ننھے منے دوستوں کو نیا سال مبارک

ننھے منے دوستوں کو نیا سال مبارک

  

2021   ء کا سورج دلخراش واقعات سمیٹے غروب ہوگیا،جبکہ 2022ء کا سورج طلوع ہو چکا ہے۔ قوم کے بچے بڑے اورہر محب وطن دْعاگو ہے کہ 2022 ء کا سال بالخصوص ملک و قوم کے لئے نوید لے کر آئے۔کل کی بات لگتی ہے کہ سال2021ء کا سورج طلوع ہوا تھا۔ایک برس بیت گیااورایک سال کا پتہ نہ چلا۔اب نئے سال کا سورج طلوع ہوچکا ہے لیکن یہ بات حقیقت کے برعکس ہے کہ وقت کی رفتارتیز ہو گئی ہے،رفتار وہی ہے،سورج وہی،دن رات چاند ستارے وہی،موسم بھی وہی۔وقت اْسی رفتار سے چل رہا ہے حتیٰ موسم بھی اپنے وقت پرآتے اوراختتام پذیر ہوتے ہیں۔ اسی رفتار سے ماہ و سال گزر جاتے ہیں۔دراصل ہم غیر ضروری کاموں میں اس قدر اْلجھ کر رہ گئے ہیں کہ ارد گرد کا ہوش نہیں۔اگرکسی کام کے سلسلہ میں گھر سے باہرجانا پڑ جائے تومنٹوں نہیں گھنٹوں صرف ہو جاتے ہیں۔ٹریفک کی بد نظمی اور دھکم پیل کا یہ عالم ہے کہ ہرکوئی جلدازجلد اپنی منزل تک پہنچنا چاہتا ہے اور چند منٹ کی تاخیرگوارا نہیں کرتا۔ ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھے ہیں تو اس میں اس قدرکھو جاتے ہیں کہ وقت کا احساس تک نہیں ہوتا۔ یہی حال انٹرنیٹ کا ہے کہ بچے بڑے بالخصوص نوجوان طبقہ اس میں ہر وقت مگن نظر آتا ہے اورجب سے سمارٹ فون آئے ہیں تو اس نے بالکل عزیزواقارب اوررشتہ داری سے الگ کر دیا ہے۔آپ کہیں بھی جائیں یا کوئی مہمان آپ کے ہاں آئے اللہ کرے کہ اس کے ہاتھ میں سمارٹ فون نہ ہو تاکہ گفت وشنید کا موقع مل سکے اور اگر ہاتھ میں سمارٹ فون ہوا تو مہمان کی عدم توجہ بہت بور کرے گی۔بے شک گفتگو جاری رہے گی لیکن توجہ فون پر ہی مرکوز رہے گی۔ نت نئی ایجادات نے انسان کو یکسر بدل دیا ہے۔ ماضی میں تفریح کے طور پر رشتہ داروں کے ہاں آنے جانے کے اکثر پروگرام بن جاتے تھے اور اسی بہانے ملاقات بھی ہو جاتی تھی لیکن جدید دور میں بات صرف ہیلو ہائے تک محدود ہو گئی ہے۔ میسجوں کا سلسلہ ایسا چل نکلا ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لیتا۔

    اس بات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ گھروں میں بچے بچیاں سمارٹ فون سے چمٹے ہوتے ہیں۔والدین کی عدم توجہ بچوں میں بگاڑ پیدا کر سکتی ہے۔ یہ صرف ایک یا دو گھروں کی نہیں بلکہ تقریباً ہر گھر کی کہانی ہے۔ 2022ء اختتام پذیر ہوچکا ہے۔نظام ِقدرت ہے کہ وقت کی رفتار میں ایک لمحہ کی تاخیر یا جلدی نہیں ہو سکتی۔ سورج، چاند، ستارے، موسم اپنے وقت پر ہی آتے جاتے ہیں۔ماضی میں نئے سال کی خوشی میں دوست اور عزیز اقارب کو ہیپی نیوائر کے کارڈ تقسیم کئے جاتے تھے۔عید ین اور سالگرہ کے مواقع پر بھی کارڈ کا رواج عام تھا۔ اب ہم جدید دور میں داخل ہو چکے ہیں اور ایس ایم ایس کے ذریعے پیغام رسانی کاکام لیا جاتا ہے۔ ظاہری طورپر اس کام میں وقت کم لگنا چاہئے لیکن میسج کرتے وقت موبائل میں اس قدر گم ہوجا تے ہیں کہ وقت گزرنے کا احساس تک نہیں ہوتا۔جوں جوں وقت گزر رہا ہے ہرکام میں جدت اورتبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔تاخیر سے سونااور تاخیر سے جاگنا، بچوں کا غیر نصابی سر گرمیوں میں حصہ لینا، وقت کا ضیاع، غیر ضروری مشاغل میں دلچسپی لینا، معمول بن چکا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں رونما ضرور ہونی چاہئیں، لیکن اس بات کا بھی خاص خیال رکھنا چاہئے کہ بچوں پراس کے منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔گزرا وقت ہمیں بہت کچھ سکھاتا ہے۔ اگر غور کیا جائے اور گزرے وقت کا جائزہ لیا جائے، ان غلطیوں کو مدِنظر رکھا جائے جو گزرے وقت میں ہم سے سرزد ہوئیں۔ ایسی غلطیوں کو نہ کرنے کا عہد کیاجائے تو یقیناً ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاک وطن کے ننھے منے نونہال ایسی صلاحتیوں سے مالا مال ہیں جن کی مثال نہیں ملتی۔ بچوں کی پڑھائی میں غیر معمولی دلچسپی اس بات کی ضامن ہے کہ آنے والا کل یقیناً روشن ہوگا اور وہ دن دور نہیں جب پاکستان بھی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوگا۔پاکستان میں صلاحیتوں سے مالا مال بچوں کی کمی نہیں، جن کا اندازہ آپ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ ہر سال ننھے منے دوست ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کے لئے نئے ریکارڈ قائم کر رہے ہیں۔جبکہ ایسے بچے بھی ہیں جن کے پاس سہولتیں میسر نہیں۔اس کے باوجود انہوں نے اپنی ذہانت کا لوہا منوایا۔ ہونہار اورذہین بچے پیارے وطن پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل کر سکتے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کو چاہیے کہ رواں سال میں بچوں کی فلاح و بہود کے لئے عملی سطح پرکام کرنے کی کوشش کریں۔اصل بات تو وقت کا صحیح استعمال ہے۔ جو کوتاہیاں گزرے برس ہوئیں رواں سال ان کا ازالہ کرکے خود کو اچھا پاکستانی اوراچھا مسلمان بنانے کی کوشش کریں۔ نئے سال کی خوشیاں منانا آپ کا حق ہے مگراس کے ساتھ ساتھ گزرے ہوئے سال کے آئینہ میں اپنی کارکردگی کا جائزہ لینا بھی اشدضروری ہے،تاکہ گزشتہ برس جو ناکامیاں ہوئیں ان کے اسباب معلوم ہو سکیں۔آپ نے نئے سال کا آغاز کیسے اور کس طرح کیا؟ یہ آپ زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ ہیپی نیو ائر کے موقع پر ہلہ گلہ اور شور شرابہ نہیں۔ہر سال بعض بڑے بھی نئے سال کا استقبال اسی جوش و خروش سے کرتے ہیں۔ حالانکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ نئے سال کی آمد سے ہماری زندگی کے 365دن کم ہوجاتے ہیں۔ہم مسلمان ہیں اور ہمیں اپنی زندگی کے ہر لمحے کاجواب اللہ تعالیٰ کے حضور دینا ہے۔اگر ہم یہ ایمان رکھتے ہیں تو پھر شور شرابے اور ہنگامے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ نیاسال تو ہمیں اس بات کی خبر دیتاہے کہ زندگی میں مزید احتیاط برتی جائے اوراپنی کوتاہیوں سے توبہ کی جائے آئندہ زندگی کچھ اس طرح گزاری جائے کہ ہم سے کوئی بھی ایسی غلطی سرزد نہ ہوجس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو۔ مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں اپنے ایمان کی روشنی میں فیصلے کرنے چاہئیں اور کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہئے جو اللہ تعالیٰ کو نا پسند ہو۔

مزید :

ایڈیشن 1 -رائے -