اشرافیہ کی مکاری، کب آئے گی عوام کی باری؟

 اشرافیہ کی مکاری، کب آئے گی عوام کی باری؟
 اشرافیہ کی مکاری، کب آئے گی عوام کی باری؟

  

لیجئے  جناب عوام کے نام پر سیاست سیاست کھیلنے کا دور پھر شروع ہو چکا ہے۔ کیا حکومت کیا اپوزیشن سب اس کھیل کا حصہ بن گئے ہیں۔ ایک طرف وزیراعظم عمران خان کی وہی پرانی گردان ہے لٹیروں کو نہیں چھوڑیں گے اور دوسری طرف اپوزیشن ہے جس کا فرمان ہے کہ حکمرانوں نے عوام کو زندہ درگور کر دیا ہے۔ آپ ملکی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ایک ایسا دائرہ نظر آئے گا جس میں ہماری سیاست مسلسل گھوم رہی ہے۔ کبھی آج کی اپوزیشن اس مقام پر ہوتی ہے جہاں حکومت ہے اور کبھی حکومت اپوزیشن کی جگہ پر کھڑی نظر آئی ہے۔ کبھی دایاں ہاتھ لٹیرا کہلاتا ہے اور کبھی بایاں ہاتھ لٹیرا بن جاتا ہے۔ سب کچھ عوام کے نام پر ہوتا ہے مگر عوام ہیں کہ ہر دور میں پستے چلے جاتے ہیں۔ اب چونکہ انتخابات کے آثار پیدا ہو رہے ہیں اس لئے ہر سیاسی جماعت اپنی اپنی ڈفلی لے کر میدان میں آ چکی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری ہوں یا شہبازشریف عوام کی بدحالی کا رونا رو رہے ہیں اور دوسری طرف حکمران ہیں جن کا کہنا ہے۔ یہ بدحالی ہماری نہیں انہی کی کرپشن کے باعث آئی ہے۔

میں نے تو پاکستانی سیاست کو بہت غور سے دیکھا ہے، عملاً اس میں حصہ بھی لیا ہے۔ میرا پینتالیس سال کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ پاکستان میں سیاست سے زیادہ بے اعتبار، بے حس اور بے مروت کام کوئی اور نہیں۔ کسی اور ملک میں 74برسوں سے سیاست کا یہی نظام چل رہا ہوتا تو وہاں کے عوام اسے چیر پھاڑ کر رکھ دیتے، جھوٹ پر جھوٹ جس نظام کا خاصا ہو، اس سے بہتری کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔ ایام جوانی میں بھٹو کے سحر نے اپنی لپیٹ میں لیا  تو اس کا بنیادی سبب بھی یہی تھا کہ اب غریبوں کو ان کا حق دلانے کی گھڑی آ گئی ہے۔ بے بس اور لاچار عوام میری طرح بھٹو کے گرویدہ ہوئے اور بڑھ چڑھ کر قائد عوام کو سر پر بٹھایا۔ پیپلزپارٹی کو جب وہ غریبوں کی پارٹی کہتے تھے تو غریب پھولے نہیں سماتے تھے۔ اس دور میں غریبوں کے لئے ایک آس اُمید تو ضرور پیدا ہوئی مگر عملاً کچھ بھی نہ ہوا، بھٹو بھی ریاستی مافیاز کے سامنے بے بس ہو گئے۔ وہ غریبوں کا نعرہ لگاتے اور کام سارے بالادست طبقوں کے کرتے تو شاید نشانِ عبرت بھی نہ بنتے،مگر انہیں اپنا بھرم بھی رکھنا تھا، سو ان کی یہ غلطی ناقابلِ معافی ٹھہری۔ خیر یہ تو بہت پرانی بات ہے آپ گزشتہ تین چار انتخابات اٹھا کر دیکھ لیں، سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم کی تفصیلات نکالیں، ان کے منشور پڑھیں، سب کے سب ایک ہی راگ الاپتی نظر آئیں گی کہ غریبوں کے حالات بدلیں گی، غربت ختم کریں گی، مافیاز سے غریب عوام کو نجات دلائیں گی وغیرہ وغیرہ،لیکن ہوا کچھ بھی نہیں۔

وہی نظامِ سرمایہ داری جاری رہا اور غریب پستے چلے گئے۔ آج تحریک انصاف کی حکومت مہنگائی اور غربت میں اضافے کی وجہ سے شدید تنقید کی زد میں ہے، مگر 2013ء کے انتخابت میں مسلم لیگ (ن) نے بھی اسی بنیاد پر انتخابات میں حصہ لیا تھا کہ وہ غربت میں کمی کرے گی۔ عوام کو جینے کا حق دے گی، لیکن اس کے دور میں بھی حالات جوں کے توں رہے، اس سے پہلے پیپلزپارٹی کی پانچ سال حکومت رہی، وہی جماعت جس نے ہر انتخاب غریبوں کے نام پر لڑا، غریبوں کے لئے کچھ نہ کر سکی۔ جب بھی الیکشن آتے ہیں، ہر جماعت غریبوں کے حق میں انقلابی تبدیلیوں کا نعرہ لگا کر میدان میں کود پڑتی ہے، مگر اس غبارے سے انتخابات کے بعد ہوا نکل جاتی ہے۔ ساری انقلابی باتیں، سارے انقلابی منشور دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں، اگلے پانچ برسوں تک عوام کے نصیب میں جلنا اور کڑھنا ہی رہ جاتا ہے۔ ہر حکومت کو گھڑے گھڑائے بہانے مل جاتے ہیں۔ مثلاً مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنی بُری کارکردگی کا جواز یہ پیش کیا کہ تحریک انصاف کے دھرنوں کی وجہ سے معیشت کو بہت نقصان پہنچا۔ ارے بھائی کیسے نقصان پہنچا۔ آپ نے تو اورنج ٹرین جیسے مہنگے ترین منصوبوں پر پیسہ لگا دیا، غریبوں کے لئے ایسی کون سی پالیسی بنائی تھی، جس پر دھرنوں کی وجہ سے عمل نہیں ہو سکا تھا؟

