پوتے کو سرکاری نوکری کیلئے اہل قرار دینے کا 46 برس پرانا معاملہ نمٹادیا

پوتے کو سرکاری نوکری کیلئے اہل قرار دینے کا 46 برس پرانا معاملہ نمٹادیا

  

 لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ نے دادا کی وفات کے بعد پوتے کو سرکاری نوکری کیلئے اہل قرار دینے کا 46 برس پرانا معاملہ نمٹا دیا جسٹس محمد شان گل نے متعلقہ اتھارٹی کو درخواست گزار کا موقف سن کر 30روز میں فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا جسٹس محمد شان گل نے محمد عدیل کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کردیا جس میں کہا گیاہے کہ عدالت نے ایسا بھی دیکھا کہ سرکاری ملازم کی وفات کے بعد بہو کو نوکری پر رکھا گیا، ایسی مثالیں بھی ہیں جہاں ایک سرکاری ملازم وفات پایا تو اس کے 2 بچوں کو بھی نوکریاں دی گئیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ فوت شدگان کی جگہ پر ملازمت کے اہل افراد کو مقرر وقت کے بعد بھی نوکری پر رکھا گیا، خاتون سرکاری ملازمہ کی وفات کے بعد اس کی بہن جو اہل بھی نہیں تھی اسکو بھی نوکری پر رکھا گیا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس درخواست گزار کا موقف سن کر  30 روز میں فیصلہ کریں، عدالتیں بہبود کی سوچ کے ساتھ قوانین کے مطابق فیصلے کرتی ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ درخواست گزار عدیل کے دادا بارڈر ملٹری پولیس کے سوار سردار خان کا ستمبر 1976 ء میں انتقال ہوا جس پر سردار خان کے بیٹے محمد ارشد نے والد کی جگہ نوکری کے لیے رجوع کیا تھا لیکن عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے والد ارشد کو نوکری پر نہیں رکھا گیا، محمد ارشد کے مارچ 2020 ء میں انتقال پر درخواست گزار عدیل نے نوکری کی درخواست دی تھی۔درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ باپ محمد ارشد کی وفات کے بعد درخواست گزار دادا کی جگہ پر سرکاری ملازمت کیلئے اہل ہے، درخواست گزار محمد عدیل کو بارڈر ملٹری پولیس میں بھرتی کرنے کا حکم دیا جائے۔

نمٹا دیا

مزید :

صفحہ آخر -