جمہوری اور حکومتی بزنس بھی چلانا ہو تو پھر ایوان کی حد تک لازماً مذاکرات اور افہام و تفہیم ہوتی ہے۔ لکھنے اور بات کرنے والے 90 والی دہائی کی بات دہراتے ہیں جو اس لحاظ سے بالکل درست ہے کہ محاذ آرائی  واقعی شدید تھی لیکن ایوان کا کاروبار قواعد کے مطابق ہی چلتا تھا، حزب اختلاف کے حجم سے بھی فرق نہیں پڑتا تھا۔

چند روز قبل ہی رانا اکرام ربانی سے بات ہوئی تو ہم وہ دن یاد کرتے رہے۔ جب وہ قائد حزب اختلاف تھے کہ وزارت کا دور تو کام اور حکمت عملی کے حوالے سے زیر نظر آ ہی چکا ہوتا ہے۔ مجھے اس کے علاوہ علامہ رحمت اللہ ارشد اور سید تابش الوری اور پھر مخدوم زادہ حسن محمود والی حزب اختلاف بھی یاد آتی ہے۔ ان تینوں ادوار میں حزب اختلاف حجم کے لحاظ سے چھوٹی، لیکن کارکردگی کی بنا پر بہت بڑی تھیں۔ رانا اکرام ربانی بجٹ کے موقع پر زیادہ سے زیادہ وقت لیتے، جبکہ مخدوم زادہ سید حسن محمود  تو سپیکر کے ٹوکنے پر بپھر جاتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ میاں منظور وٹو سپیکر تھے۔ قائد حزب اختلاف مخدوم زادہ حسن محمود نے ایک نکتہ اعتراض پر تھوڑا زیادہ وقت لیا تو سپیکر نے ان کو ٹوکا، مخدوم زادہ نے اپنا مقدمہ دوسرے انداز سے پیش کیا اور موقف اختیار کیا کہ جب تک وہ نفس بحث یا نکات کے دائرہ کار سے باہر نہ جائیں ان کو روکا نہیں جا سکتا۔ ان کا موقف تھا، نکتہ اعتراض پر اگر وہ (مقرر) Releventہیں تو ان کو بات ختم کرنے کے لئے نہیں کہا جا سکتا، جب سپیکر نے دلائل لانے کو کہا تو بات اگلے روز پر چلی گئی۔ اگلے روز قائد حزب اختلاف حسن محمود کتابوں کا ڈھیر اٹھا کر ایوان میں آئے اور انہوں نے متعلقہ اور غیر متعلقہ کے حوالے سے ساڑھے تین دن تک بحث کی اور اپنا موقف باقاعدہ ریکارڈ اور رولنگز سے ثابت کیا تھا۔ آج دکھ ہوتا ہے جب ایوانوں میں یا تو شور و ہنگامہ ہوتا ہے یا پھر الزام تراشی ہوتی رہتی ہے۔ ایجنڈے میں شامل معاملات پر کوئی بحث نہیں ہوتی، حالانکہ ایوان اور ایوان کی کمیٹیوں کا مقصد یہ ہے کہ ہر معاملہ چھلنی سے چھان پھٹک کر منظور ہو کہ عوامی بہبود کا سوال ہوتا ہے۔

بات کہاں سے شروع کی اور یادوں کے دریچے ہی کھل گئے، بہرحال رانا صاحب سے پوچھا کہ کیا ہو رہا ہے تو انہوں نے کہا آصف علی زرداری نے حزب اختلاف والی دوسری جماعتوں خصوصاً مسلم لیگ (ن) کو قائل کر ہی لیا ہے کہ عدم اعتماد بھی ایک حکمت عملی اور راستہ ہے اس کے علاوہ انہوں نے خود چودھری شجاعت اور چودھری پرویز الٰہی کی رہائش گاہ پر جا کر یہ ثابت کیا کہ سیاست میں دروازے بند نہیں ہوتے کھلے رکھنا پڑتے ہیں اور جمہوری انداز بھی یہی ہے کہ آپ اپنے دلائل سے دوسروں کو قائل کریں اور یہی بہتر حکمت عملی ہے۔

اس گفتگو کے دوران مجھے وہ دور یاد آ گیا جب 1988ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو وزیراعظم بنیں تو یہ محاذ آرائی کا دور ثابت ہوا اور ان کے خلاف عدم اعتماد بھی لائی گئی۔ اس حوالے سے عرض کر دوں کہ 1988والے انتخابات کے بعد پیپلزپارٹی ایوان میں سنگل لارجسٹ پارٹی کے طور پر سامنے آئی اور مسلم لیگ (ن) کے پاس بھی اراکین کی تعداد کم نہیں تھی، تاہم جسے بھی حکومت بنانا تھی، اس کے لئے بیساکھیوں کی ضرورت لازم تھی۔ کئی روز یہ کشمکش بھی جاری رہی اور آخر کار محترمہ بے نظیر بھٹو کو سابق صدر اسحاق خان کو قبول کرنے کے علاوہ دو مزید وزرا بھی کابینہ میں لینا پڑے۔ یہ ایک الگ داستان ہے کہ تب نوابزادہ نصراللہ (مرحوم) سے صدارتی امیدوار والا وعدہ تھا اور مولانا فضل الرحمن بھی ان کے لئے سرگرم عمل تھے۔ میں اس دور کے واقعات کا عینی شاہد ہوں کہ اسلام آباد میں تھا، اتار چڑھاؤ دیکھتا رہا اور پھر یہ بھی دیکھا کہ نوابزادہ نصراللہ سے وعدہ وفا نہ ہو سکا (یہ الگ داستان ہے)۔

آج تو عدم اعتماد کی بات چل رہی ہے۔ اس لئے اسی کا ذکر ہو تو بہتر ہے۔ ان دنوں آصف علی زرداری نے (بقول رانا) حزب اختلاف کو عدم اعتماد کے لئے قائل کر لیا ہے تو 1988ء والے دور میں ان کا ہدف اس عدم اعتماد کو ناکام بنانا تھا جو محترمہ کے خلاف آنا تھی۔ یہ بھی سیاسی تاریخ کا حصہ ہے کہ تب لاہور چھانگا مانگا اور مری کے ریسٹ ہاؤس آباد ہوئے اور ہیلی کاپٹروں سے اراکین قومی اسمبلی کو سوات بھی پہنچایا گیا تب جہانگیر بدر معتمد تھے اور ان کے ذمہ مہمان نوازی تھی جس کا حق بھی ادا کیا گیا اب ذرا اسی دور کا قصہ سن لیں کہ میں اپنے کزن اور بہنوئی میاں مشتاق احمد کے ساتھ اسلام آباد میں تھا اور میاں مشتاق کے دوست سوبھی کے فلیٹ (ایف 10) میں تھا۔ یہیں سے آمد و رفت ہوتی تھی۔ یہ دور عدم اعتماد کی ہلچل کا اور میں اس کا نظارہ کرتا تھا۔ ایک روز ابھی ہم فلیٹ میں تھے کہ سوبھی کے ایک دوست قبائلی نوجوان آئے اور انہوں نے تنہائی میں کچھ بات چیت کی۔ بعدازاں سوبھی نے مجھے اعتماد میں لیا اور بتایا کہ فاٹا سے پانچ اراکین ہیں، یہ نوجوان ایک رکن جو پیر ہیں کے صاحبزادے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ہم اگرچہ محترمہ سے خفا ہیں، تاہم ووٹ دینا چاہتے ہیں، بشرطیکہ ہمارے مطالبات مان لئے جائیں اور اس مقصد کے لئے یہ صرف جہانگیر بدر پر اعتماد کرتے ہیں، سوبھی نے مجھے کہا کہ بدر آپ کے بھائی ہیں، آپ یہ مسئلہ حل کرائیں، اتفاق یہ کہ تب سوبھی اور مشتاق دونوں ہی پیپلزپارٹی کے حامی تھے۔ بہرحال متعلقہ حضرات کے مطالبات میں نے ٹائپ رائٹر پر ٹائپ کئے۔ پہلا مطالبہ پے جارو کی واپسی جو ان سے لے لی گئیں اور تھانہ کوہسار میں کھڑی تھیں۔ باقی مطالبات میں بعض تبادلے اور کیش شامل تھا۔ ہم فلیٹ سے نیچے اترے تو وہاں زیرو نمبر نئی پے جارو موجود تھی۔ صاحبزادہ نے بتایا کہ یہ پنجاب حکومت نے دی، اس اثناء میں ان کے ایک ساتھی کا لاہور سے فون آیا جس نے بتایا کہ وہ سی ایم ہاؤس میں ہے وہ ان سے شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی مانگ رہا تھا تاکہ پلاٹ الاٹ کئے جا سکیں۔ بہرحال اختتام یہ ہے کہ نوجوان کے والد جو خود رکن قومی اسمبلی اور پیر تھے۔ جہانگیر بدر کے توسط سے آصف علی زرداری سے ملے اور معاملات طے پا گئے پھر پانچ میں سے چار اراکین نے ایک تقریب میں محترمہ کی حمائت کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔

عرض کا مقصد یہ ہے کہ عدم اعتماد اب بھی ایسا ہی ماحول لے کر آئے گی ہارس ٹریڈنگ یقیناً ہوگی ناراضیاں دور کی جائیں گی اگر کسی کو شک ہے تو وہ وزیر مملکت اطلاعات فرخ حبیب اور مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ کی گفتگو پر توجہ دے۔ فرخ حبیب نے اپوزیشن کے 25سے 30اراکین کی وفاداری حزب اقتدار سے ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ رانا ثناء اللہ نے محمد شہباز شریف کو تحریک انصاف کے ناراض اراکین کی فہرست دی ہے اور آصف علی زرداری نے تو صرف ملاقاتیں کیں۔ اہم خبر جہانگیر ترین گروپ کے رابطوں کی ہے، خود شاہ محمود قریشی نے تسلیم کیا کہ جہاز کا رخ موڑ لیا گیا ہے۔ یہ صورت حال مزید خلفشار اور محاذ آرائی کا سبب ہی بنے گی۔ میں اس کے لئے فریقین کو ذمہ دار مانتا ہوں لیکن زیادہ بڑی ذمہ داری حزب اقتدار پر عائد ہوتی ہے۔ کپتان کے سخت رویے نے یہ دن دکھا ہی دیا۔ اب تو کارکردگی کے معاملے پر وزیر بھی دکھ کا اظہار کر رہے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -