ٹاپ ٹین رینکنگ میں وزارت  خارجہ کیوں شامل نہیں؟ شاہ محمودکا شہزاد ارباب کوخط،اظہارتشویش 

  ٹاپ ٹین رینکنگ میں وزارت  خارجہ کیوں شامل نہیں؟ شاہ محمودکا شہزاد ارباب ...

  

 اسلام آ باد،ٹیکسلا  (نیوزایجنسیاں)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وزارتوں کی کارکردگی جانچنے کے طریقہ کارپر سوالات اٹھا دیے۔ذرائع کے مطابق شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اسٹبلشمنٹ شہزاد ارباب کو خط لکھ کر وزارت خارجہ کو 11 واں نمبر دینے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ پرفارمنس ایگریمنٹ کی پہلی سہ ماہی میں وزارت خارجہ نے 26  میں سے 22 اہداف حاصل کیے اور دوسری سہ ماہی میں 24 میں سے 18 اہداف کامیابی سے حاصل کیے۔شاہ محمود نے خط میں کہا کہ وزارت خارجہ نے یقینی بنایا کہ ریویو پیریڈ کے دوران کوئی معاملہ زیرالتواء نہ رہے، اس دوران وزارت خارجہ نیاعلیٰ سطح کی سرگرمیاں بھی کیں، وزارت خارجہ کے کاموں پر کسی تشویش کا کوئی اظہار نہیں کیا گیا۔خط کے متن کے مطابق 30 فیصد کارکردگی جائزہ سے متعلق کوئی تحریری گائیڈ لائنز نہیں دی گئیں، وزارت خارجہ کی یہ گریڈنگ ریویوکمیٹی کے طریقہ کارپرسوالات اٹھاتی ہے۔دوسری جانب شاہ محمود قریشی نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو نا سمجھ قرار د یتے ہوئے کہا ہے کہ بلاول میں ابھی تھوڑا بچپنا بھی ہے، وقت کے ساتھ وہ سمجھ جائیں گے شاہ محمود قریشی  نے  بلاول بھٹو زرداری کے دورہ جنوبی پنجاب کے حوالے سے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو ناسمجھ ہیں اور ان میں ابھی تھوڑا بچپنا بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاول کے استاد نالائق ہیں، وقت کے ساتھ بلاول سمجھ جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ تنقید سے جنوبی پنجاب صوبہ نہیں بنیگا، شہباز شریف سے درخواست ہے کہ جنوبی پنجاب کے معاملے پر سنجیدگی سے غور کریں۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہمیں جنوبی پنجاب کے حقائق کو سامنے رکھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔علاوہ ازیں شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کسی کیمپ کا حصہ بنے بغیر تمام ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے،افغانستان میں جو تبدیلی آئی ہے وہ کچھ لوگوں کو ہضم نہیں ہورہی اور وہ چاہتے ہیں کہ افغانستان میں امن اور استحکام نہ ہوں،عالمی برادری افغانستان کی نئی حقیقت کو تسلیم کرے اور امن کے لئے طالبان سے مذاکرات کرے،افغان فنڈز کو منجمد کرنے کا فیصلہ کسی صورت درست نہیں اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے،عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ افغانستا ن کی معاشی تباہی روکنے کے لئے اقدامات کرے، پاکستان افغانستان میں حالات کی بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کر رہا ہے،9 ستمبر کو خوراک اور ادویات کے ساتھ ایک طیارہ بھیجا ہے،اور فضائی اور زمینی راستوں سے مزید انسانی امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے،ان خیالات کا اظہار انھوں نے زیلدار ہاوس ٹیکسلا میں نویں اورنج فیسٹول کی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا،انکا کہنا تھا کہ جبر دباو اور دھمکی کی پالیسی کام نہیں کرتی، خطے میں افغانستان کو الگ تھلگ کرنے کے انتہائی سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں،پاکستان کی خواہش ہے کہ افغانستان میں امن ہومعاشی ترقی ہو اور خوشحالی ہو، انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ ہمارے تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ ہم امریکہ کے ساتھ بھی اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ پاکستان اور روس کے تعلقات بھی ایک نئی سمت کی گواہی دے رہے ہیں۔وزیر خارجہ نے بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں  پر ظلم و جبر کے بڑھتے ہوئے واقعات پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت کی ہندوتوا ذہنیت علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے، بھارت کے اندر بھی لوگ اب مودی حکومت کی ناقص پالیسیوں اور انتہا پسندانہ ذہنیت کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔

شاہ محمود قریشی 

مزید :

صفحہ اول -