ڈیجیٹلائزیشن اور ٹیلی کام سیکٹر ڈویلپمنٹ

ڈیجیٹلائزیشن اور ٹیلی کام سیکٹر ڈویلپمنٹ
ڈیجیٹلائزیشن اور ٹیلی کام سیکٹر ڈویلپمنٹ

  

پاکستان میں نیشنل سیونگ مالیاتی خدمات فراہم کرنے والا سب سے بڑا سرکاری ادارہ ہے، جو عوام کے علاوہ ریٹائرڈ سرکاری و غیر سرکاری افراد بیوگان اور معذور شہریوں کو مالیاتی خدمات فراہم کرتا ہے،ملکی مالیاتی ادارے بشمول بینک وغیرہ مجموعی طور پر جس قدر خدمات فراہم کرتے ہیں اس کا22فیصد اکیلا نیشنل سیونگ فراہم کرتاہے اِس وقت اس ادارے کے پاس چار ہزار ارب روپے کی بچتیں موجود ہیں،اس کے مجموعی صارفین کا44فیصد خواتین پر مشتمل ہے،جبکہ دیگر مالیاتی اداروں میں یہ شرح10فیصد یا اس سے ذرا کم ہے۔اس ادارے نے حال ہی میں اپنے صارفین کی آسانی کے لئے ڈیجیٹائزڈ خدمات کا آغاز کر دیا ہے اب صارفین کو سینٹر آنے کی ضرورت نہیں ہو گی،بلکہ وہ اے ٹی ایم کارڈ کے ذریعے ہی لین دین کر سکیں گے،اس طرح نیشنل سیونگ سے وابستہ 30لاکھ صارفین اس سروس سے استفادہ کر سکیں گے۔

پی ٹی آئی نے ماڈرن ٹیکنالوجی کے ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے نوجوانوں کی تنظیم سازی اور ذہن سازی کے ذریعے سیاسی جدوجہد کی اور پھر سیاسی منظر پر چھا گئی۔سوشل میڈیا کا استعمال ہو یا  ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے آلات و ذرائع پی ٹی آئی نے ان کا بھرپور طریقے سے استعمال کیا۔اپنے پیغام کو یوتھ تک پہنچانے کا یہ طریقہ اس سے پہلے کسی اور سیاسی جماعت نے نہیں آزمایا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان کے جلسوں میں ماڈرن ٹیکنالوجی کے استعمال کو دیکھ کرگہرا تاثر پیدا ہوتا تھا۔بہرحال عمران خان نے اقتدار میں آنے کے بعد جو اچھے اور تاریخ ساز کام کئے ہیں ان میں ڈیجیٹلائزیشن  ایک اہم،بلکہ انتہائی اہم کام ہے،جس کے ذریعے عوامی خدمت کے بہت سارے شعبوں کے علاوہ سرکاری امور کی انجام دہی کے معاملات میں بھی انقلابی تبدیلیاں پیدا ہو گئی ہیں۔

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے معاملات میں شفافیت اور فعالیت ہی ُپیدا نہیں کی،بلکہ سہولت بھی پیدا کر دی ہے، پاسپورٹ کا حصول ہو یا قومی شناختی کارڈ کے معاملات، برتھ سرٹیفکیٹ کا حصول ہو یا کسی  سرکاری محکمے سے معاملہ، ٹیکس، بل وغیرہ جمع کرانا ہو یا کچھ ایسے ہی دیگر معاملات،ان میں نہ صرف شفافیت پیدا ہو گئی ہے،بلکہ آسانی بھی ہو گئی ہے۔حکومت کی اس پالیسی نے عامتہ الناس کے لئے بہت ساری سہولتیں پیدا کر دی ہیں ایک وقت تھا کہ بجلی، گیس یا پانی کا بل ہویا بچوں کی سکول، کالج، یونیورسٹی میں فیس کی ادائیگی انتہائی مشکل اور ذہنی کوفت کا معاملہ ہوتا تھا۔ سرکاری خزانے میں رقوم جمع کرانے والے گھنٹوں لائنوں میں کھڑے رہتے تھے،دھوپ میں سڑتے بینکوں کے باہر کھڑے لوگوں بشمول خواتین و بوڑھے شہری کو دیکھ کر ترس  آتا تھا اب یہ معاملات گھنٹوں اور منٹوں سے گھٹ کر سیکنڈوں تک آ گئے ہیں۔آپ ون کلک کے ذریعے ایسی ادائیگیاں کر سکتے ہیں۔موجودہ حکومت کی یہ پالیسی یقینا قابل ِ ستائش ہے۔

ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے ٹیلی کمیونی کیشن، سیلولر کمیونی کیشن، انٹرنیٹ وغیرہ انتہائی اہم ہیں۔پاکستان میں اس شعبے کو انقلابی تبدیلیوں سے ہمکنارکرنے کے عمل کا آغاز جنرل مشرف کے دور میں،پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن تھارٹی(PTA) کے پرچم تلے ہوا۔اس دور میں جنرل مشرف کے انتہائی قریبی جنرل شہزادہ عالم ملک اتھارٹی کے سربراہ بنائے گئے تاکہ وہ معاملات کو لے کر آگے بڑھیں۔جنرل شہزادہ اس سے پہلے مسلح افواج کے لئے علیحدہ کمیونی کیشن سسٹم”SCO“ قائم کرنے کا کامیاب تجربہ کر چکے تھے۔ اسی لئے جنرل مشرف نے جنرل شہزادہ کو سویلین سیکٹر میں ٹیلی کمیونی کیشن کو جدید خطوط پر آگے بڑھانے کے لئے پی ٹی اے کا چیئرمین مقرر کیا۔انہوں نے اتھارٹی کو کسی وزارت کے  ماتحت رکھنے کی بجائے کیبنٹ ڈویژن کی زیر نگرانی کیا اور براہِ راست وزیراعظم کو جوابدہ ٹھہرے،اس طرح فیصلہ سازی کا عمل تیز ہوا۔ پہلی ٹیلی کام ڈی ریگولیشن پالیسی کے ذریعے سیلولر فون انڈسٹری کو انقلابی انداز میں آگے بڑھانے کا بندوبست کیا۔موبی لنک کے بعد یو فون،ٹیلی نار جیسی کمپنیاں اسی دور میں یہاں کاروباری شعبے میں قائم ہوئیں۔سیلولر فون کی گروتھ ہوئی۔ پی ٹی سی ایل کو سرکاری بنچوں سے نکالنے کا کام بھی اسی دور میں ہوا، لینڈ لائن کا حصول نہ صرف آسان بنایا گیا،بلکہ استعمال کے فروغ کے لیے قانون سازی کی گئی۔آج ہم دیکھتے ہیں کہ ٹیلی کام انڈسٹری یہاں خطے میں سب سے آگے ہے تو اس کا سہرہ اس کی بنیادیں رکھنے والے جنرل شہزادہ کو جاتا ہے،جس نے نئے انداز میں سیکٹر کو انقلابی تبدیلیوں سے ہمکنارکرنے کا آغاز کیا۔

ڈیجیٹلائزیشن آج اگر ترقی کر رہی ہے تو اس کی بنیادی وجہ پائیدار ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی موجودگی ہے، ہمارے ہاں ٹیلی کمیونی کیشن سیکٹر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ کھڑا ہے اور حکومت کی پالیسی کو نافذ العمل کرنے کی مضبوط بنیادیں رکھتا ہے۔ہم خطے میں اس حوالے سے قائدانہ پوزیشن میں کھڑے ہیں۔

حکومت رواں سال کے آخر یا اگلے سال کے شروع میں 5-G ٹیکنالوجی کے لائسنس جاری کرنے کی منصوبہ سازی کر رہی ہے تاکہ نہ صرف ٹیلی کام سیکٹر،بلکہ ڈیجیٹلائزیشن  کا عمل افقی اور عمودی سمت میں نہ صرف نشوونما پاتا رہے،بلکہ دورِ جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو جائے،اس طرح پاکستان ماڈرن دنیا کے ساتھ، قدم بقدم چلنے کے قابل ہو جائے گا۔وزیراعظم نے اگلے مالی سال کے لئے ٹیکس وصولیوں کے ہدف کو7ہزار ارب روپے سے اوپر لے جانے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ہم نے اسے8ہزار ارب روپے تک لے جانے کا وعدہ کیا تھا جسے پورا کریں گے۔ان کا یہ کہنا نعرہ نہیں ایک حقیقت بننے جا رہا ہے اس میں ڈیجیٹلائزیشن  کا انتہائی اہم کردار ہے،ٹیکنالوجی کے استعمال سے ایک طرف عوام کو ادائیگیوں میں سہولت ملتی ہے اور بے ایمانی کے امکانات کم سے کم ہوتے چلے جاتے ہیں،تو دوسری طرف وصولیوں کا حجم بھی بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

پاکستان کے سرمائے کی منڈی(کیپیٹل مارکیٹ) میں سٹاک ایکسچینج ایک مرکزی اہمیت کا حامل ہے، ایک وقت تھا کہ یہاں چند ملین شیئرز کا کام ہوتا تھا لین دین کروڑوں میں اور نفع نقصان لاکھوں میں دیکھا اور سنا جاتا تھا۔ ٹیلی کمیونی کیشن ذرائع کے فروغ اور ڈیجیٹلائزیشن  کے باعث اب حصص کا لین دین روزانہ کی بنیادوں پر کروڑوں میں ہوتا ہے۔اربوں روپے کا کاروبار اور کروڑوں میں نفع نقصان رجسٹرڈ کیا جاتا ہے، پہلے سینکڑوں ہزاروں لوگ اس مارکیٹ سے وابستہ تھے اب لاکھوں افراد کا رزق روزگار اس مارکیٹ سے وابستہ ہو چکا ہے۔حکومت کو کروڑں اربوں روپے کی وصولیاں بھی ہو رہی ہیں۔یہ سب کچھ ڈیجیٹلائزیشن کے ثمرات ہیں جیسے ہماری موجودہ حکومت بھی ایک پالیسی کے طور پر لے کر آگے بڑھ رہی ہے۔5-G لائسنسوں کا اجراء اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔

5-G ٹیکنالوجی کے ذریعے صارفین کو بہتر رابطہ اور تیز سپیڈ کی سہولت میسر ہوجائے گی،لیکن حکومت کو موجودہ4-G کے حوالے سے بھی معاملات میں بہتری کی منصوبہ سازی کرنی چاہیے۔اس وقت 43 فیصد صارفین کو4-G ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہے جبکہ 45 فیصد صارفین براڈ بینڈ استعمال ہی نہیں کرتے۔15فیصد آبادی کو ٹیلی کام سروسز تک رسائی ہی حاصل نہیں ہے اس لئے ضرورت اِس امر کی ہے کہ 220ملین آبادی کو سامنے رکھتے ہوئے منصوبہ سازی کی جائے۔ٹیلی کام کمپنیوں کو اس بات پر مجبور کیا جائے کہ وہ اپنا انفراسٹرکچر پھیلائیں۔ کوریج بھڑھائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ سروسز سے استفادہ حاصل کر سکیں۔براڈ بینڈ کے استعمال کو فروغ دینے کے لئے منصوبہ سازی کی جائے صرف سپیڈ بڑھانے سے بات نہیں بنے گی۔

مزید :

رائے -کالم -