موجودہ حکومت بھٹو کے بعد واحد حکومت تھی جس نے مساوات کا نعرہ بھی لگایا اور غریبوں کی حالت بدلنے کو اپنے منشور کا حصہ بھی قرار دیا۔ عمران خان اپنی انتخابی مہم میں کیسی کیسی سنہری باتیں کرتے تھے۔کہتے تھے وہ معاشرہ کبھی اوپر نہیں اٹھ سکتا جس میں ایک طرف چھوٹا سا طبقہ خوشحال ہو اور دوسری طرف ملک کے کروڑوں عوام غربت کی زندگی گزار رہے ہوں۔ ہم اس نظام کو تبدیل کریں گے اور سب کو غربت سے اوپر اٹھائیں گے اب آپ ہی فیصلہ کریں اس حکومت نے اپنے ساڑھے تین برسوں میں غربت ختم کی ہے یا غربت میں اضافہ کر دیا ہے۔ ہر طرف ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔ اچھے بھلے سفید پوش بھی دہائی دے رہے ہیں، انہیں مشکلات کا سامنا ہے، مہنگائی نے ان کے بھی کس بل نکال دیئے ہیں، غریبوں کی تو بات ہی بہت پیچھے رہ گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آج بھی عمران خان سمیت تمام حکومتی شخصیات نام غریبوں کا ہی لیتی ہیں، انہی کی مالا جپتی ہیں، حالانکہ ان کا کوئی ایک عمل بھی ایسا نہیں جو پچھلے تین برسوں میں عوام کے لئے کوئی خیر کی خبر لایا ہو۔ ہر نیا دن ان کی مشکلات میں اضافہ ہی کرتا ہے۔

ارسطو سے لے کر ہر دانشور کی آج تک رائے یہی ہے کوئی جمہوریت معیشت کی مضبوطی کے بغیر مستحکم نہیں ہو سکتی۔ یہاں گنگا الٹی بہتی رہی ہے، آمروں کے دور میں انہیں معاشی ریلیف ملا اور جمہوری ادوار میں تو ان کے منہ سے آخری نوالہ تک چھیننے کی کوشش کی گئی، جس ملک میں اُجرت ایشیا کے تمام ممالک سے کم ہو اور اس میں آپ بجلی، پٹرول اور گیس سب سے مہنگی دیں گے تو غربت کیسے ختم ہو گی۔ موجودہ تین سالہ دورِ حکومت میں جہاں قرضوں کا بے تحاشا بوجھ بڑھ گیا ہے، وہاں ٹیکسوں میں بھی بے بہا اضافہ ہوا ہے۔ وزیراعظم عمران خان قوم کو مبارکباد دے رہے ہیں کہ ایف بی آر نے ریکارڈ ٹیکس اکٹھے کئے ہیں، یعنی وہی قتل بھی کرے ہے وہی لے ثواب اُلٹا۰ جب آپ نے ٹیکس بڑھائے ہیں تو ٹیکس زیادہ ہی اکٹھا ہوگا، مگر دیکھنا یہ ہے خزانہ کس قیمت پر بھرا جا رہا ہے، اگر باقی سارے شاہانہ اخراجات جاری ہیں، کابینہ کے حجم میں کوئی کمی نہیں آئی، اربوں روپے مالِ غنیمت سمجھ کر لٹائے جا رہے ہیں تو پھر ٹیکس چاہے آسمان کو چھولیں، عام آدمی کو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یہ کیسے ریکارڈ ٹیکس اکٹھے ہوتے ہیں کہ جن سے آئی ایم ایف کے دباؤ میں کوئی کمی آ رہی ہے اور نہ غربت کم ہو رہی ہے۔ کسی نے کیا چونکا دینے والی بات کی ہے۔

سیاسی اشرافیہ نے مہنگائی میں کمی لانے کے لئے کوئی تحریک اس لئے نہیں چلائی کہ مہنگائی سے فائدہ اٹھانے والے سبھی لوگ سیاست ہی میں تو موجود ہیں۔ وہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی کیوں ماریں گے۔ ہاں ہلکی پھلکی موسیقی چلتی رہے گی، جیسے اپوزیشن گزشتہ ساڑھے تین برسوں سے چلا رہی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ وقت گزرتا رہے اور عوام کی نظروں میں خود کو سرخرو رکھا جائے، تاکہ وہ یہ نہ کہیں اب الیکشنوں کے دنوں میں کہاں سے نمودار ہو گئے ہو۔ اب عدم اعتماد کی تحریک لانیکی باتیں ہو رہی ہیں۔ کیا حکومت اگر اس کے نتیجے میں چلی گئی تو ملک میں دودھ کی نہریں بہنے لگیں گی؟ پھر یہ سیاپا شروع ہو جائے گا دیکھا ہم نا کہتے تھے عمران خان نے معیشت تباہ کر دی ہے، اب اسے سنبھلنے میں وقت لگے گا، اس لئے عوام انتظار کریں۔ اس ملک میں عوام کا نصیب صرف انتظار کرنا ہی ہے،74برسوں سے وہ اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں، مگر اشرافیہ ہے کہ ان کی باری آنے نہیں دیتی، کیونکہ اگر ایک بار عوام کی باری آ گئی تو اشرافیہ کے سب کھیل تماشے بے نقاب ہو جائیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -